کبھی کبھی سانحہ محض چند لمحوں کی غفلت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ برسوں سے جمع ہوتی ہوئی انتظامی بے حسی، ترجیحات کے الٹ پھیر اور ریاستی ذمہ داریوں سے تدریجی دست برداری کا نوحہ بن جاتا ہے۔ لاہور کے علاقے میں ٹیوشن سینٹر کی چھت تلے دب کر کم سن بچوں کی جانوں کا ضیاع ،اسےایک خبر کے طور پر پڑھ لینا قومی حافظے کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ محض ایک عمارت کے ملبے کی بات نہیں بلکہ بات اس پورے نظام کی ہے جو انسانی جانوں کو اپنی پالیسی ترجیحات میں وہ مقام دینے میں ناکام دکھائی دیتا ہےجس کی وہ مستحق ہیں۔
ترقی کی موجودہ تعبیر میں سڑکیں، فلائی اوورز، انڈر پاسز اور تیز رفتار ٹرینیں نمایاں علامتوں کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ ان منصوبوں کی افادیت سے انکار ممکن نہیں مگر ایک مہذب معاشرے میں ترقی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ وہاں شہری کس حد تک محفوظ ہیں۔ اگر ایک بچے کے سر پر موجود چھت قابل اعتماد نہیں، اگر ایک پرانی عمارت میں قائم تعلیمی مرکز موت کے کنویں میں تبدیل ہو سکتا ہے، تو پھر انفراسٹرکچر کی چمک دمک اپنی اخلاقی معنویت کھو دیتی ہے۔
پنجاب میں گزشتہ برسوں کے دوران بڑے ترقیاتی منصوبوں پر غیر معمولی توجہ دی گئی مگر شہری سلامتی، مخدوش عمارتوں کے سروے، تعمیراتی نگرانی اور پرانی آبادیوں کی بحالی کے معاملات کبھی عوامی مباحث کا مرکزی موضوع نہیں بن سکے۔ حکومت کی کارکردگی کا اندازہ صرف تعمیر ہونے والے منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ اس نے کن خطرات کو کم کیا اور کن انسانی ضرورتوں کو ترجیح دی۔ حکمرانی کی سمت کا تعین اکثر بجٹ کی ضخیم دستاویزات سے نہیں ان خاموش شعبوں سے ہوتا ہے جہاں شہریوں کو اپنے تحفظ کی ضمانت حاصل ہو۔یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ پاکستان کے بیشتر شہروں میں مخدوش عمارتیں برسوں سے انسانی جانوں پر معلق خطرے کی مانند موجود ہیں۔ کہیں بارش کے بعد چھتیں بیٹھ جاتی ہیں، کہیں غیر معیاری تعمیرات پورے خاندانوں کو نگل لیتی ہیں اور کہیں تجاوزات و غیر قانونی تعمیرات برسوں تک انتظامی سرپرستی میں پروان چڑھتی رہتی ہیں۔ کراچی میں نسلہ ٹاور کا معاملہ اگرچہ عدالتی احکامات کے تحت انہدام کا تھا اور اس سے جانی نقصان وابستہ نہیں تھالیکن اس نے یہ سوال ضرور اٹھایا تھا کہ غیر قانونی اور خطرناک تعمیرات آخر کس سرکاری خاموشی کے سائے میں وجود پاتی ہیں۔بہت سے پرانے شہری علاقوں میں عمارتیں اپنی عمر پوری کرنے کے باوجود اب بھی مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں جس سے ان کی اصل ساخت اور موجودہ استعمال کے درمیان واضح عدم توازن پیدا ہو چکا ہے۔ جو مکانات ابتدا میں محدود آبادی کے لیے تعمیر کیے گئے تھے، وقت کے ساتھ ان میں تعلیمی مراکز، چھوٹے کاروباری یونٹس یا گودام قائم ہو گئے ہیں۔ آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے عمارتوں کے استعمال کا رخ بھی بدل دیا ہےمگر ان تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کوئی منظم نگرانی، باقاعدہ معائنہ یا حفاظتی جانچ کا نظام بروقت تشکیل نہیں پا سکا۔ نتیجہ یہ ہے کہ کمزور اور پرانے ڈھانچے روزمرہ سرگرمیوں کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں اور یہ خاموش خطرہ کسی بھی لمحے بڑے انسانی سانحے میں بدل سکتا ہے۔
قانونی اعتبار سے پنجاب میں مقامی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مخدوش یا خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کی مرمت، خالی کرانے یا انہدام کے احکامات جاری کریںمگر قانون کی موجودگی اور اس کے مؤثر نفاذ کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہی ہماری انتظامی ناکامیوں کا سب سے بڑا استعارہ بن چکا ہے۔ قانون کتابوں میں محفوظ رہے اور شہری ملبے تلے دفن ہوتے رہیں تو ریاستی ذمہ داری اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ بدعنوانی اس پورے نظام کو مزید مفلوج بنا رہی ہے۔ شکایات اور مشاہدات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بعض خطرناک عمارتوں کے خلاف کارروائی محض اس لیے موخر ہوتی ہے کہ متعلقہ اہلکاروں کی جیبیں گرم کر دی جاتی ہیں۔ یوں ایک مخدوش دیوار صرف اینٹوں اور گارے کا ڈھانچہ نہیں رہتی بلکہ رشوت، مفاد پرستی اور انتظامی بے حسی کا مشترکہ نشان بن جاتی ہے۔ جب ضابطے فروخت ہونے لگیں تو حادثات محض اتفاق نہیں رہتے، وہ نظام کی پیداوار بن جاتے ہیں۔ شفاف طرزعمل اس مسئلے کا ایک اور اہم پہلوہے۔ اگر مخدوش عمارتوں کی فہرستیں، معائنے کی رپورٹس اور متعلقہ اداروں کی کارروائیاں عوامی دسترس میں ہوں تو نہ صرف احتساب کا عمل مضبوط ہوگا بلکہ شہری بھی اپنی حفاظت کے معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکیں گے۔ جب معلومات عوام کی دسترس میں ہوں تو بدعنوانی کے لیے گنجائش خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔
عوام اب ترقی کے دعووں کو محض ظاہری تعمیرات کی بنیاد پر قبول نہیں کرتے۔ ووٹ صرف ان منصوبوں کے نام نہیں پڑتے جو کیمروں کے سامنے افتتاح کیے جائیںبلکہ ان اقدامات کی بنیاد پر دئیے جاتے ہیں جو خاموشی سے شہریوں کی جان و مال کےتحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ اگر عوامی مفاد پالیسی سازی کا مرکز نہ رہے تو سیاسی مقبولیت کے بلند مینار بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتے۔عوامی اعتماد ہمیشہ ان حکومتوں کے حصے میں آیا ہے جنہوں نے نمائشی کامیابیوں سے زیادہ انسانی تحفظ کو اہمیت دی۔ ایک محفوظ سکول، ایک مضبوط رہائشی عمارت، ایک مؤثر نگرانی کا نظام اور ایک دیانت دار انتظامیہ کسی بھی مہنگے ترقیاتی منصوبے سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف راستوں کو ہی ہموار نہ کرےبلکہ ان راستوں پر چلنے والوں کی زندگیاں بھی محفوظ بنائے۔
اصل معاملہ اس طرز حکمرانی کا ہے جو انتظامی فیصلوں اور عوامی ترجیحات کا تعین کرتی ہے اگر صاحب اختیار کے گرد خوشامد کی دیواریں کھڑی نہ ہوں، یا ہوں بھی تو فیصلہ سازی ان کے زیرِ اثر نہ ہو، اگر عوامی مفاد محض تقریروں کا حصہ نہ رہے بلکہ انتظامی فیصلوں کی بنیاد بنے، اگر نمود و نمائش کی سیاست اور رشوت و بدعنوانی کے کلچر کو ریاستی سطح پر قبولیت نہ ملے، تو پھر حکمران خواہ وفاق میں ہو یا کسی صوبے میں، عوام اس سے محض حکمران کا نہیں بلکہ اپنےحقیقی نمائندے کا رشتہ قائم کرتی ہے۔ اعتماد کا یہ رشتہ سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں، انسانی جان کے احترام اور انصاف پر مبنی طرزحکمرانی سے استوار ہوتا ہے اور یہی گڈ گورنس اور بیڈ گورنس کے درمیان اصل لکیر ہے۔