حالیہ عالمی منظرنامہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب صرف علاقائی سیاست کا میدان نہیں رہابلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کامرکزبن چکاہے۔اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں مشرقِ وسطیٰ ایک بارپھرعالمی سیاست کامرکزبن کرابھرا ہے۔ یہ مطالعہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی،جغرافیائی وسیاسی تبدیلیوں کاتجزیہ پیش کرتاہے،جس کا نقط آغازامریکااور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ عسکری کارروائی ہے جونہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ بن گئی تھی۔اس جنگی صورتحال نے عالمی امن کوتباہی کے دہانے پرلاکھڑاکیا،ایک ایسے بحران کوجنم دیاجس نے عالمی امن کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کوبراہِ راست خطرے میں ڈال دیا۔یہ تصادم محض فوجی نہیں تھابلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط سیاسی کشیدگی،نظریاتی اختلافات اور اسٹریٹیجک مفادات کارفرماتھے۔
اس بحران نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پرطاقت کے توازن کومتاثرکیابلکہ تحقیق یہ ظاہرکرتی ہے کہ کس طرح ایران نے عسکری دباکوسفارتی کامیابی میں تبدیل کیا،تاہم،اسی بحران کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی جس میں پاکستان نے نہایت متوازن اورفعال کردار ادا کرتے ہوئے ایک ممکنہ عالمی تباہی کو ٹالنے میں کلیدی حصہ ڈالا۔ پاکستان کے اس کلیدی مصالحتی کردار نے بروقت دنیاکوایک بڑی تباہی سے بچانے میں مددفراہم کی اورپاکستان نے ایک ثالثی قوت کے طورپرعالمی تصادم کوکم کرنے میں اہم کردار اداکیا۔
ایران اورامریکا کے تعلقات1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعدسے مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ اس انقلاب کے نتیجے میں نہ صرف ایران کی داخلی سیاست میں بڑی تبدیلی آئی بلکہ اس کے عالمی تعلقات بھی یکسربدل گئے۔امریکا،جوپہلے ایران کاقریبی اتحادی تھا،بلکہ شاہ ایران کے زمانے میں ایران کو امریکا خطے کا تھانیدار مشہورکیا گیاتھا،اچانک اس کاسب سے بڑامخالف بن گیا۔دراصل ایران اورمغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کی بنیادانقلابِ ایران کے بعدرکھی گئی، جب ایک خودمختاراورمغرب مخالف نظام نے جنم لیا۔اس کے بعد ایران کی دفاعی خودکفالت ، جوہری پروگرام،اورخطے میں اس کے اتحادیوں کی حمایت نے اسے ایک اہم مگرمتنازعہ طاقت بنادیا۔
اسرائیل،جوخودکوخطے میں ایک تنہالیکن مضبوط ریاست سمجھتاہے،ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کواپنے لئے ایک اسٹریٹیجک خطرہ تصور کرتارہا ہے۔ خاص طورپرایران کے جوہری پروگرام اوراس کی حمایت یافتہ مزاحمتی تنظیموں (خصوصاً لبنان میں) کے باعث۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان کشیدگی اکثربالواسطہ جنگوں اور پراکسی تنازعات کی شکل میں ظاہرہوتی رہی۔ یہ کشیدگی وقت کے ساتھ بڑھتی گئی اورمختلف پابندیوں ، پراکسی جنگوں اور سفارتی تنائوکی شکل میں سامنے آتی رہی۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ تنابراہِ راست فوجی تصادم میں تبدیل ہوگیا۔مشرقِ وسطیٰ ٰ تاریخی طورپرعالمی طاقتوں کے تصادم کامرکزرہا ہے،جہاں توانائی کے وسائل، جغرافیائی اہمیت اور نظریاتی اختلافات نے مسلسل کشیدگی کوجنم دیا۔ حالیہ بحران کوسمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک ری سیٹ کے طورپردیکھاجائے،جس نے علاقائی سیاست کے بنیادی ڈھانچے کوبدل دیا ہے۔
اگر ہم تاریخی و نظریاتی پس منظرپرنگاہ ڈالیں توپتہ چلتاہے کہ1979ء کے انقلاب کے بعدایران نے مغربی اثرسے علیحدگی اختیارکی۔ امریکا نے 1980-2020ء کے درمیان ایران پرمتعدد اقتصادی پابندیاں عائدکیں اوراسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کواپنی سلامتی کے لئے بنیادی خطرہ قراردیا۔عالمی بینک اورآئی ایم ایف کے اعدادوشمارکے مطابق ایران پرعائد پابندیوں کے باعث اس کی معیشت کو اندازاایک ٹریلن ڈالرسے زائدکانقصان پہنچ چکاہے۔امریکا نے ایران کے سینکڑوں بلین ڈالرزکے اثاثے بھی منجمدکر رکھے ہیں۔سینٹرفار اسٹریٹجک اینڈانٹرنیشنل اسٹڈیزکی رپورٹ کے مطابق2015ء کے جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعدبھی کشیدگی میں 65 فیصداضافہ ہو چکاہے۔
ایران کے خلاف امریکااوراسرائیل کی مشترکہ کارروائی کوایک منظم اورمربوط حملہ قراردیاجا سکتا ہے، جس کامقصد ایران کی فوجی، اقتصادی اور اسٹریٹیجک طاقت کو کمزور کرناتھا۔ان حملوں میں ایران کے حساس فوجی اڈوں کونشانہ بنایاگیا، اقتصادی ڈھانچے کونقصان پہنچایاگیا،خطے میں ایران کے اتحادیوں کودبائو میں لانے کی کوشش کی گئی۔ یہ جارحیت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی بلکہ اس نے خطے میں ایک بڑے پیمانے کی جنگ کے خطرات کو بھی جنم دیا۔ایران کے ساتھ حالیہ عسکری تصادم میں جدید ٹیکنالوجی، سائبر وا رفیئر، اورفضائی حملوں کااستعمال کیاگیا۔ ایران کے اسٹریٹیجک انفراسٹرکچرکونشانہ بنایاگیا، خطے میں پراکسی نیٹ ورکس کوکمزورکرنے کے لئے باقاعدہ زمینی کارروائیوں میں بے تحاشہ جدیدترین جنگی ساز وسامان کواستعمال کیاگیا۔بحری راستوں کوکنٹرول کرنےکےلئے آبنائےہرمز کا محاصرہ کیاگیااورعالمی معیشت کوشدید ترین نقصان اٹھانا پڑا۔گویا یہ جنگ روایتی نہیں بلکہ ہائبرڈوارفئیر کی مثال تھی،جہاں معلوماتی جنگ،اقتصادی دبائو اورفوجی طاقت ایک ساتھ استعمال ہوئے۔
ان کارروائیوں کامقصدایران کی دفاعی صلاحیت کومحدودکرنااوراسے علاقائی سطح پرتنہاکرنا تھالیکن نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔ ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط کیا،خطے میں اس کے اتحادیوں نے زیادہ منظم ردعمل دیا،جنگ کادائرہ تیزی سے لبنان اوردیگرعلاقوں تک پھیل گیا۔یہ صورتحال ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتی تھی،جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پربھی پڑتے لیکن پاکستان اورسعودی عرب کی مشترکہ دانش نے اس آگ کوپھیلنے سے روکے رکھا۔
لبنان اس بحران میں ایک مرکزی حیثیت اختیارکرگیا،لبنان میں موجودمزاحمتی قوتیں، جو ایران کے اتحادی سمجھی جاتی ہیں،اس جنگ کا اہم حصہ بن گئیں۔لبنان کا محاذ اور مزاحمتی بلاک اس بحران کا’’فارورڈ تھیٹر‘‘بن گیا۔مزاحمتی قوتوں نے اپنے دفاعی خطوط کوبرقراررکھا اوراسرائیل کو ’’غیرمتناسب مزاحمت‘‘کاسامناکرناپڑا۔ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں اس بات کا ثبوت تھیں کہ جنگ کادائرہ وسیع ہورہا ہے۔ اسرائیلی ظالمانہ جارحیت کامقصدمزاحمتی قوتوں کوکمزورکرکے لبنان کے علاقوں پرقبضہ کرکے اپنی سرحدوں میں توسیع کرناتھاتاہم زمینی حقائق نے ایک مختلف تصویرپیش کی۔
حیران کن طورپرمزاحمتی قوتیں کمزورہونےکی بجائے مزیدمنظم اورمستحکم ہوئیں۔ان کی اسٹریٹیجک پوزیشن پہلے سے بہترہوگئی۔ اسرائیل اپنی داخلی سلامتی کویقینی بنانے میں ناکام دکھائی دیا۔اسرائیل کوغیرمتوقع مزاحمت کاسامناکرناپڑا،داخلی سطح پر اسرائیلی سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوااوریہ صورتحال اس بات کی غمازتھی کہ روایتی عسکری برتری اب فیصلہ کن عنصرنہیں رہی۔یقینا شہری علاقوں میں جنگ نے عالمی رائے عامہ کومتاثرکیا۔ اسرائیلی جارحیت کی بناپر(اقوام متحدہ کے انسانی اندازے) کے مطابق لبنان میں فوجی جھڑپوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں میں40فیصداضافہ ہوگیااور اسرائیلی سرحدی علاقوں سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
اس پیچیدہ بحران کےدوران پاکستان نے ’’خاموش سفارتکاری‘‘اور’’بیک ڈورچینل مذاکرات‘‘ کے ذریعے ایک ذمہ دار،ایک غیرجانبدار مگرفعال ثالث کاکلیدی سفارتی کردار اداکیا۔پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کوساری دنیانے تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔ پاکستان کی قیادت نے نہایت حکمت عملی کے ساتھ تہران، واشنگٹن اوردیگرعالمی دارالحکومتوں کے درمیان رابطہ کاری اورفریقین کے درمیان اعتمادبحال کرنے کی کوشش کی،تنازعے کوعالمی فورمزپراجاگر کرکے،اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کی حمایت کی راہ ہموار کرنے کے لئے مسلم دنیامیں اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش کی اورعلاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی کے لئے انتھک محنت کی۔
عالمی طاقتوں کوجنگ بندی پرآمادہ کیا۔اقوام متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپرامن کی اپیل کی۔پاکستان کی قیادت نے نہایت احتیاط اورتدبر کے ساتھ ایسے اقدامات کئے جنہوں نے فریقین کومذاکرات کی میزپر آنے پرمجبورکیا۔پاکستان نے ایران اورامریکاکے درمیان بیک ڈور چینل مذاکرات شروع کروائے،خفیہ اورکھلے دونوں سطحوں پرمذاکرات کاآغاز ہوا ،اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اورعالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد سازی کے لئے انتھک محنت کی۔ پاکستان نے’’مڈل پاورڈپلومیسی‘‘کی ایک کامیاب مثال پیش کی،جس میں محدود وسائل کے باوجودبہت زیادہ اثرڈالا۔جس کے نتیجے میں بالآخرایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا۔یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ معاہدہ محض جنگ بندی نہیں بلکہ ایک مکمل اسٹریٹیجک فریم ورک ہے۔
مفاہمت کی یہ یادداشت ایک پالیسی فریم ورک کے طورپرکئی اہم سطحوں پرتبدیلی لانے میں کامیاب رہی،اس کی اہم شقیں درج ذیل ہیں:
جنگ کامستقل خاتمہ:تمام فریقین نے اس بات پراتفاق کیاکہ آئندہ کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی سے گریزکیا جائے گا،جس سے خطے میں استحکام کی نئی امیدپیداہوئی۔ علاقائی کشیدگی میں فوری کمی،جس سے عالمی منڈیوں میں استحکام آیا۔ایران کے خلاف تمام فوجی کارروائیاں ختم کردی جائیں گی۔ایران اوراس کے اتحادیوں کے خلاف مزیدکوئی جارحیت نہیں ہوگی۔
لبنان کی خودمختاری کی ضمانت:اسرائیل کو لبنان کے تمام متنازعہ علاقوں سے دستبردارہونے کا پابند بنایا گیا،جس سے خطے میں طاقت کاتوازن تبدیل ہوتا دکھائی دے رہاہے اور یہ ایک حتمی اورلازمی فیصلہ ہوگا۔ یہ شق خطے میں طاقت کے توازن کوبنیادی طورپر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکی افواج کا انخلا:معاہدے کے فورًابعد امریکی افواج خطے سے واپس چلی جائیں گی،اندازے کے مطابق20سے30ہزارامریکی فوجیوں کامرحلہ وارانخلاطے پایاہے۔ جس سے خطے میں براہ راست امریکی اثرورسوخ میں کمی واقع ہوگی اورجنگ بندی کے معاہدے کومزید تقویت ملے گی جوایک بڑی اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے۔امریکی فوجی موجودگی کے خاتمیکافیصلہ ایک بڑی جغرافیائی اوربڑی اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے،جومستقبل میں علاقائی خودمختاری کوتقویت دے سکتاہے۔
پابندیوں کا خاتمہ:ایران پرعائدتمام اقتصادی پابندیاں ختم کردی جائیں گی،عائد تمام پابندیوں کے خاتمے سے اس کی معیشت کوبڑی تقویت ملے گی اورنئی زندگی ملنے کی توقع ہے۔جس سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے مطابق ایران کی جی ڈی پی میں ممکنہ8سے 10 فیصداضافہ ہوگا۔تیل کی برآمدات میں 3ملین بیرل یومیہ اضافہ ہوگاجس سے ایرانی معیشت کے جلدبحال ہونے کاقوی امکان ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول:ابنائے ہرمز، جوعالمی تجارت کے لئے نہایت اہم ہے اوردنیا کا 20 فیصد تیل اسی راستے سے گزرتاہے،اب ایران کے مکمل کنٹرول میں ہوگی۔
ایران کواس اہم بحری گزرگاہ پرمکمل اختیاردینا عالمی توانائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتاہے جویقیناایران کی بڑی فتح ہے۔
میزائل اور جوہری پروگرام:ایران کے دفاعی پروگرامزکومذاکرات سے باہررکھاگیاہے،جواس کی خودمختاری کی بڑی جیت ہے۔ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو مذاکرات سے باہررکھنااورکسی قسم کی پابندیوں کانہ ہونا،اس کی خودمختاری اوردفاعی پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اورسفارتی منظرنامہ امن پسند قوتوں کے لئے سکھ کاسانس اورایک ایساسہارابن گیاہے کہ آئندہ آنے والوں وقت میں یہ سوچ اورشعور خطے میں نئی تبدیلی کی نویدبن سکتی ہے۔اس معاہدے کودنیابھرمیں سراہاگیا۔دنیاکے بیشترممالک نے اس معاہدے کوایک مثبت پیش رفت قراردیا۔یورپی عوام میں اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلندہوئیں، جبکہ امریکاکے اندربھی تنقیدی رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔مغربی دنیامیں اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں اضافہ ہوگیا۔یورپی یونین نے اسے ’’سفارتی پیش رفت‘‘قراردیتے ہوئے اسے امن کی جیت قراردیا۔عالمی منڈیوں میں استحکام لوٹ رہاہے اورعالمی معیشت کے سرپرمنڈلاتے خطرات اورخدشات کم ہو رہے ہیں۔
عالمی میڈیانے پاکستان کے کردارکوسراہاتاہم کچھ ممالک کارویہ مختلف رہا،بھارت نے محتاط خاموشی اختیارکی لیکن اندرون خانہ انڈین میڈیابیانیہ مودی کے اضطراب کوآشکارکرگیا، متحدہ عرب امارات نے واضح حمایت سے گریزکیا۔یہ رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں مفادات کی کشمکش اب بھی جاری ہے اورکچھ ممالک اب بھی خطے میں کشیدگی کواپنے مفادات کے لئے استعمال کرناچاہتے ہیں۔۔
اگرچہ معاہدہ کامیابی کے ساتھ طے پاچکاہے، لیکن لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں، جواس معاہدے کے استحکام کے لئے خطرہ بن سکتی ہیں۔ تاہم اس بارصورتحال مختلف ہے۔عالمی میڈیازیادہ تنقیدی کرداراداکررہاہے جس سے عالمی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف ہورہی ہے،یورپ اورامریکامیں عوامی دباؤ بڑھ رہاہے اوراسرائیل کی سفارتی پوزیشن کمزورہوچکی ہے۔عوامی رائے پہلے سے زیادہ باخبراورفعال ہے اوراسرائیل کوسفارتی سطح پرشدیدتنقیدکا سامنا ہے۔ گویا یہ عدم استحکام کامعاہدہ کے بعدکامرحلہ ہے، جہاں زمینی حقائق اورسفارتی معاہدے میں تضاد رہ سکتاہے۔
یہ معاہدہ محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک تبدیلی کی علامت ہے۔اس پوری صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کونئے سرے سے متعین کیاہے۔ایران ایک مضبوط اورخودمختارابھرتی ہوئی علاقائی طاقت کے طورپرسامنے آیاہے۔محدود مداخلت کی امریکی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور امریکاکواپنی حکمت عملی میں لچک دکھاناپڑی۔اس وقت ٹرمپ کونہ صرف امریکامیں بلکہ اقوام عالم میں بری طرح تنقیدکانشانہ بنایاجارہاہے۔اسرائیل دفاعی اور سفارتی دبائومیں ہے اوربالخصوص اس حالیہ امریکی و اسرائیلی مشترکہ جارحیت میں یورپی یونین کاکردارکھل کرسامنے آیاہے جس کے جواب میں ٹرمپ کی یورپی یونین اورنیٹوپرتنقیدسے ان کی بھرپورمایوسی کااظہارہوتارہا ہے ۔
یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ ٰ میں ایک نئے دورکی بنیادرکھ سکتاہے،بشرطیکہ تمام فریق مکمل طورپر معاہدے پرعمل درآمدکرتے رہیں۔ایک موثربین الاقوامی نگرانی کا نظام قائم کیاگیاہے۔ علاقائی مذاکرات مستقل بنیادوں پر جاری ہیں۔امریکاکواپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرنی پڑی ہے بلکہ لبنان کے معاملہ پرپہلی مرتبہ ٹرمپ کی نیتن یاہوکو وارننگ کوایک جوہری سیاسی تبدیلی قراردیاجارہا ہے۔اسرائیل پہلی باردفاعی پوزیشن میں نظرآرہاہے۔ طاقت کاڈھانچہ بدلنااورپاکستان کاایک موثرثالث کے طورپرابھرنااس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدیدعالمی نظام میںہارڈپاورکے ساتھ ساتھ سمارٹ ڈپلومیسی بھی فیصلہ کن کرداراداکرتی ہے۔
یہ پیش رفت اس حقیقت کواجاگرکرتی ہے کہ جدیدعالمی نظام میں فوجی طاقت کااستعمال اکیلاحل نہیں بلکہ سفارتکاری،اتحادسازی، حکمت عملی اورعوامی دبا وہ اہم عوامل ہیں جوعوامی رائے بنانے میں بھی اہم کرداادا کرتی ہے۔پاکستان نے جس بصیرت اور سنجیدگی کے ساتھ اس بحران میں کرداراداکیا،وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ ایک مثالی سفارتی کامیابی کے طورپر سامنے آیاہے،اور عالمی امن کے لئے ایک مثال بھی ہے۔جس نے نہ صرف خطے بلکہ دنیاکوایک ممکنہ تباہی سے بچانے میں مدددی۔
یہ صرف ایک معاہدہ نہیں،بلکہ طاقت کے عالمی توازن میں ایک خاموش انقلاب ہے اوراس انقلاب میں سفارتکاری نے گولی پربرتری حاصل کرلی ہے۔یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ ٰ میں ایک نئے دورکاآغازہوسکتاہے ، یہ معاہدہ اگربرقراررہتاہے تویہ مشرقِ وسطیٰ ٰ میں ایک نئے سیاسی واقتصادی دورکاآغازثابت ہوسکتاہے،تاہم اس کے لئے تمام فریقین کوسنجیدگی اور ذمہ داری کامظاہرہ کرناہوگا۔تاہم،اگراسرائیل کی جانب سے جارحیت جاری رہی تویہ امن ایک بارپھرخطرے میں پڑسکتاہے۔ دنیاآج ایک نازک موڑپرکھڑی ہے،اوراس کا مستقبل اس بات پرمنحصرہے کہ عالمی طاقتیں جنگ کی بجائے امن کوترجیح دیتی ہیں یانہیں۔