نئی دہلی:بھارت کا امتحانی اسکینڈل ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایک امیدوار کی شکایت نے مبینہ پیپر لیک نیٹ ورک کی پرتیں کھول دیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی شکایت کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو مختلف ریاستوں میں پھیلے ایک منظم گروہ کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئیں۔
اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر امتحانی پرچہ ایک پرنٹنگ پریس سے غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا، جس کے بعد اسے مختلف شہروں کے ذریعے آگے منتقل کیا جاتا رہا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس نیٹ ورک میں متعدد افراد مختلف کردار ادا کر رہے تھے، جبکہ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے پرچے فروخت کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض امیدواروں سے مبینہ طور پر ہزاروں سے لے کر لاکھوں روپے تک وصول کیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سوالنامے کی نقول مختلف ریاستوں تک پہنچائی گئیں، جہاں انہیں مزید پھیلایا گیا۔
معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب جنوبی بھارت کے ایک امیدوار نے امتحان سے قبل موصول ہونے والے مبینہ سوالنامے سے متعلق متعلقہ اداروں کو شکایت بھیجی۔ ابتدائی طور پر مقامی سطح پر کارروائی نہ ہونے کے بعد شکایت قومی امتحانی ادارے تک پہنچی، جہاں سے کیس تحقیقاتی اداروں کو منتقل کر دیا گیا۔
تحقیقات کے دوران مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے اور متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس پیش رفت کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ امتحان بھارت میں میڈیکل، انجینئرنگ، ایوی ایشن اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جس میں ہر سال لاکھوں امیدوار شریک ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیپر لیک جیسے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
