Search
Close this search box.
اتوار ,26 جولائی ,2026ء

ایٹم کا نیا افق، طاقت، سیاست اور مشرقِ وسطیٰٰ کا مستقبل

انسانی تاریخ میں توانائی کبھی بھی محض روشنی پیداکرنے یاصنعتوں کوچلانے کاذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ ہمیشہ تہذیبوں کے عروج، ریاستوں کی طاقت، معاشی ترقی اورعالمی سیاست کے رخ متعین کرنے والی بنیادی قوت رہی ہے۔جس طرح کوئلے نے صنعتی انقلاب کوجنم دیااوربھاپ کی طاقت نےدنیاکے معاشی ڈھانچے کوتبدیل کیا،جس طرح تیل نے بیسویں صدی کی جغرافیائی سیاست کوتشکیل دیااوردنیاکےطاقتورترین ممالک کے فیصلوں پر اثراندازہوا،اسی طرح اکیسویں صدی میں توانائی،ٹیکنالوجی اورتزویراتی صلاحیتوں کا امتزاج طاقت کے ایک نئےتصورکوجنم دے رہاہے۔
آج دنیاایک ایسےدورمیں داخل ہوچکی ہےجہاں کسی ملک کی طاقت صرف اس کے فوجی اثاثوں، قدرتی وسائل یاجغرافیائی وسعت سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کی اصل قوت اس بات سےمتعین ہوتی ہےکہ وہ توانائی،سائنس، ٹیکنالوجی،تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید صنعت کوکس طرح اپنی قومی حکمت عملی کاحصہ بناتا ہے۔اسی بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھرتاریخ کےایک حساس موڑ پر کھڑا ہے۔یہ خطہ صدیوں سے تہذیبوں،تجارت، سلطنتوں،جنگوں اورعالمی طاقتوں کے مقابلوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہونے والاکوئی بھی بڑامعاہدہ محض دو ریاستوں کے درمیان ایک سفارتی دستاویزنہیں ہوتابلکہ اس کےاثرات پورےخطے کی سیاسی،معاشی اورسلامتی کے نظام پرمرتب ہوتے ہیں۔
امریکااورسعودی عرب کےدرمیان جوہری تعاون کامعاملہ بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت ہے۔بظاہریہ ایک پرامن جوہری توانائی کے منصوبے کے طورپرسامنے آتاہے، جس کا مقصدتوانائی کے متبادل ذرائع پیداکرنا،صنعتی ترقی کوفروغ دینااورمستقبل کی معیشت کے لئے نئےامکانات پیداکرناہےلیکن عالمی سیاست کی گہرائی میں دیکھاجائےتویہ معاملہ صرف بجلی پیداکرنےیاتوانائی کے حصول تک محدودنہیں رہتابلکہ اس کے اندرطاقت،تحفظ،سفارت کاری، علاقائی توازن اورعالمی اثرورسوخ کے کئی پیچیدہ پہلو پوشیدہ ہیں۔
سعودی عرب،جوکئی دہائیوں تک عالمی تیل منڈی کاایک بنیادی ستون رہاہے،اب اپنی قومی شناخت کوایک نئے مرحلے میں منتقل کرناچاہتاہے۔ ریاض یہ سمجھتاہے کہ مستقبل کی عالمی معیشت میں صرف تیل کےذخائرکسی ملک کی مکمل طاقت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔آنے والادورعلم، ٹیکنالوجی ، تحقیق،مصنوعی ذہانت،قابلِ تجدیدتوانائی اور جدیدصنعتی صلاحیتوں کاہو گا۔ اسی وژن کے تحت سعودی عرب نے وژن 2030ء کے ذریعے اپنی معیشت کومتنوع بنانےکا منصوبہ پیش کیاہے،جس کا مقصداسے محض ایک تیل پیدا کرنے والی ریاست سے ایک جدید،سرمایہ کاری دوست اور ٹیکنالوجی پرمبنی عالمی مرکزمیں تبدیل کرنا ہے۔
جوہری توانائی اسی وسیع ترتبدیلی کاایک اہم حصہ ہے لیکن جوہری طاقت کاسفر کبھی بھی صرف سائنسی یامعاشی سفرنہیں ہوتا۔ایٹم کے اندرچھپی ہوئی قوت انسان کے لئے روشنی کاذریعہ بھی بن سکتی ہے اورخطرے کاسبب بھی۔یہی دوہراپہلو جوہری توانائی کودیگر تمام توانائی کے ذرائع سے مختلف بناتاہے۔ایک طرف جوہری توانائی کم مقدارمیں ایندھن سے بڑی مقدارمیں توانائی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،کاربن اخراج میں کمی لانےمیں مدد دیتی ہے اورطویل مدت میں توانائی کے بحران کاایک موثر حل فراہم کر سکتی ہے۔
دوسری جانب یہی ٹیکنالوجی اپنے اندرایسے حساس پہلورکھتی ہے جنہیں نظراندازنہیں کیاجا سکتا۔ جوہری علم،ایندھن کاچکر،یورینیم افزودگی اور متعلقہ تکنیکی صلاحیتیں ایسی جہتیں ہیں جن کے اثرات صرف توانائی کے میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ براہ راست قومی سلامتی اورعالمی طاقت کے توازن سے جڑجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاکی نظریں امریکا سعودی جوہری تعاون پر مرکوز ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ سعودی عرب جوہری توانائی کیوں حاصل کرناچاہتا ہے۔سوال یہ ہےکہ کیایہ منصوبہ صرف توانائی،ترقی اورمعاشی تبدیلی کا ذریعہ بنے گا؟کیااسے عالمی نگرانی،شفافیت اورذمہ داری کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایاجائے گا؟یاپھریہ مشرقِ وسطیٰ ٰمیں طاقت کے ایک نئے مقابلے کاآغازبن سکتاہے؟
جوہری توانائی کاہرقدم اپنے ساتھ ایک آئینہ لے کرآتاہے،جس میں انسان کی ترقی بھی نظرآتی ہےاور اس کی ذمہ داری کاامتحان بھی۔امریکا سعودی جوہری تعاون بھی اسی آئینے کے سامنے کھڑا ایک ایساتاریخی لمحہ ہے جہاں سائنس،سیاست اورانسانی بصیرت ایک دوسرے سے سوال کررہی ہیں۔
سعودی عرب کے لئےجوہری توانائی کامنصوبہ محض بجلی پیداکرنے کاپروگرام نہیں بلکہ اس کے قومی مستقبل کے وسیع ترتصورکاحصہ ہے۔ایک ایسی ریاست جس کی معاشی طاقت طویل عرصے تک تیل کی برآمدات سے وابستہ رہی،اب یہ محسوس کررہی ہے کہ عالمی معیشت کامستقبل تیزی سے تبدیل ہورہاہے۔ توانائی کی عالمی منڈی،موسمیاتی تبدیلی کے تقاضے،نئی ٹیکنالوجیزاورصنعتی مقابلہ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے دنیاکے ممالک کواپنی اقتصادی حکمت عملیوں پرنظرثانی کرنے پرمجبور کیا ہے۔ سعودی عرب بھی اسی تبدیلی کے سفرمیں شامل ہے۔جوہری توانائی کےحصول کےپیچھے کئی بنیادی مقاصد موجود ہیں۔ سعودی عرب اپنی توانائی کی ضروریات کوصرف تیل اورگیس تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔ مستقبل کی ایک مضبوط معیشت کے لئے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اہم ہے یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ توانائی کانظام مختلف ذرائع پرقائم ہوتاکہ عالمی منڈی کے اتارچڑھاؤسے کم متاثرہو۔
دوسرامقصدصنعتی اورسائنسی ترقی کوفروغ دیناہے۔ جوہری توانائی صرف بجلی پیداکرنے کاذریعہ نہیں ہوتی۔اس کے ساتھ انجینئرنگ،تحقیق،طبی شعبے، جدید صنعت،سائنسی تعلیم اورانسانی وسائل کی ترقی کے وسیع امکانات وابستہ ہوتے ہیں۔
تیسرامقصدوژن2030ء کوعملی بنیادفراہم کرناہے۔سعودی عرب ایک ایسی معیشت تشکیل دینا چاہتا ہےجس میں سرمایہ کاری،علم، ٹیکنالوجی اورجدت بنیادی کردارادا کریں۔ جوہری شعبہ اسی جدید معیشت کے قیام کی ایک کڑی ہے لیکن سعودی عرب کا یہ سفر صرف داخلی ضرورتوں تک محدود نہیں۔اس کے عالمی اثرات بھی ہیں،کیونکہ توانائی کے میدان میں کوئی بڑی تبدیلی ہمیشہ بین الاقوامی سیاست پراثراندازہوتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں امریکاکاکردارسامنے آتاہے۔امریکا سعودی عرب جوہری تعاون کوصرف ریاض کی توانائی کی ضروریات کے تناظرمیں دیکھنااس کی مکمل تصویرپیش نہیں کرتا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ واشنگٹن کی وسیع تر مشرقِ وسطیٰ پالیسی، عالمی طاقتوں کے مقابلے اور بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
امریکاکے لئےسعودی عرب کئی دہائیوں سےمشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مختلف ادوارمیں کئی نشیب وفرازسے گزرے،انسانی حقوق، علاقائی پالیسیوں اور بعض سیاسی اختلافات کے باعث تنقیدکاسامنابھی رہا، لیکن توانائی، دفاع،تجارت اورعلاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون نے دونوں ممالک کوایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں