بحیرۂ روم کی موجیں دنیا کے بہت سے لوگوں کے لیے حسن، سیاحت اور رومان کی علامت ہوں گی مگر پاکستان کے بے شمار خاندانوں کے لیے یہی سمندر خوف کی علامت بن چکا ہے۔ جب کسی کشتی کے ڈوبنے کی خبر آتی ہے تو اخباروں اور ٹی وی سکرینوں پر چند عدد ظاہر ہوتے ہیں، چند نام نشر ہوتے ہیں اور پھر خبریں آگے بڑھ جاتی ہیں لیکن ان اعداد کے پیچھے کتنی زندگیاں، کتنی امیدیں اور کتنے خواب دفن ہو جاتے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کے گھر کا کوئی فرد بہتر مستقبل کی تلاش میں گھر سے نکلا ہو اور پھر کبھی واپس نہ لوٹا ہو۔ایسی خبریں محض خبر نہیں ایک خاموش چیخ بن جاتی ہیں۔ بحیرۂ روم میں ڈوبتی ہوئی کشتیوں کی خبریں ہوں یا لیبیا کے ساحلوں سے آنے والی اطلاعات، یہ سب صرف اعداد نہیں، ان کے پیچھے وہ نوجوان ہیں جو گھر سے اس امید پر نکلے تھے کہ زندگی بدل جائے گی اور جب کوئی نوجوان روزگار اور خوشحالی کی امید لے کر روانہ ہوتا ہے تو اکیلا وہ سفر نہیں کرتا اس کے ساتھ ایک ماں کی دعائیں، ایک باپ کی امیدیں اور پورے خاندان کی آرزوئیں بھی سفر پر نکل پڑتی ہیں۔ وہ یہ یقین لے کر گھر سے نکلتا ہے کہ ایک دن واپس آ کر اپنے گھر کے حالات بدل ڈالےگا، اپنے والدین کی محرومیوں کا ازالہ کرے گا اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل دے گا مگر خوابوں کی یہی جستجو انسان کو ان راستوں پر لے جاتی ہے جہاں امید کے بجائے استحصال اور منزل کے بجائے المیہ اس کا منتظر ہوتا ہے۔ ’’ڈنکی‘‘ انہی امیدوں اورخواہشوں کے استحصال کانام ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر لوگ یہ خطرناک راستہ اختیار ہی کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب صرف معاشی مشکلات میں تلاش کرنا کافی نہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی اور محدود مواقع یقیناً اہم عوامل ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جلد کامیابی حاصل کرنے کی خواہش، بیرون ملک زندگی کے بارے میں غیر حقیقی تصورات اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی چمک دمک نوجوانوں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ جب کوئی بار بار یہ سنتا ہے کہ فلاں شخص چند ماہ میں یورپ پہنچ گیا، فلاں کی قسمت بدل گئی اور فلاں نے بیرون ملک جا کر گھر بنا لیا تو وہ یہی سمجھنے لگتا ہے کہ شاید اس کی مشکلات کا حل بھی سرحد کے اس پار موجود ہے اور انسانی اسمگلر اسی نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ خواب بیچتے ہیں، امید فروخت کرتے ہیں اور مجبوریوں کو اپنے کاروبار کا ایندھن بنا لیتے ہیں۔
غیر قانونی ہجرت کایہ سفر اکثر ایسے راستوں پرہوتا ہے جہاں قانون کی عمل داری کم اور جرائم پیشہ گروہوں کا راج زیادہ ہوتا ہے۔ بہت سے افراد راستے میں گرفتار ہو جاتے ہیں، بعض یرغمال بنا لیے جاتے ہیں، کئی تشدد اور بھتہ خوری کا شکار ہوتے ہیں جبکہ کچھ ایسے حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کا تصور بھی محال ہے۔ اس سفر میں انسان صرف اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالتا بلکہ اپنے پورے خاندان کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ انسانی اسمگلر لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔ مائیں زیور بیچتی ہیں ، بہنوں کا جہیز بکتا ہے ، گھر آنگن اور کھیت فروخت کئے جاتے ہیں ، قرض لئے جاتے ہیں یا برسوں کی جمع پونجی اس امید پر خرچ کر دی جاتی ہے کہ شاید قسمت بدل جائے لیکن جب سفر ناکام ہو جائے تو نہ خواب باقی رہتے ہیں اور نہ ہی وہ وسائل جن کے سہارے زندگی کو دوبارہ سنبھالا جا سکے۔یہ سانحات اس حقیقت کا سب سے کربناک پہلو ہیں۔
