قرآنِ مجید سائنس یا طبیعیات کی درسی کتاب نہیں بلکہ ہدایتِ الٰہی کی کتاب ہے۔ اس کا بنیادی مقصد انسان کو اپنے رب کی معرفت، ایمان، اخلاق اور نجات کی راہ دکھانا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو کائنات پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ جدید سائنسی دریافتوں میں بعض ایسے پہلوسامنے آئے ہیں جو بعض قرآنی آیات کے ساتھ فکری ہم آہنگی رکھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ تقابلات قطعی سائنسی یا تفسیری دعوے نہیں بلکہ غور و فکر کی دعوت ہیں، کیونکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں جبکہ قرآن ہمیشہ کے لیے حق ہے۔
1۔ قرآن اور جدید طبیعیات،مادہ ہماری نظر سے کہیں زیادہ گہرا ہے قرآن: ’’اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی چیز تمہارے رب سے پوشیدہ ہے۔‘‘ (یونس: 61)
فکری تامل:یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کائنات کے ہر ذرے بلکہ اس سے بھی چھوٹی ہر حقیقت کو محیط ہے۔ جدید طبیعیات نے ثابت کیا کہ ایٹم ناقابلِ تقسیم نہیں بلکہ اس کے اندر مزید بنیادی ذرات موجود ہیں، اور تحقیق آج بھی مزید گہرائیوں تک جاری ہے۔
وقت کے بارے میں قرآن: ’’تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہے۔ (الحج: 47)
فکری تامل:اس آیت کا اصل مقصد اللہ کے ہاں وقت کے مختلف پیمانے کو بیان کرنا ہے۔ جدید نظری اضافیت (Relativity) بھی یہ واضح کرتا ہے کہ وقت ہر مقام اور ہر حالت میں یکساں رفتار سے نہیں گزرتا۔
لوہے کی اصل قرآن:’’اور ہم نے لوہا اتارا، جس میں بڑی قوت اور لوگوں کے لیے بے شمار فائدے ہیں۔‘‘ (الحدید: 25)
فکری تامل:جدید فلکی طبیعیات کے مطابق لوہا عظیم ستاروں کے اندر بنتا ہے اور سپرنووا دھماکوں کے ذریعے کائنات میں پھیلتا ہے۔ اس لحاظ سے لوہا اتارا ایک نہایت قابلِ غور تعبیر ہے، اگرچہ اس آیت کا بنیادی مقصد اللہ کی نعمت اور قدرت کو بیان کرنا ہے۔
-2 قرآن اور کوانٹم شعور،یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کوانٹم شعور ابھی ایک سائنسی مفروضہ ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ اس لیے درج ذیل نکات صرف فکری تاملات ہیں۔کائنات اعمال کی گواہ قرآن: ’’وہ کہیں گے: ہمیں اللہ نے بولنے کی طاقت دی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت دی۔‘‘ (فصلت: 21)
فکری تامل:قرآن بتاتا ہے کہ قیامت کے دن انسان کے اپنے اعضا اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ بعض جدید فلسفی اس تصور کو معلومات کے محفوظ رہنے کے نظریات سے تشبیہ دیتے ہیں، اگرچہ یہ محض ایک فکری تقابل ہے۔
اللہ کی قربت : قرآن:’’اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔‘‘(ق: 16)فکری تامل:اس آیت کا اصل مفہوم اللہ تعالیٰ کے کامل علم، قدرت اور احاط علم کو بیان کرنا ہے۔ بعض اہلِ فکر اس میں کوانٹم نان لوکلٹی سے ایک فلسفیانہ مشابہت دیکھتے ہیں، مگر یہ سائنسی تفسیر نہیں۔
دل اور شعور پر اللہ کی قدرتقرآن:’’جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ (الانفال: 24) فکری تامل:یہ آیت انسان کے باطن اور شعور پر اللہ تعالیٰ کے کامل اختیار کو بیان کرتی ہے۔ بعض نظریاتِ کوانٹم شعور اس سے ایک فکری مماثلت رکھتے ہیں، مگر یہ نظریات ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں۔
-3 قرآن اور کائنات،کائنات کی ابتدا ،قرآن:’’آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کر دیا۔‘‘ (الانبیاء: 30) فکری تامل:بعض علماء اس آیت کو کائنات کی ابتدائی وحدت اور بعد ازاں اس کے پھیلا ئو کے تصور سے ہم آہنگ سمجھتے ہیں۔ آیا یہ براہِ راست بگ بینگ کی طرف اشارہ ہے یا نہیں، یہ تفسیر کا موضوع ہے۔کائنات کا مسلسل پھیلائوقرآن:’’اور آسمان کو ہم نے اپنی قدرت سے بنایا، اور یقینا ہم اسے وسعت دینے والے ہیں۔ (الذاریات: 47) فکری تامل:یہ آیت جدید کاسمولوجی میں دریافت ہونے والی کائنات کی مسلسل توسیع کے ساتھ فکری ہم آہنگی رکھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔کائنات کا اختتام قرآن:’’جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے اوراق لپیٹے جاتے ہیں۔‘‘ (الانبیا: 104)فکری تامل:قرآن کائنات کے اختتام اور نئی تخلیق کا ذکر کرتا ہے۔
جدید سائنس بھی کائنات کے ممکنہ انجام کے مختلف نظریات پیش کرتی ہے، مگر ابھی کوئی نظریہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوا۔مولانا جلال الدین رومیؒ کی نظر میںحضرت مولانا رومی ؒنے کوانٹم طبیعیات پر گفتگو نہیں کی، لیکن ان کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ مادی کائنات ایک گہری روحانی حقیقت کا ظاہری پردہ ہے۔انہوں نے فرمایا:چراغ بہت ہیں، مگر روشنی ایک ہی ہے۔رومیؒ کے نزدیک کائنات کا ہر ذرہ اپنے خالق کی نشانی ہے، اور علم کی ہر نئی دریافت انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت کے مزید قریب لا سکتی ہے۔وہ یہ بھی فرماتے ہیں:تم سمندر میں ایک قطرہ نہیں، بلکہ ایک قطرے میں پورا سمندر ہو۔یہ سائنسی بیان نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیوں کا آئینہ ہے۔خلاص کلامقرآن انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔سائنس یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے۔قرآن یہ بتاتا ہے کہ کائنات کیوں پیدا کی گئی، اس کا خالق کون ہے، اور انسان کی منزل کیا ہے۔جب علم اور ایمان عاجزی کے ساتھ یکجا ہوتے ہیں تو دونوں انسان کو اپنے رب کی معرفت کی طرف لے جاتے ہیں۔
’’عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کی اپنی ذات میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی حق ہے۔‘‘(حم السجدہ: 53)