اسلام آباد(رضوان عباسی)آزاد جموں و کشمیر کے وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید اور وزیر اطلاعات چوہدری رفیق نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے تمام مسائل کا حل مذاکرات میں ہے اور حکومت نے احتجاجی کمیٹی کے تقریباً تمام مطالبات پہلے ہی تسلیم کر لیے تھے۔ انہوں نے اپیل کی کہ احتجاج ختم کرکے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔
وزیر اطلاعات چوہدری رفیق نے کہا کہ 12 نشستوں کے معاملے پر احتجاج کیا گیا، تاہم ان نشستوں سے عام عوام کو کوئی براہِ راست فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا تھا، مگر نمبر گیم کی وجہ سے آئینی ترمیم ممکن نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کمیٹی کے تقریباً تمام مطالبات تسلیم کیے تھے اور تمام سیاسی جماعتوں کو آزاد کشمیر کے معاملات پر مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مشکوک قتل کے بعد فورسز کے چار اہلکار شہید کیے گئے، جو افسوسناک واقعہ ہے۔
وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ آزاد کشمیر میں قیامِ امن کے لیے حکومت نے ہر ممکن کوشش کی اور وزیر اعظم نے ذاتی طور پر معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت میر نے حکومت کو یقین دلایا تھا کہ وہ وفاق سے خود بات کریں گے، تاہم بعد میں احتجاج جاری رکھنے پر اصرار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کے باعث آزاد جموں و کشمیر کو اربوں روپے کا معاشی نقصان ہو رہا ہے جبکہ سیاحتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئین و قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کا کوئی ساتھ نہیں دے رہا۔ انہوں نے 9 محرم کے موقع پر ایک بار پھر احتجاج ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی۔
چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ آزاد کشمیر میں گندم اور بجلی سبسڈی کے ساتھ فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ 29 جون کو مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران بعض تقاریر ملک دشمنی پر مبنی ہیں اور موجودہ صورتحال سے بھارت منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر بھی بات چیت جاری تھی اور مہاجر نشستوں کے حلف سے الحاقِ پاکستان کی شق ختم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا۔ ان کے مطابق جو لوگ الحاقِ پاکستان کی شق ختم کرنا چاہتے ہیں، ان کا ایجنڈا سب کے سامنے ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو تمام حقوق دینے کے لیے حکومت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 نشستیں ان مہاجرین کو دی گئی تھیں جو ہجرت کرکے آئے تھے۔ انہوں نے پاک فوج کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول کا دفاع کرنے والی فوج کے خلاف مہم کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی میں بھارت کو مؤثر جواب دیا گیا جسے پوری دنیا نے دیکھا، جبکہ ایران۔امریکہ مذاکرات میں پاکستان اور پاک فوج کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے تھے، آزاد کشمیر کا ہر بچہ پاک فوج سے محبت کرتا ہے اور پاک فوج میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسران خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر انٹرنیٹ بند ہے تو لائیو تقاریر کیسے نشر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور فیلڈ مارشل کے خلاف بیرون ملک بینرز لگائے گئے اور بعض شرپسند عناصر فوج مخالف مہم چلا رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں خوراک کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 جولائی کو انتخابات ہوں گے، جسے عوامی حمایت کا دعویٰ ہے وہ انتخاب میں حصہ لے، فیصلہ عوام کرے گی۔
مزید پڑھیں۔پٹرول قیمتوں میں مزید کمی، وزیراعظم کے سیاسی مشیر نے بڑی خوشخبری سنا دی


