(گزشتہ سے پیوستہ)
مظاہرین کی جانب سے رکھی گئی شرائط دراصل جہاں اعتماد کی کمی کااظہارہیں،وہاں اعتمادکی بحالی کی کوششیں بھی نظر آر ہی ہیں،جوکسی بھی مذاکراتی عمل کے لئے ناگزیرہوتی ہے۔ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی اشدضرورت ہے۔حکومت کی جانب سے بات چیت کی آمادگی ایک مثبت اشارہ ہے،مگرسیاسی اختلافات اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔حکومت کی آمادگی کے باوجودسیاسی اختلافات اس عمل کوسست کررہے ہیں جس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔۔
وفاقی اورمقامی قیادت کے درمیان اختلاف اورمختلف آرااس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف عوامی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بھی ہے اوریہ مسئلہ کئی سطحوں پرموجودہے۔یہ واضح ہے کہ کسی بھی حل کے لئےآئینی ترامیم درکارہوں گی۔کسی بھی دیرپا حل کے لئےآئینی تقاضوں کوپورا کرنا ضروری ہے۔جذباتی فیصلے وقتی سکون تو دے سکتے ہیں مگردیرپااورپائیدارحل نہیں ہوتے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ فوری طورپرمشترکہ کمیشن تشکیل دیکر متفقہ اوردیرپاممکن حل تلاش کیاجائے جس پرعوام کی خواہشات کوترجیح دی جائے۔وگرنہ طاقت کے بل بوتے پرفیصلے وقتی ثابت ہوتے ہیں۔
آخرکاریہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسائل کاحل طاقت نہیں بلکہ مکالمہ ہے۔تاریخ کے ہرموڑ پر یہی ثابت ہواہے کہ بات چیت ہی وہ پل ہے جو فاصلے کم کرتاہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بھی میز پر ختم ہوتی ہیں۔ آخرکاریہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل دب توسکتے ہیں مگرحل نہیں ہوتے۔حل صرف مکالمے میں پوشیدہ ہے۔
یہ تنازع ایک آئینہ ہے جس میں ریاست، سیاست اور عوام کے چہرے نمایاں ہیں۔اگراس آئینے کوتوڑدیاگیاتوعکس بھی بکھرجائے گا۔یہ تنازع ایک آزمائش بھی ہے سیاسی قیادت کے لئے بھی اورریاستی ڈھانچے کے لئیبھی۔یہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری آزمائش ہے۔ بصیرت،تدبر،تحمل اورمکالمے کے ذریعے اس بحران کوحل کیاجائے تویہ ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتاہے،ایک نئی راہ کھول سکتاہے۔بصورتِ دیگر یہ ایک ایسازخم بن سکتاہے جووقت کے ساتھ گہرا اور ایک دائمی بحران میں تبدیل ہوسکتاہے۔ ہر بحران اپنے اندر یک پیغام چھپائے ہوتاہے،ایک ایسا پیغام جوصرف ان لوگوں پرآ شکار ہوتا ہے جو سے محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک تجربہ سمجھ کر س سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مہاجرین کی بارہ نشستوں کا تنازع بھی اسی نوعیت کا یک امتحان ہے،جس میں ریاست،سیاست اورعوام تینوں کو اپنے کردارکا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اس تنازع نے ایک اوراہم حقیقت کوبھی بے نقاب کیاہے کہ ریاستی مفادکاتصورجب تک عوامی مفادسے ہم آہنگ نہ ہو،وہ اپنی معنویت کھودیتا ہے۔ ریاستیں صرف طاقت کے بل پرقائم نہیں رہتیں بلکہ اعتماد،انصاف اورشفافیت ان کی بنیاد ہوتے ہیں۔جب عوام اپنے آپ کو فیصلوں سے کٹاہوامحسوس کریں تو فاصلے بڑھ جاتے ہیں،او یہی فاصلے بالآخربحران کوجنم دیتے ہیں۔مہاجرین کی نمائندگی کاسوال محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔یہ ان لوگوں کے ساتھ کیے گئے ایک تاریخی وعدے کاتسلسل ہے جنہوں نے اپنی زمینیں ، اپنے گھراوراپنی پہچان قربان کرکے ایک نئے مستقبل کی امیدمیں ہجرت کی۔ان کی آوازکوکمزورکرنایانظراندازکرنادراصل اس وعدے سے انحراف کے مترادف ہے۔
یہ محض ایک تنازع نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے ،ایک ایساموقع جس کے ذریعے ریاست اورعوام کے درمیان اعتمادکی نئی بنیادرکھی جاسکتی ہے۔اگراس موقع کوضائع کردیاگیاتویہ ایک ایسازخم بن سکتاہے جووقت کے ساتھ گہراہوتا جائے گا۔لیکن اگراسے دانشمندی سے سنبھالاگیا تویہی بحران ایک روشن مستقبل کی بنیادبھی بن سکتا ہے۔یہی اس پورے معاملے کاسب سے بڑا سبق ہے:ریاستیں طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد اورانصاف سے قائم رہتی ہیں اورقومیں وہی ترقی کرتی ہیں جواپنے اختلافات کومکالمے میں ڈھال لیتی ہیں،اورتاریخ انہی کویادرکھتی ہے جوبحرانوں کومواقع میں بدلنے کاہنرجانتی ہیں۔اوریہی اس مسئلے کااصل سبق ہے۔یہ رپورٹ محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ سوچنے،سمجھنے اورسنبھلنے کی ایک فکری دعوت ہے۔