ریاستیں اس وقت تاریخ میں سرخرو ہوتی ہیں جب وہ اقتدار کو امانت، وسائل کو عوام کی ملکیت اور قانون کو سب کے لیے برابر سمجھتی ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن قوموں نے شفافیت اور احتساب کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی نظام بنایا وہی بحرانوں سے نکل کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوئیں۔ پاکستان بھی ایک ایسے ہی تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی کی لغزشوں سے سیکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے شفاف طرزِ حکمرانی اور کرپشن کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے قومی اعتماد کی بحالی کا بیڑا اٹھایا ہے اور یہی وہ پس منظر ہے جس میں آج کے اقدامات کو محض حکومتی کارکردگی نہیں بلکہ ایک وسیع تر قومی اصلاحی سفر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کیونکہ ماضی میں احتساب اکثر انتقام، شفافیت اکثر دعوں اور اصلاحات اکثر فائلوں تک محدود رہیں مگر موجودہ حکومت نے اس روایت کو بدلنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔سب سے پہلے قانون سازی کے محاذ پر شفافیت کو ادارہ جاتی شکل دی گئی جہاں پبلک پروکیورمنٹ کے نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کروائی گئیں تاکہ سرکاری خریداری کے عمل کو قابلِ نگرانی اور بدعنوانی سے پاک بنایا جا سکے۔ ای-پروکیورمنٹ، آن لائن ٹینڈرنگ اور ڈیجیٹل آڈٹ ٹریل نے نہ صرف انسانی مداخلت کم کی بلکہ قومی خزانے کو اربوں روپے کے ممکنہ نقصان سے بچایا۔ اسی طرح ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے ٹیکس نظام کو شفاف بنانے پر توجہ دی گئی۔ نادرا، بینکنگ ڈیٹا اور دیگر اداروں کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا، ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی کی اور ایماندار ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو بحال کیا۔ کرپشن کے خلاف سب سے مثر ہتھیار معلومات کی شفافیت ہوتی ہے اور موجودہ حکومت نے اسی اصول پر چلتے ہوئے اوپن ڈیٹا پالیسی کو فروغ دیا۔ سرکاری منصوبوں، ترقیاتی فنڈز اور بجٹ کی تفصیلات کو عوامی دسترس میں دے کر یہ واضح پیغام دیا گیا کہ ریاستی وسائل پر عوام کا حق ہے۔احتسابی اداروں کی فعالیت میں توازن اور پیشہ ورانہ مہارت کو فروغ دینا بھی ایک اہم قدم رہا۔نیب سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں میں طریقہ ء کار کی اصلاح، شواہد پر مبنی تحقیقات اور قانونی تقاضوں کی پابندی نے احتساب کو سیاسی شور سے نکال کر ایک منصفانہ عمل بنانے کی سمت پیش رفت کی۔ عدالتی نظام کے ساتھ تعاون بڑھا کر مقدمات کے بروقت فیصلوں کی راہ ہموار کی گئی تاکہ احتساب صرف الزامات تک محدود نہ رہے بلکہ منطقی انجام تک پہنچے۔کرپشن کی روک تھام صرف سزا سے ممکن نہیں بلکہ نظام کی اصلاح سے ہوتی ہے۔اسی لیے موجودہ حکومت نے گورننس ریفارمز کو ترجیح دی۔ سول سروس میں کارکردگی پر مبنی نظام، ای-فائلنگ، ای-آفس اور ڈیجیٹل دستخط جیسے اقدامات نے سرکاری دفاتر میں تاخیر، سفارش اور رشوت کے امکانات کم کیے ہیں۔صوبوں کے ساتھ مل کر لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں۔صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال نے براہِ راست عوام تک سہولتیں پہنچائیں۔ احساس اور دیگر سماجی پروگراموں میں بائیومیٹرک تصدیق، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ڈیٹا بیس کے استعمال نے مستحقین تک امداد کی شفاف ترسیل کو ممکن بنایا جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے جیسے پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے معاہدوں کی شفافیت، آڈٹس اور پالیسی ریفارمز کی گئیں تاکہ مستقبل میں قومی خزانے پر بوجھ کم ہو، سرکاری اداروں میں خسارے کی وجوہات کو سامنے لا کر اصلاحی اقدامات کیے گئے۔ نجکاری یا ری اسٹرکچرنگ کے عمل میں شفاف طریقہ کار اپنایا گیا تاکہ قومی مفاد مقدم رہے۔میڈیا اور سول سوسائٹی کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے معلومات تک رسائی کے قوانین کو فعال کیا۔صحافیوں اور محققین کو ڈیٹا فراہم کر کے نگرانی کے عمل کو مضبوط کیا گیاکیونکہ ایک باشعور معاشرہ ہی بدعنوانی کے خلاف مضبوط دیوار بن سکتا ہے۔ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ، جیو ٹیگنگ اور عوامی فیڈبیک کے نظام متعارف کروائے گئے تاکہ منصوبے کاغذوں سے نکل کر حقیقی عوامی فائدے میں ڈھل سکیں۔ کرپشن کے خلاف بیانیے کو تعلیمی نصاب، تربیتی پروگراموں اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے معاشرتی سطح پر مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ دیانتداری کو سماجی طور پر فروغ ملے۔
ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں فیصلہ سازی میں شفافیت ہو اور عوام کو یہ یقین حاصل ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان ہی کی فلاح پر خرچ ہو رہا ہے کیونکہ بالآخر شفافیت اور احتساب محض حکومتی پالیسیاں نہیں بلکہ وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مستحکم، خوشحال اور خوددار پاکستان کی تعمیر ممکن ہے۔خارجہ محاذ پر بھی شفافیت نے پاکستان کے تشخص کو بہتر بنایا، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ اعتماد سازی میں مدد ملی، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے فورمز پر پیش رفت نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف سنجیدہ ہے۔ یہ تمام اقدامات محض فہرست نہیں بلکہ ایک سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو اقتدار کو جواب دہی سے جوڑتی ہے۔ موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات، عالمی دبا اور داخلی چیلنجز کے باوجود اصلاحات کا سفر ترک نہیں کیا بلکہ ثابت قدمی سے آگے بڑھایا۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ اصلاحات کے نتائج فوری نہیں ہوتے مگر سمت درست ہو تو منزل قریب آتی ہے۔عوامی سطح پر اعتماد کی بحالی، کاروباری ماحول میں بہتری اور ریاستی اداروں کی ساکھ میں اضافہ انہی اقدامات کا ثمر ہے۔آج اگر نوجوان ٹیکنالوجی کے ذریعے سرکاری خدمات تک رسائی حاصل کر رہا ہے، اگر کاروباری طبقہ قوانین کی وضاحت اور عملدرآمد دیکھ رہا ہے اور اگر عام شہری کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے تو یہ موجودہ حکومت کی شفاف حکمرانی کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔یہ کہنا بجا ہے کہ شفافیت اور احتساب کا یہ سفر ابھی جاری ہے مگر نیت، سمت اور اقدامات واضح ہیں۔ موجودہ حکومت نے ثابت کیا ہے کہ کرپشن کے خلاف جنگ محض تقریروں سے نہیں بلکہ نظام سازی، قانون کی بالادستی اور عوامی شمولیت سے لڑی جاتی ہے۔ قوم کو ایسے ہی سنجیدہ، دیانت دار اور وژنری اقدامات کی ضرورت ہے اور موجودہ حکومت اس راستے پر گامزن ہو کر قابلِ تحسین مثال قائم کر رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف آج کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، شفاف اور جواب دہ پاکستان کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔اسی مستقل مزاجی، دیانت اور عوام دوستی پر موجودہ حکومت واقعی داد کی مستحق ہے اور قوم کی جانب سے بھرپور اپریشی ایشن اس اعتماد کا اظہار ہے کہ پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
