کسی بھی ریاست کی اصل پہچان اس کے نعروں، دعوؤں یا خطابات سے نہیں بلکہ ان عملی اقدامات سے ہوتی ہے جو عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائیں۔ معیشت کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور جب یہی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہو جائے تو سیاست، سماج، اخلاقیات اور قومی خود اعتمادی سب اس کے بوجھ تلے دبنے لگتے ہیں۔ ایسے میں حکومتوں کی ذمہ داری محض اقتدار سنبھالنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ انہیں زخم خوردہ معیشت کو سہارا دینا، اعتماد بحال کرنا اور مستقبل کی سمت واضح کرنا ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت کو بھی اقتدار ایسے وقت میں ملا جب معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی، مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید نگل چکی تھی، زرِ مبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو چکے تھے اور ریاستی ادارے مالی بے یقینی کا سامنا کر رہے تھے۔ ان حالات میں اگر حکومت نے محض وقتی مقبولیت کے فیصلے کیے ہوتے تو شاید تالیاں تو بج جاتیں، مگر ملک مزید بحران کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں موجودہ حکومت کے مثبت اقدامات کو محض تنقید کے شور میں نظرانداز کرنا ناانصافی کے مترادف ہوگا۔سب سے پہلے یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت نے معیشت کو جذبات کے بجائے اعداد و شمار کی بنیاد پر دیکھنے کی کوشش کی۔ وقتی طور پر تلخ مگر طویل المدتی طور پر ضروری فیصلے کیے گئے۔ سبسڈیز، ٹیکس اصلاحات، درآمدات میں توازن اور مالی نظم و ضبط جیسے اقدامات عوام کے لیے فوری طور پر خوش کن نہ تھے، مگر ریاستی دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے ناگزیر تھے۔ معیشت کسی خواہش پر نہیں بلکہ حقیقت پر چلتی ہے اور موجودہ حکومت نے اسی حقیقت کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے۔ٹیکس نیٹ کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش موجودہ حکومت کا ایک اہم اور قابلِ ذکر قدم ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ٹیکس چوری کو ذہانت اور ایمانداری کو کمزوری سمجھا جاتا رہا ہو، وہاں ٹیکس نظام کو مؤثر بنانا کسی انقلاب سے کم نہیں۔ حکومت نے نادرا، ایف بی آر اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کو باہم مربوط کر کے ایسے طبقات کی نشاندہی کی جو آمدن کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کر رہے تھے۔ اگرچہ اس عمل کو مزاحمت کا سامنا رہا مگر یہ قدم اس سمت میں اہم تھا کہ ریاست کا بوجھ چند ایماندار شہریوں کے بجائے سب پر منصفانہ طور پر تقسیم ہو۔مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا اثر براہِ راست عوام پر پڑتا ہے اور موجودہ حکومت اس چیلنج سے بخوبی آگاہ رہی۔ اگرچہ عالمی سطح پر تیل، گیس اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کو بھی متاثر کیا، مگر حکومت نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں، یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے رعایتی اشیا کی فراہمی اور صوبوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ یہ اقدامات شاید مہنگائی کو مکمل طور پر ختم نہ کر سکے، مگر اس کی شدت کو کم کرنے میں معاون ضرور ثابت ہوئے۔توانائی کا شعبہ کسی بھی معیشت کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتاہے اور بدقسمتی سے یہی شعبہ برسوں سے بدانتظامی کا شکار رہا۔
موجودہ حکومت نے گردشی قرضے کے مسئلے کو محض ٹالنے کے بجائے اس کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی۔ بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن اور پیداواری لاگت میں توازن لانے جیسے اقدامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اگرچہ یہ اصلاحات عوام کے لیے وقتی طور پر مشکل کا سبب بنیں، مگر طویل مدت میں یہی اقدامات توانائی کے نظام کو پائیدار بنا سکتے ہیں۔زراعت پاکستان کی معیشت کا وہ شعبہ ہے جو نہ صرف خوراک کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ دیہی آبادی کے روزگار کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔ موجودہ حکومت نے کسانوں کے لیے آسان قرضوں، بیج اور کھاد کی دستیابی اور زرعی تحقیق پر توجہ دے کر اس شعبے کو نظرانداز ہونے سے بچایا۔ فصلوں کی بیمہ اسکیموں اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ نے کسان کو غیر یقینی صورتحال سے نکالنے میں مدد دی۔ اگر یہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو زراعت ایک بار پھر معیشت کا مضبوط ستون بن سکتی ہے۔برآمدات میں اضافہ کسی بھی کمزور معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ حکومت نے ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور فری لانسنگ جیسے شعبوں کو سہولتیں دے کر برآمدات بڑھانے کی جانب قدم اٹھایا۔ آئی ٹی سیکٹر کے لیے خصوصی مراعات، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر میں بہتری اور نوجوانوں کی تربیت جیسے اقدامات نے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج پاکستانی فری لانسرز عالمی منڈی میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیںجو زرِ مبادلہ کے حصول کا ایک نیا ذریعہ بن چکا ہے۔سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل بے حد ضروری ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اگرچہ سیاسی دباؤ اور تنقید کا سامنا کیا مگر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھے۔ خصوصی اقتصادی زونز، سرمایہ کاری بورڈ کی فعالیت اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے روابط اسی سلسلے کی کوششیں ہیں۔سرمایہ کاری ایک ایسا بیج ہے جو وقت مانگتا ہے اور اس کے ثمرات فوری نظر نہیں آتے، مگر یہی بیج مستقبل کی معیشت کو سرسبز بنا سکتا ہے۔سماجی تحفظ کے بغیر معاشی ترقی ادھوری رہتی ہے۔ موجودہ حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو جاری رکھا اور ان کی شفافیت پر زور دیا۔ مستحق افراد تک امداد پہنچانے کے لیے ڈیٹا پر مبنی نظام متعارف کروایا گیا تاکہ وسائل کا غلط استعمال کم ہو اور حقیقی ضرورت مند فائدہ اٹھا سکیں۔ قرضوں کا مسئلہ پاکستان کی معیشت کا سب سے نازک پہلو رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں سے مذاکرات میں سخت مگر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔ اگرچہ قرضوں کے پروگرام عوام کے لیے مشکل فیصلوں کا باعث بنے مگر ان کے بغیر ریاستی نظام کا چلنا ممکن نہ تھا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ حکومت نے قرضوں کے ساتھ اصلاحات کو جوڑنے کی کوشش کی تاکہ مستقبل میں بار بار اسی دائرے میں نہ پھنسنا پڑے۔معاشی اصلاحات کا اصل امتحان ان کا تسلسل ہوتا ہے۔ اگر ہر آنے والی حکومت پچھلی پالیسیوں کو منسوخ کر دے تو ترقی کا سفر کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ موجودہ حکومت کا ایک مثبت پہلو یہ رہا کہ اس نے ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دی، تاکہ نظام افراد کے بجائے اصولوں پر چلے۔ شفافیت، احتساب اور ڈیجیٹلائزیشن جیسے اقدامات اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ معیشت کسی ایک حکومت، ایک فرد یا ایک مدت کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں ہر حکومت اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ موجودہ حکومت کے مثبت اقدامات اگر آنے والی حکومتوں کے لیے بنیاد بن جائیں تو یہی اقدامات ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ قومیں مشکلات سے نہیں بلکہ ان کا سامنا کرنے کے عزم سے بنتی ہیں اور اگر ہم اجتماعی طور پر درست سمت میں سفر جاری رکھیں تو معاشی بہتری کوئی خواب نہیں بلکہ ایک ممکن حقیقت بن سکتی ہے۔