لیبیا میں زیرِحراست پاکستانیوں کی وطن واپسی نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد اگر ان خستہ حال کشتیوں میں سوار ہو جاتے تو آج ان کے نام بھی لاپتا افراد یا جاں بحق ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہوتے۔ یہ بات ٹھیک سے سمجھنے کی ہے کہ ’’ڈنکی‘‘ کوئی شارٹ کٹ نہیں بلکہ موت، محرومی اور پشیمانی کی طرف جانے والا راستہ ہے۔
پاکستان نے اس چیلنج کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف عملی اقدامات کیے ہیں۔ ریاستی اداروں نے غیر قانونی راستوں کو روکنے، اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور شہریوں کو محفوظ ہجرت کے راستوں سے آگاہ کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں نے اس چیلنج کو ایک ایسے معاملے کے طور پر لیا ہے جو صرف سرحدوں کا مسئلہ نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ، قومی ساکھ اور انسانی وقار سے جڑا ہوا ہے۔ (FIA) نے غیر قانونی ہجرت روکنے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے اپنے نظام کو مزید مؤثر بنایا ہے۔ نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا گیا ہے، رسک اینالیسس اور مانیٹرنگ کے طریقۂ کار بہتر کیے گئے ہیں، ایئرپورٹس پر جانچ کے مراحل کو سخت کیا گیا ہے، بائیومیٹرک تصدیق کے نظام کو فروغ دیا گیاہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں جو شہریوں کو غیر محفوظ راستوں پر بھیجتے ہیں۔یہ اقدامات صرف روک تھام تک محدود نہیں بلکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش ہیں۔ انسانی اسمگلرزکے خلاف تحقیقات، معلومات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کو بہتر بنایا گیاہے تاکہ ایسے نیٹ ورکس کو کمزور کیا جا سکے جو لوگوں کی مجبوریوں کو استعمال کرتے ہیں۔پاکستان کی کوششوں کا ایک اہم حصہ بیرونِ ملک پھنس جانے والے شہریوں کی واپسی اور مدد بھی ہے۔ مختلف مواقع پر پاکستانی سفارتی ذرائع، متعلقہ اداروں اور عالمی شراکت داروں کے تعاون سے متاثرہ افراد کو واپس لایا گیا۔ یہ اقدامات علامت ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کو مشکل حالات میں تنہا نہیں چھوڑتی۔تاہم اس مسئلے کا مستقل حل صرف کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ شعور کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ کامیابی کا کوئی ایسا راستہ نہیں جو آناً فاناً ان کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دے گا۔ اصل ترقی تعلیم، ہنر اور قانونی ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب تک معاشرے میں آگاہی پیدا نہیں ہوگی، انسانی اسمگلروں کے لیے نئے شکار تلاش کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ کامیابی کا کوئی جادوئی راستہ نہیں ہوتا۔ دنیا آج بھی ہنر، تعلیم اور محنت کی قدر کرتی ہے۔ نرسنگ، انجینئرنگ، آئی ٹی، تکنیکی تعلیم اور دیگر پیشہ ورانہ شعبے قانونی ہجرت اور بہتر مستقبل کے دروازے کھول سکتے ہیں۔اصل سرمایہ پاسپورٹ نہیں بلکہ قابلیت ہے اور قابلیت ہی وہ دولت ہے جو کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ صرف ریاست یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ والدین، اساتذہ، میڈیا اور سماجی حلقوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ہر اس نوجوان تک یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے جو کسی غیر مصدقہ ایجنٹ کے وعدوں پر یقین کرنے والا ہے۔غیر قانونی ہجرت کا مسئلہ ایک سادہ سوال پر آ کر ٹھہرتاہے کہ کیا فوری خواہش کے لیے غیر یقینی راستہ چننا چاہیے یا تھوڑا وقت دے کر محفوظ راستہ اختیار کر لینا بہتر ہے؟یہ سوال ہر اس گھر کے مکینوں کے سامنے رکھنا چاہیے جہاں کوئی نوجوان’’ ڈنکی ‘‘کے ذریعے سفر کی تیاری کررہاہے۔