Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مقروض ملک میں وی آئی پی جہاز اور تحفوں کی بارش

پاکستان ایک مقروض ملک ہے جہاں قرضوں کا بوجھ لگ بھگ سو کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے اور اہم صوبے پنجاب کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ یہاں بھی عوام کا پیسہ حکمرانوں کی شاہ خرچیوں میں ضائع ہو رہا ہے جبکہ عوامی ضروریات نظر انداز کی جا رہی ہیں۔ بجٹ میں مریم نواز کے وی آئی پی طیارے کے لئے کل 20.53 ارب روپے مختص کئے گئے۔ دیکھ بھال اور آپریشن کے لئے 10.708 ارب روپے،اضافی فنڈز کے طور پر 9.825 ارب روپے شامل ہیں۔ صوبے کے کروڑوں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو اس طرح کی شاہ خرچی کیسے جائز ہو سکتی ہے۔ عوام کی ضرورت تعلیم صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ہے مگر حکمرانوں کی ترجیحات الگ ہیں۔ وہ اپنی سہولت اور شان و شوکت کے لیے اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف وسائل کا غلط استعمال ہے بلکہ عوام کے ساتھ ایک بڑا مذاق بھی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے سیکرٹریٹ میں انٹرٹینمنٹ اینڈ گفٹس کے لیے دس کروڑ روپے رکھے گئے۔ پہلے سال پانچ کروڑ مختص کئے گئے تھے مگر خرچ گیارہ کروڑ نوے لاکھ روپے کئے گئے۔ گزشتہ سال سات کروڑ روپے تجویز کئے گئے تھے مگر خرچ کی تفصیل کا خانہ خالی رکھا گیا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت شفافیت سے کام نہیں کر رہی۔عوامی پیسہ چائے مہمان نوازی اور پروٹوکول پر بے حساب خرچ ہو رہا ہے جبکہ صوبے کے غریب لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔غربت کے سبب سب سے زیادہ خودکشیاں پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہو رہی ہیں مگر حکمرانوں کو صرف اپنی ذات سے غرض ہے۔ یہ اخراجات نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ کرپشن کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔کرپشن کی یہ زنجیر پورے نظام کو متاثر کر رہی ہے۔پچھلے تین سالوں میں کسانوں کا ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق ایک سال میں ایک سو ارب ڈالر پاکستان سے باہر چلا گیا۔ آئی ایم ایف کے مطابق پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن پکڑی گئی ہے۔ پاکستان ان لوگوں سے نہیں چل رہا جو عوام کا پیسہ لوٹ رہے ہیں۔ سیلابوں قدرتی آفات اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسان کا نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے اعلانات تو کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر ریلیف نہیں ملتا۔اوپر سے سونے پر سہاگہ یہ کہ پنجاب حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری کے اقدامات فوری طور پر ختم کر دیے۔ نیا نوٹیفیکیشن جاری کر کے حکومت نے یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے لیے عوامی مفاد سے زیادہ اپنی سہولت اہم ہے۔کیا ایسے ہوتے ہیں حکمران۔ کیا ایسے چلتا ہے ملک۔ ایک طرف قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے دوسری طرف اربوں روپے وی آئی پی سہولیات پر خرچ ہو رہے ہیں۔ پنجاب جیسا صوبہ جو پاکستان کی معیشت کا انجن سمجھا جاتا ہے اس کی حالت اب تشویش ناک ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بجٹ کم کیا جا رہا ہے صحت کی سہولیات ناکافی ہیں مگر وی آئی پی طیارے اور انٹرٹینمنٹ جیسی عیاشیوں پر بجٹ بڑھائے جا رہے ہیں اور اربوں لگائے جا رہے ہیں۔حکومت کا دعوی ہے کہ بجٹ عوام دوست ہے مگر حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ترقیاتی پروگراموں میں بڑے اعلانات کیے جاتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد مشکوک ہے۔ کسانوں کو مشینری اور سبسڈی کا وعدہ کیا جاتا ہے مگر نقصانات پورے نہیں کئے جاتے۔ کرپشن کی کہانیاں روزانہ سامنے آ رہی ہیں مگر کوئی احتساب نہیں ہو رہا۔ فیصل واوڈا جیسے لوگ انکشافات کر رہے ہیں مگر حکومت انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔عوام کو اب سوچنا ہو گا کہ وہ کس قسم کے حکمران چاہتے ہیں۔ کیا وہ ایسے لوگوں کو ووٹ دیں گے جو ان کے پیسے پر شاہانہ زندگی گزارتے ہیں۔ پنجاب کا بجٹ لگ بھگ پانچ ہزار تین سو ارب روپے کا ہے مگر اس میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی مختصات کہاں ہیں۔ وی آئی پی اخراجات اور گفٹس پر ہونے والا خرچ بتاتا ہے کہ ترجیحات غلط ہیں۔ملک کو چلانے کے لیے شفافیت اور احتساب ضروری ہے۔ اگر حکمران اپنی ذمہ داری نبھائیں اور عوام کا پیسہ محفوظ رکھیں تو معاشی بحران سے نکلا جا سکتا ہے۔ مگر موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کہ کرپشن اور شاہ خرچیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کسانوں کا نقصان معیشت کو کمزور کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹس کرپشن کی تصدیق کر رہی ہیں مگر حکومت خاموش ہے اور انکو لانے والے بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔پنجاب کے عوام سخت محنت کرتے ہیں مگر ان کی محنت کا نتیجہ حکمرانوں کی لگژری بن رہا ہے۔ وی آئی پی طیارے کی دیکھ بھال پر دس ارب سے زائد خرچ ایک مثال ہے کہ کس طرح وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔ سیکرٹریٹ کے انٹرٹینمنٹ بجٹ میں اضافہ بھی اسی کرپشن کی زنجیر کا حصہ ہے۔ فیصل واوڈا کا بیان اس کرپشن کی تصدیق کرتا ہے جو عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کی جا رہی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اٹھے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرے۔ حکمرانوں سے پوچھا جائے کہ وہ عوام کے پیسے پر کیوں عیاشی کر رہے ہیں۔ کفایت شعاری کے اقدامات ختم کر کے حکومت نے ثابت کیا ہے کہ ان کی ترجیحات عوام نہیں بلکہ وہ خود ہیں۔ کسانوں کا ہزار ارب کا نقصان پورا کرنے کی بجائے انتہائی اہم شخصیات کی سہولیات پر توجہ دی جا رہی ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں غربت بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر ہے اس طرح کی شاہ خرچی ناقابل برداشت ہے۔ مریم نواز کی حکومت کو سوچنا چاہیے کہ تاریخ انہیں کیسے یاد کرے گی۔ کیا وہ ایک ایسے حکمران کے طور پر یاد رہیں گی جنہوں نے عوام کی فلاح کے لیے کام کیا یا پھر شاہ خرچیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنیں گی۔ملک کو چلانے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ درکار ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے صوبے کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے عوامی پیسے کا درست استعمال ضروری ہے۔ وی آئی پی لگژری کی بجائے عوامی ضروریات پر توجہ دی جائے تو ہی بہتری ممکن ہے۔ حکمرانوں کو عوام کی آواز سننی چاہیے ورنہ یہ نظام مزید کمزور ہوتا چلا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں