اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، محبت، رواداری، عدل اور انسانیت کی حفاظت کا علمبردار ہے، یہ نفرت نہیں محبت بانٹتا ہے اوریہ بربادی نہیں تعمیر سکھاتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں امت مسلمہ ایک ایسے کربناک دور سے گزر رہی ہے جہاں دہشت گردی اور انتہا پسندی نے معاشروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ شہر خوف کی گرفت میں ہیںاورعبادت گاہوں تک کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ یہ سفاکی کبھی دین کی آڑ میں اور کبھی اسلام کے مقدس نام کو ڈھال بنا کر کی جاتی رہی۔ حالانکہ اسلام وہ دین ہے جو یہ فرماتا ہے کہ: ’’جس نے ایک انسان کو بلاوجہ قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا‘‘ (المائدہ: 32)، یہ محض آیت نہیں بلکہ انسانیت کا عظیم اعلان، معاشرتی مساوات کا منشور اور امن و بقا کا ایسا اصول ہے جس کی مثال دنیا کے کسی مذہبی یا سماجی قانون میں نہیں ملتی۔ رسول اکرم ﷺ جنہیں قرآن نے ”رحمۃ للعالمین” کہا، ان کی پوری زندگی امن و محبت کا عملی درس ہے۔ طائف میں جب آپ ﷺ پر سنگ باری ہوئی، جسم لہولہان ہو گیا، فرشتے حاضر ہوئے اور کہا اگر حکم دیں تو پہاڑ ملا دیے جائیں مگر آپ ﷺ نے فرمایا:ــ’’ اے اللہ! انہیں ہدایت دے، یہ نہیں جانتے‘‘۔یہ ہے وہ رحمت، یہ ہے وہ انسانی ہمدردی جو اسلام نے دنیا کو دکھائی۔ یہ وہی اسلام ہے جس کے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘ اور ایک اور حدیث میں فرمایا: ’’جو کسی غیر مسلم شہری کو تکلیف دے میں قیامت کے دن اس کے خلاف مقدمہ لڑوں گا‘‘۔اب سوال یہ ہے کہ جس دین نے انسانیت کو اتنی عزت دی، جو دین دشمن کے لیے بھی بددعا کے بجائے دعا کی تعلیم دیتا ہے، جو دین بوڑھوں، بچوں، عورتوں، غیر مسلح افراد اور عبادت گاہوں تک کے احترام کا حکم دیتا ہے، کیا وہ دین دہشت گردی کی اجازت دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو سمجھیں۔خودکش دھماکوں، معصوموں کے قتل، عبادت گاہوں کی تباہی اور خوف و دہشت کا نام جہاد نہیں ہے۔
قرآن میں واضح کہا گیاہے: ’’اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو‘‘ (البقرہ: 190)، یعنی اسلام ظلم نہیں کرتا بلکہ ظلم روکنے کا نام ہے۔ دہشت گردی صرف ایک واردات نہیں، یہ سوچ کی بیماری ہے۔ یہ ذہن کی ویرانی، فکر کا انتشار اور ایمان کی کمزوری ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو کسی ایک وجود کو نہیں بلکہ پوری نسلوں کو جلا دیتی ہے۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے:’’جس نے ایک انسان کو بلاوجہ قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا‘‘۔یہ آیت صرف قانون نہیں، ایک زنجیر ہے جو انسان کے ہاتھ کو روکتی ہے، دل کو نرم کرتی ہے اور ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔ یہ کوئی سیاسی جملہ نہیں، یہ رب کا حکم ہے۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ جو مذہب ایک جان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دے، وہ معصوموں کے قتلِ عام کی اجازت دے؟نبی اکرم ﷺ نے جنگ کے دوران بھی فرمایا: عورتوں کو قتل نہ کرنا، بچوں کو نقصان نہ دینا، بوڑھوں پر ہاتھ نہ اٹھانا، فصلیں نہ جلانا، درخت نہ کاٹنا، عبادت میں مصروف راہب کو تکلیف نہ دینا،یہ ہیں اسلام کی جنگی اخلاقیات۔ مگر افسوس کچھ گمراہ ذہن نام نہاد جہاد کے نام پر ایسے اقدامات کرتے ہیں جو نہ قرآن کی روح سے مطابقت رکھتے ہیں نہ سیرت نبوی سے۔ یہی وہ انتہا پسندی ہے جو صرف بارود سے نہیں سوچ سے بھی پھوٹتی ہے۔ جب مسلکی نفرت کو دین بنا دیا جائے، جب اختلاف رائے کو کفر کا درجہ دے دیا جائے، جب طاقت کے حصول کے لیے مذہب کو ہتھیار بنایا جائے تو معاشرے ٹوٹ جاتے ہیں، قومیں بکھر جاتی ہیں۔قرآن نے تنبیہ کی: ’’آپس میں جھگڑا نہ کرو ،ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے‘‘ (الانفال: 46)، آج مسلمان کمزور کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ آپس میں تقسیم ہے، گروہوں میں بٹا ہے، اپنے سوا سب کو غلط سمجھتا ہے۔ایسے میں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری بھی بے حد اہم ہے۔الحمدللہ پاکستان سمیت مسلم ریاستیں اپنی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔ آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس توڑے گئے۔امن بحالی کے لیے پالیسیز بنائی گئیں۔
مدارس ریفارمز، نیشنل ایکشن پلان، نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع، معاشی بہتری کی کوششیں، انتہا پسند بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لئے فکری پروگرام یہ سب حکومتی ذمہ داری کے ہی اہم پہلو ہیں جسے حکومت احسن طریقے سے پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی صرف طاقت سے ختم نہیں ہوتی بلکہ فکر کی اصلاح، نصاب کی درستگی، منبر کی ذمہ داری، میڈیا کی احتیاط اور گھر کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘کیونکہ علم ہی وہ قوت ہے جو جہالت، نفرت اور انتہا پسندی کے اندھیروں کو ختم کر تا ہے۔ اصل جہاد آج قلم سے ہے، تربیت سے ہے، کردار سے ہے، نوجوانوں کو روزگار، عزت اور مقصد دینے سے ہے، ریاست جب عدل قائم کرے، ظلم نہ ہو، کرپشن کم ہو، انصاف سب کے لیے برابر ہو تو نفرت کے بیج خود بخود کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے لائیں۔اسلام نفرت کا نہیں محبت کا دین ہے۔تباہی کا نہیں تعمیر کا دین ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو بارود نہیں کتاب دینی ہے۔ نفرت نہیں محبت سکھانی ہے۔ جنگ نہیں امن وراثت میں دینا ہے۔ دنیا کو ثابت کرنا ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ حکومت بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے اورعلماء محبت کا پیغام دیں۔ تعلیمی ادارے شعور بیدار کریں۔ میڈیا ذمہ داری نبھائے۔خاندان تربیت کرے اور سب سے بڑھ کر ہر فرد یہ سمجھے کہ وہ اس امت کا حصہ ہے اور اس پر اسلام کی حفاطت کی ذمہ داری ہے کیونکہ قومیں تب بنتی ہیں جب ہر فرد اپنی ذمہ داری پہچان لے۔ اس لئے آج ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم اسلام کے محافظ ہوں گے، ہم نفرت کے نہیں محبت کے سفیر ہوں گے، ہم ظلم کے نہیں عدل کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ہم اختلاف کے باوجود تحمل اختیار کریں گے، ہم اپنے معاشرے کو امن، اعتدال اور بھائی چارے کا نمونہ بنائیں گے۔ یہی قرآن کی آواز ہے، یہی نبی ﷺ کی سنت ہے، یہی اسلام کا اصل پیغام ہے اور یہی ہماری اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم یہ کر لیں تو یقین جانیں نہ صرف دہشت گردی کی آگ بجھے گی بلکہ دنیا اسلام کو پھر سے امن، محبت اور انسانیت کا سب سے روشن چراغ مانے گی۔