Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

بارشی سیلاب اور ضلعی انتظامیہ

اس بار مون سون کی بارشوں نے پورے پاکستان کو شدید متاثر کیا ہے۔ چاروں صوبوں، متعدد اضلاع اور دیہی علاقوں میں جانی و مالی نقصان نے ایک ہولناک منظر پیش کیا۔ سینکڑوں گھر تباہ ہوئے، درجنوں پل بہہ گئے اور دیہاتوں و شہروں کے درمیان رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا۔ کئی سڑکیں اس شدت سے متاثر ہوئیں کہ ان کی بحالی پر اربوں روپے خرچ ہوں گے اور یہ عمل مہینوں نہیں بلکہ شاید سالوں پر محیط ہو گا۔سب سے زیادہ تباہی سیلاب نے کی جہاں زمین داروں کے خود ساختہ ڈیموں کے ٹوٹنے سے پانی کے بہاؤ میں اور تیزی آئی، وہاں قدرتی راستوں کی بندش نے صورتحال مزید بگاڑ دی۔ عوام پریشان ہیں اور ملک ایک شدید آزمائش سے گزر رہا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسے سانحے میں بھی کچھ عناصر ایسے ہیں جو ذاتی مفادات کے لیے خوشی مناتے دکھائی دیے۔ انجینئرز اور افسران جنہیں اب نئے پل اور سڑکیں بنانے کے منصوبوں میں حصہ ملے گا اور ممکنہ کمیشن کی توقع ہے، وہ ٹھیکیدار طبقہ جو تعمیراتی ٹھیکوں کے منتظر ہیں اور اس تمام تباہی کو اپنے لیے ”موقع” سمجھتے ہیں۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ان تمام افراد کے دلوں میں خوفِ خدا ڈالے، تاکہ وہ خلوص اور ایمانداری سے ملکی وسائل کو ضائع کیے بغیر خالص مٹیریل سے دوبارہ تعمیری کام کریں، کیونکہ اگر بدعنوانی کا سلسلہ برقرار رہا، تو قوم کے زخم کبھی نہیں بھر سکیں گے۔تاہم ان تمام اندھیرے مناظر کے بیچ کچھ روشن چراغ بھی ہیں اور ان میں سے ایک ضلع چکوال ہے، جہاں قیادت اور ضلعی انتظامیہ نے مثالی کارکردگی دکھائی۔ سیلاب کے شدید حالات میں، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سیاسی دباؤ اور مصروفیات کے باوجود چکوال کا دورہ کیا۔ یہ نہ صرف ایک علامتی قدم تھا بلکہ عملی اقدامات کے آغاز کا نقطہ بھی ثابت ہوا۔ ڈپٹی کمشنر محترمہ سارہ حیات گوندل نے وزیر اعلیٰ کو جو تفصیلی بریفنگ دی، اس میں نہ صرف زمینی حقائق کو درست انداز میں پیش کیا بلکہ متاثرہ علاقوں کی فوری بحالی کا روڈمیپ بھی فراہم کیا۔ اس بریفنگ سے متاثر ہو کر وزیر اعلیٰ نے فوری امداد اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے نقد امداد کے چیکس منظور کیے، جو اگلے ہی دن ڈی سی سارہ حیات گوندل نے بذات خود مستحقین تک پہنچائے۔ڈی سی چکوال کا ہر ہفتے ہسپتالوں کا وزٹ کرنا، مریضوں سے براہِ راست ملاقاتیں، صفائی کے انتظامات کا جائزہ اور ڈاکٹروں کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف دفتر میں بیٹھ کر فیصلے نہیں کرتیں بلکہ خود ہر فیلڈ میں موجود رہتی ہیں۔ سیلابی صورتحال میں روزانہ کی بنیاد پر متاثرہ علاقوں کا دورہ، عوامی شکایات کا فوری ازالہ اور بے سہارا افراد کی مدد اُن کے اخلاقی فرض سے بڑھ کر ان کے کردار کا عکس ہے۔سیلاب کی تباہ کاری یہیں ختم نہیں ہوئی۔ جب سوہاوہ چکوال کو ملانے والا اہم رابطہ پل شدید طغیانی کے باعث بہہ گیا تو اس نے نہ صرف ضلع چکوال کو دوسرے اضلاع سے جدا کر دیا بلکہ ہزاروں لوگوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ رابطہ منقطع ہوتے ہی عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی۔ یہ پل صرف ایک سڑک نہیں بلکہ چکوال اور اس کے گرد و نواح کے لیے ایک معاشی، سماجی اور انتظامی شہ رگ کی حیثیت رکھتا تھا۔صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے فوری طور پر پل کی بحالی کے احکامات جاری کیے۔ ان کے حکم میں صرف ہمدردی نہیں بلکہ عمل کی فوری طلب نمایاں تھی۔
اس موقع پر جس انداز سے ضلعی انتظامیہ نے کام کیا، وہ واقعی قابلِ تحسین ہے۔ڈپٹی کمشنر سارہ حیات گوندل نے وزیر اعلیٰ کے احکامات کو محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے نہ صرف ذاتی نگرانی میں کام کا آغاز کروایا بلکہ متعلقہ محکموں، انجینئرنگ ٹیموں اور مقامی وسائل کو ایک نکتے پر مرکوز کر کے پل کی عارضی بحالی کو انتہائی کم وقت میں ممکن بنایا۔ چند دنوں میں وہ راستہ، جو مکمل طور پر منقطع ہو چکا تھا، دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ کام جس تیزی، شفافیت اور فرض شناسی سے مکمل ہوا، وہ بلاشبہ ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔یاد رہے کہ عام طور پر ایسے کام مہینوں پر محیط ہوتے ہیں اور اس دوران مختلف فائلیں دفاتر میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ لیکن یہاں فائلوں سے زیادہ قدموں نے کام کیا اور کاغذ سے زیادہ زمین پر موجودگی نے۔ یہی قیادت کا فرق ہوتا ہے۔ جب لیڈر خود میدان میں اترے اور افسران سنجیدگی سے کام کریں تو وہ راستے بھی کھل جاتے ہیں جو بند نظر آتے ہیں۔یہ صرف ایک پل کی بحالی نہیں تھی بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی تھی۔ یہ ایک پیغام تھا کہ حکومت نہ صرف موجود ہے بلکہ متحرک بھی ہے اور جب قیادت میں اخلاص ہو تو راستے نکل آتے ہیں، چاہے وہ پانی میں ڈوبے ہوں یا ملبے میں دفن۔قبضہ گروپ کے خلاف کارروائی اور سرکاری زمینوں کی واگزاری ایسا عمل ہے جو عموماً سیاسی مداخلت کی وجہ سے روک دیا جاتا ہے، مگر ڈپٹی کمشنرسارہ حیات گوندل نے نہ صرف یہ کام کیا بلکہ کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کئی اہم جگہوں سے قبضے ختم کرائے۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو افسران کو مشکل فیصلوں کی راہ پر ڈالتے ہیں۔چکوال کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل جنڈیال فیض اللّٰہ میں جہاں گزشتہ پانچ دنوں سے سڑک کی رسائی اور بجلی معطل تھی، وہاں سڑک کو بحال کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر سارہ حیات گوندل کی ہدایات پر متاثرہ 40 خاندانوں کو ریلیف کے طور پر راشن پیکس تقسیم کیے گئے جس میں بنیادی ادویات بھی شامل تھی، جبکہ کلینک آن ویل بھی علاقے میں بھیجی گئی تاکہ لوگوں کو ہیلتھ کور فراہم کیا جا سکے۔ اسسٹنٹ کمشنر چکوال ذیشان شریف قیصرانی نے ڈپٹی کمشنر کی خصوصی ہدایت پر خود موقع پر جا کر تمام انتظامات کی نگرانی کی۔ان تمام اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ چکوال کی رینکنگ جو کچھ عرصہ قبل 37ویں نمبر پر تھی، اب صرف تین ماہ میں 7ویں نمبر پر پہنچ گئی۔ یہ محض ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر قیادت مخلص ہو اور انتظامیہ ذمہ دار، تو کوئی بھی ضلع بحران کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ چکوال کے عوام ان خدمات پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈپٹی کمشنر سارہ حیات گوندل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔چکوال جیسے علاقے میں جہاں ماضی میں ترقی کی رفتار سست تھی، اب حالات بدل رہے ہیں۔ اگر اسی طرح قیادت مخلص اور انتظامیہ فرض شناس رہی، تو نہ صرف سیلاب جیسے سانحات کا بہتر طور پر مقابلہ کیا جا سکے گا بلکہ پورا علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ اللہ ہمیں مزید ایسی قیادت عطا کرے جو خلوص اور نیت سے عوام کی خدمت کرے۔ آمین۔

یہ بھی پڑھیں