ہر چند گھنٹوں بعد قوم کو ایک نیا ’’تحفہ‘‘ ودیعت کیا جاتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں ایک نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے،صبح سورج نکلتاہےتوپتا چلتا ہے کہ پیٹرول پھر مہنگا ہو گیا۔ حکمران اسےقیمتوں میں ’’معمولی ردوبدل‘‘کہتے ہیں مگر وہ شخص جس نےموٹرسائیکل پر مزدوری کے لیےجانا ہو،جس نے رکشہ چلا کر بچوں کا پیٹ پالنا ہو، جس نے کھیت تک پانی پہنچانا ہو،اس کے لئے یہ معمولی رد و بدل نہیں بلکہ روزگار پر پڑنے والا ایک کاری وار ہے۔ یہ صرف پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا، یہ روٹی، دودھ، سبزی، دوا، ذرائع آمد رفت اور زندگی کی ہر ضرورت پر ایک نیاٹیکس ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ پیٹرول بم آخر کب تک عوام پر گرتارہےگا؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ہر بحران کی قیمت صرف عوام ہی سے کیوں وصول کی جاتی ہے۔ ریاست ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے۔ جب آمدنی کم ہو جائے تو سب سے پہلےفضول خرچی کم کی جاتی ہے۔ گھرکا سربراہ پہلے اپنی آسائشوں پر کی قربانی دیتا ہے،اپنی خواہشات کےسامنےصبر کی دیوار کھڑی کرتا ہے، پھر دوسروں سے قربانی مانگتاہےلیکن ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔ یہاں حکمرانوں کے پروٹوکول جوں کے توں رہتے ہیں، ایوانوں کی چکاچوند برقرار رہتی ہے، سرکاری گاڑیوں کےقافلےپورےجلو کے ساتھ رواں دواں رہتے ہیں، بیوروکریسی کےاخراجات میں کمی نہیں آتی، اعلیٰ مناصب والوں کی مراعات پر کوئی قدغن نہیں ہوتی مگر قربانی کامطالبہ ہمیشہ اس مزدور، استاد، کسان، دکاندار اور سفید پوش طبقے سےکیاجاتا ہے جس کے پاس قربان کرنےکےلئےاب کچھ بچا ہی نہیں۔آخر کیوں؟کیا کبھی سنجیدگی سےیہ سوال اٹھایا گیاکہ ایوانوں کےاخراجات میں کتنی بچت ممکن ہے؟
پارلیمنٹ کے ارکان کو حاصل بےشمار مراعات، مفت سفری سہولتیں، سرکاری رہائشیں، الائونسزاوردیگر آسائشیں کیا ناقابلِ گفتگو ہیں؟ کیا بیوروکریسی کی وسیع شاہانہ مشینری پر نظرثانی نہیں ہوسکتی؟ کیا اعلیٰ سرکاری عہدوں پر موجود افراد کی مراعات میں وقتی کمی قومی مفاد کےلیےممکن نہیں؟یہ سوال کسی ایک ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کےبارے میں ہے۔ جب قوم مشکل میں ہو تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ قربانی اوپر سے شروع ہو،نیچے سےنہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں برسوں سے ایک روایت قائم ہو چکی ہے۔ مالی بحران آئے تو پیٹرول مہنگا کردو۔ بجلی کاگردشی قرض بڑھے تو ٹیرف بڑھا دو۔ محصولات کم ہوں تونئےٹیکس لگادولیکن سرکاری اخراجات کی ساخت بدلنے، غیرضروری مراعات ختم کرنےاور ریاستی فضول خرچی کم کرنے پر سنجیدہ قومی اتفاق رائے خارج از امکان ہے۔پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی چلانے والامتاثر نہیں ہوتا۔ کھیت سے منڈی تک سبزی لانے کاخرچ بڑھتا ہے،فیکٹری کی پیداوار مہنگی ہوتی ہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے،سکول جانےوالے بچے کاکرایہ بڑھتا ہے،مریض کےلیے اسپتال جانا مشکل ہوتا ہے۔ گویا ایک لیٹر پیٹرول مہنگا نہیں ہوتا، پوری معیشت تہہ وبالا ہو جاتی ہے۔