Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

امن کی تلاش میں قومی عزم

قوموں کی تاریخ میں ایسے ادوار بارہا آتے رہے ہیں جب معمول کے مسائل غیر معمولی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور ریاستوں کو محض روزمرہ انتظامی فیصلوں کے بجائے اجتماعی فہم اور قومی عزم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ معاشروں میں بگاڑ ہمیشہ اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ بتدریج پروان چڑھتا ہے، کبھی نظرانداز کی گئی سوچوں سے، کبھی برداشت کے خاتمے سے اور کبھی ایسے رویّوں سے جن میں اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے دبانے کی روش اختیار کر لی جاتی ہے۔ یہی وہ مراحل ہوتے ہیں جہاں ریاستی کمزوریاں، سماجی بے چینی اور فکری انتشار ایک دوسرے سے جڑ کر ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ پاکستان بھی اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے ہی حالات سے گزرا ہے، جہاں امن، اعتماد اور ریاستی بالادستی کو سنجیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ وقت کے ساتھ یہ مسائل محض وقتی اضطراب نہ رہے بلکہ ایک ہمہ گیر صورت اختیار کرتے چلے گئے، جس نے ریاستی ڈھانچے، سماجی ہم آہنگی اور قومی اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔ برسوں تک یہ آگ کبھی مذہب کے نام پر بھڑکائی گئی، کبھی فرقہ واریت کی صورت میں سامنے آئی اور کبھی ریاست مخالف بیانیے کی شکل اختیار کر گئی۔ بازاروں، مساجد، امام بارگاہوں، تعلیمی اداروں اور سیکیورٹی تنصیبات پر حملے معمول بنتے چلے گئے اور عوام میں یہ احساس گہرا ہونے لگا کہ شاید یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہو گی۔ ایسے حالات میں ریاست کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ وقتی اقدامات، مبہم پالیسیوں اور مصلحت آمیز رویّوں سے نکل کر ایک واضح، دوٹوک اور قومی سطح کی حکمتِ عملی اختیار کرے۔قومی ایکشن پلان اسی اجتماعی شعور کا نتیجہ تھا، جس نے یہ حقیقت تسلیم کی کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ ریاستی عزم، فکری وضاحت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس منصوبے کو محض ایک کاغذی دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ ایک عملی ریاستی لائحہ عمل کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ رہی کہ تشدد کے معاملے پر کسی قسم کی ابہام یا دوہرے معیار کی گنجائش ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور یہ واضح پیغام دیا گیا کہ ریاست اب کسی بھی شکل، کسی بھی نام اور کسی بھی جواز کے تحت تشدد کو قبول نہیں کرے گی۔امن و امان کی بحالی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح رہی۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے شدت پسند نیٹ ورکس کو خاموشی مگر مؤثریت سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لایا گیا اور ان مالی و انتظامی راستوں کو بند کیا گیا جن کے ذریعے یہ عناصر منظم ہوتے تھے۔ ان اقدامات کا نمایاں نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے حملوں میں واضح کمی آئی اور شہریوں میں تحفظ کا احساس بتدریج بحال ہوا۔ یہ کامیابی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ ریاستی ہم آہنگی، مسلسل نگرانی اور واضح حکمتِ عملی کا ثمر تھی۔ فکری محاذ پر بھی موجودہ حکومت نے سنجیدہ پیش رفت کی۔ نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ مواد اور تشدد پر اکسانے والے بیانیے کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ اگرچہ اس میدان میں دباؤ اور مزاحمت کا سامنا بھی رہا مگر مجموعی طور پر ریاستی مؤقف واضح رہا کہ آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت، انتشار اور خونریزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مدارس کی رجسٹریشن، نصاب میں اصلاحات اور مالی معاملات کی نگرانی جیسے اقدامات اسی سوچ کا حصہ تھے، جن کا مقصد مذہبی تعلیم کو قومی دھارے میں لانا اور اسے شدت پسندی سے محفوظ بنانا تھا۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی قومی ایکشن پلان کا ایک نہایت حساس مگر فیصلہ کن پہلو ثابت ہوئی۔
ماضی میں یہ دیکھا گیا کہ ایسی تنظیمیں نام بدل کر یا فلاحی سرگرمیوں کی آڑ میں دوبارہ منظم ہو جاتی تھیں، مگر موجودہ حکومت نے اس روش کو روکنے کے لیے قانون کے نفاذ پر زور دیا۔ بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، دفاتر سیل ہوئے اور چندہ جمع کرنے کے غیر قانونی ذرائع پر مؤثرپابندی لگائی گئی۔ یہ اقدامات داخلی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پاکستان کے اعتماد اور وقار کی بحالی کے لیے بھی ناگزیر تھے۔دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور پائیدار کارروائی اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتی جب تک عدالتی اور قانونی نظام مضبوط نہ ہو۔ دہشت گردی کے مقدمات میں تاخیر، گواہوں کو دھمکیاں اور کمزور پراسیکیوشن ماضی کی تلخ حقیقت رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی عدالتی انتظامات اورگواہان کے تحفظ کے لئے اقدامات کیے۔ اگرچہ ان اقدامات پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ غیر معمولی حالات میں ریاست کو قانون مؤثر بنانے کے لیے غیر معمولی سنجیدگی دکھانا پڑتی ہے۔میڈیا کے کردار کو بھی قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا گیا۔ دہشت گرد عناصر کو غیر ضروری تشہیر سے محروم رکھنے، سنسنی خیزی سے گریز اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ پر زور دیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ میڈیا خوف پھیلانے کے بجائے شعور اجاگر کرے اور ریاستی بیانیے کو کمزور کرنے کے بجائے معاشرتی استحکام میں کردار ادا کرے۔ عوامی آگاہی کے ذریعے یہ احساس بھی اجاگر کیا گیا کہ اس جدوجہد میں ہر شہری ایک فریق ہے، محض تماشائی نہیں۔موجودہ حکومت کی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی رہا کہ اس نے مسائل کے سماجی اور معاشی اسباب کو نظرانداز نہیں کیا۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی، قبائلی اضلاع کا قومی دھارے میں انضمام، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کی فراہمی جیسے اقدامات اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ شدت پسندی اکثر محرومی، ناانصافی اور احساسِ بیگانگی سے جنم لیتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل المدتی عمل ہے اور اس کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آ سکتے مگر یہی وہ راستہ ہے جو پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔خارجہ محاذ پر بھی موجودہ حکومت نے یہ کوشش کی کہ دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ پاکستان خود اس آگ سے متاثر رہا ہے، اس کا محرک نہیں۔ عالمی قوانین کی پاسداری، مالیاتی شفافیت اور سفارتی سطح پر مؤقف کی وضاحت کے ذریعے منفی تاثر کو زائل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد ایک مسلسل اور صبر آزما عمل ہے۔ وقتی کامیابیوں پر اکتفا کرنا یا اسے سیاسی مصلحتوں کی نذر کر دینا قومی مفاد کے خلاف ہو گا۔ موجودہ حکومت کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ قومی ایکشن پلان کو ایک مستقل ریاستی پالیسی کے طور پر برقرار رکھے تاکہ حکومتوں کے بدلنے سے قومی سلامتی کی ترجیحات متاثر نہ ہوں۔
بالآخر کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب قانون کی بالادستی، انصاف اور عوامی اعتماد کو اس جدوجہد کی بنیاد بنایا جائے۔ اگر موجودہ حکومت اس اعتماد کو قائم رکھنے میں کامیاب رہتی ہے اور قومی ایکشن پلان پر تسلسل کے ساتھ عمل جاری رکھتی ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے واقعی اس اندھیری سرنگ سے نکلنے کی راہ پا لی ہے۔ فیصلہ اب صرف حکومت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے کہ وہ اس سفر کو ادھورا چھوڑتی ہے یا اسے انجام تک پہنچا کر ایک پُرامن، مستحکم اور باوقار مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں