(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ تمام اقدامات نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح بلکہ اس کے واضح قانونی تقاضوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی فورمز اور عدالتوں میں متعدد مواقع پر اپنے مؤقف کی قانونی برتری ثابت کی ہے۔ ان فیصلوں نے واضح کیا کہ بھارت معاہدے میں طے شدہ تعمیراتی حدود، پیشگی اطلاع اور دیگر شرائط کی پابندی کرنے کا پابند ہے۔ اس کے باوجود بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔ اس کی یہ روش صرف پاکستان کی زرخیز زمینوں اور کروڑوں انسانوں کی غذائی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال رہی بلکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ایک ایسی خاموش جارحیت ہے جو توپ و تفنگ کی گھن گرج سے کم تباہ کن نہیں بلکہ اس کے اثرات کہیں زیادہ دیرپا اور خطرناک ہیں۔
اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کی سفارتی کامیابی امن دشمن قوتوں کی نگاہ سے بھی اوجھل نہ رہی۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی پالیسی پر کاربند اسرائیل ان پیش رفتوں سے سخت نالاں ہے، جن میں پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی تناظر میں امریکہ کے صدر اور نائب صدر کی جانب سے نیتن یاہو پر ہونے والی کھلی تنقید اور اس کی سیاسی سبکی نے پرانے اتحادیوں کے درمیان دراڑوں کو نمایاں کر دیا۔ ایسے حالات میں یہ بعید از قیاس نہیں کہ اسرائیل بھارت کو مزید اکسا رہا ہو تاکہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی آبی دہشت گردی کو تیز کرے، ماضی کی ناکامیوں کا بدلہ لے اور خطے میں استحکام کی جانب بڑھتے ہوئے سفر کو سبوتاژ کرے۔
پاکستان اپنی مضبوط ہوتی ہوئی سفارتی حیثیت کی بدولت آج اس قابل ہو چکا ہے کہ اس سنگین مسئلے کو عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرے۔ اسے چاہیے کہ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں سے لے کر واشنگٹن، ماسکو، بیجنگ، برسلز اور خلیجی دارالحکومتوں تک ہر مؤثر فورم پر بھارت کی ان خلاف ورزیوں کو مدلل، باوقار اور مسلسل سفارتی مہم کے ذریعے اجاگر کرے۔ یہ سفارت کاری انتقام یا تلخی پر نہیں بلکہ انصاف، بین الاقوامی قانون اور قومی بقا کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ اگر بھارت کی یہ روش جاری رہی تو صرف جنوبی ایشیا کا امن ہی نہیں بلکہ عالمی قوانین اور معاہدوں کا تقدس بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ پاکستان کے عالمی دوست بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ایک مستحکم، خوشحال اور محفوظ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت، انسدادِ دہشت گردی اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
تاہم اگر تمام سفارتی ذرائع ناکام ہو جائیں اور بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اپنی پالیسی سے باز نہ آئے تو پاکستان کو اپنے عوام، اپنی زراعت اور اپنے مستقبل کے دفاع کا مکمل خودمختار حق حاصل ہے۔ دنیا کا کوئی بھی باوقار ملک خاموش تماشائی نہیں بن سکتا جب اس کی زندگی کی شہ رگ کو دانستہ طور پر کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
آگے کا راستہ تدبر اور عزم، دونوں کا متقاضی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اسی متانت، وقار اور سفارتی بصیرت کو برقرار رکھے جس نے اسے عالمی احترام دلایا ہے، اور اپنے جائز تحفظات کو ایک مضبوط، مدلل اور مؤثر بین الاقوامی بیانیے میں ڈھالے۔ اپنے اتحادیوں سے تعاون حاصل کرتے ہوئے، مگر اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر، وہ نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ امن، انصاف اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ یوں پاکستان صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہی نہیں کرے گا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دے گا کہ طاقت کی سیاست کے اس دور میں بھی بالآخر قانون، انصاف اور اخلاقی اصول ہی پائیدار فتح حاصل کرتے ہیں۔ دنیا، جس نے پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے، اب اس بات کی منتظر ہے کہ آیا پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں بھی اپنے اصولی کردار سے اس احترام کو مزید مستحکم کر پاتا ہے یا نہیں۔