پھر حکمران حیران ہوتے ہیں کہ عوام میں بےچینی کیوں بڑھ رہی ہے۔عوام اس لیے ناراض نہیں کہ انہیں قربانی سے انکار ہے۔ پاکستانی قوم نے جنگیں بھی دیکھی ہیں، سیلاب بھی بھگتے ہیں، زلزلوں کا دکھ بھی سہا ہے،دہشت گردی کےخلاف طویل جدوجہد بھی کی ہے۔ یہ قوم قربانی دینا جانتی ہے،مگر اس کی ایک شرط ہے:قربانی سب کی مشترکہ ہو،صرف غریب کی نہیں۔اگر آج اعلان ہوجائےکہ وزرا نےاپنی تنخواہوں اورمراعات میں نمایاں کمی کردی ہے،اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نےکفایت شعاری اختیار کر لی ہے، غیرضروری سرکاری گاڑیاں نیلام کی جا رہی ہیں، پروٹوکول محدود کردیاگیا ہےاوربچائی گئی رقم عوامی فلاح پرخرچ ہوگی، تو شاید عوام مہنگائی کا بوجھ بھی زیادہ حوصلےسےبرداشت کر جائیں ۔اعتمادتقریروں سے نہیں بنتا، مثال سے بنتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہےکہ ہمارے ہاں کفایت شعاری کے اعلانات زیادہ ہوتے ہیں اور ان کے اثرات کم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف عام آدمی کی زندگی روز بروز تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ تنخواہ وہیں کھڑی ہےمگر اخراجات دوڑرہے ہیں۔ متوسط طبقہ آہستہ آہستہ غربت کی لکیر کی طرف دھکیلا جارہا ہےجبکہ غریب کےلئے زندگی پہلے ہی ایک مسلسل امتحان ہے۔یہ بھی سوچنے کی بات ہےکہ ایک ایسی ریاست جو اپنے شہریوں سے ہرسال زیادہ ٹیکس وصول کرتی ہے،اسکا یہ بھی فرض ہوناچاہیےکہ وہ اپنے اخراجات کا شفاف اور موثرجائزہ لے۔ مالی نظم و ضبط صرف عوام کے لیے نہیں، ریاست کے لیے بھی لازم ہے۔یہ اظہار یہ کسی طبقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لئےنہیں بلکہ ایک بنیادی اصول کی یاد دہانی ہے۔ جس معاشرے میں اختیارکے ساتھ احتساب نہ ہواورمراعات میں توازن نہ ہو، وہاں عوام میں احساسِ محرومی بڑھتا ہے۔پیٹرول کی قیمت میں اضافہ شایدبعض اوقات عالمی منڈی، زرمبادلہ یامالیاتی تقاضوں سے بھی وابستہ ہو مگر اسی کےساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجودرہتاہےکہ کیا داخلی سطح پر ریاست نے اپنی فضول خرچی کم کرنے کے تمام راستے اپنالئے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہےتوعوام کے ذہن میں پیداہونےوالےسوالات بھی جائز ہیں۔حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگاکہ قوم صرف اعداد و شمار سے نہیں جیتی، انصاف کے احساس سے جیتی ہے۔ جب ایک مزدوردیکھتا ہے کہ اسکے گھر کے دیئے بجھتے جارہے ہیں ،چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں مگر اقتدار کے ایوان بدستور روشن ہیں تو اس کے دل میں صرف مہنگائی کا دکھ نہیں، ناانصافی کا احساس بھی جنم لیتا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ معاشی اصلاحات کا آغاز صرف عوام کی جیب سے نہیں، اقتدار کے ایوانوں سے بھی ہو۔ اگر ریاست واقعی مالی مشکلات سے دوچار ہے تو پھر کفایت شعاری کا پرچم سب سے پہلےان ہاتھوں میں ہوناچاہیے جنکے پاس اختیار ہے۔ورنہ یہ سوال ہر نئے پیٹرول نوٹیفکیشن کے ساتھ پہلے سے زیادہ شدت سے گونجتا رہے گا:پیٹرول بم آخر کب تک روزانہ عوام پر گرتا رہے گا؟ اور حکمران اپنے اللوں تللوں، شاہانہ اخراجات اور غیر ضروری مراعات کا بوجھ قوم کے کندھوں سے اتارنے کے لیے پہل کب کریں گے؟