پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں میں شدید چیلنجز کا سامنا کرنے کے بعد اب بحالی کی راہ پرگامزن ہےاور اسکی واضح علامات مختلف شعبوں میں نظر آنے لگی ہیں۔ حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانی کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات، پاکستان سٹاک ایکسچینج کی شاندار کارکردگی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کابڑھتا ہوااعتماداس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی معاشی منظرنامے میں دوبارہ اعتماد حاصل کر رہا ہے۔ EODB اصلاحات کے تحت حکومت نے کاروبار شروع کرنے، رجسٹریشن کے طریقہ کار، ٹیکس نظام کی آسانی،تعمیراتی اجازت ناموں کے حصول، بجلی کنکشن، پراپرٹی کی رجسٹری اور دیگر متعدد شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں جن کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے ماحول کو سازگار بنانا اور بیوروکریسی کی پیچیدگیوں کو کم کرنا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اب بہت سے کاروباری عمل آن لائن مکمل کیے جا سکتے ہیں جس سے وقت اور پیسے کی بچت ہوتی ہے اور بدعنوانی میں بھی کمی آتی ہے۔ سنگل ونڈو سسٹم کے قیام سے سرمایہ کاروں کو مختلف محکموں کے چکر نہیں لگانے پڑتے اور تمام ضروری خدمات ایک ہی جگہ سے حاصل ہوجاتی ہیں۔ خصوصی اقتصادی زونزمیں مزید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات کے ذریعے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سٹارٹ اپس اور چھوٹے کاروباروں کے لیے خصوصی پیکجز متعارف کرائےگئےہیں تاکہ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کی ترغیب ملے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی گزشتہ ماہ میں انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے اور KSE-100 انڈیکس نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے جوکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کےاعتماد کی واضح علامت ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سیاسی استحکام، مالیاتی پالیسیوں میں بہتری، انفلیشن میں کمی،شرح سودمیں کمی کی توقعات،ریمیٹینسزمیں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری شامل ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بہتری، آئی ٹی کی برآمدات میں اضافہ، زرعی پیداوار میں بہتری اور صنعتی شعبے کی بحالی بھی معیشت کو مثبت سمت دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہ رہےہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کی کامیاب تکمیل نے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی ساکھ بہتر کی ہے۔ ٹیکنالوجی اورخصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی صلاحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیاجارہا ہے ۔ فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ایکسپورٹس میں نمایاں اضافہ ہوا ہےجو نوجوان نسل کے لیے روزگار کے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بہتربیجوں کی فراہمی اور کاشتکاروں کو مالی سہولیات فراہم کرنے سے پیداوارمیں اضافہ ہو رہا ہے۔ توانائی کے بحران میں کمی،لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی اور متبادل توانائی کے ذرائع خصوصاً شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار میں سرمایہ کاری سے صنعتی شعبے کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں زراعت، صنعت اور معدنیات کے شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہےجوکہ طویل المدتی ترقی کی ضمانت ہے۔ برآمدات میں اضافے کے لیےحکومت کی جانب سے مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اورنئی منڈیوں تک رسائی کےلیےکوششیں جاری ہیں۔ ٹیکسٹائل،چمڑے کی مصنوعات، سپورٹس کے سامان اوردیگر روایتی برآمداتی اشیا کےساتھ ساتھ ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ بڑھے۔ قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سیاحت کے شعبےمیں بھی بہتری آ رہی ہے اورحکومت سیاحوں کےلیےسہولیات فراہم کرنے اور پاکستان کی خوبصورتی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے جو زرمبادلہ کمانے کا بہترین موقع ہے۔ تعلیم اور ہنرکی تربیت کے پروگراموں میں اضافہ کیا جا رہا ہےتاکہ نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت مل سکے اور وہ عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اوراگر یہ رفتاربرقراررہی توآنے والے برسوں میں پاکستان خطے کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی بہت سے چیلنجز موجودہیں جن میں بیرونی قرضوں کا بوجھ، تجارتی خسارہ، بجٹ خسارہ، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور سیاسی و معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنا شامل ہیں لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیاں اور اصلاحات درست سمت میں ہیں جو نہ صرف ان چیلنجز سےنمٹنےکی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ مستقبل میں پائیدار معاشی استحکام،سرمایہ کاری کے فروغ اورترقی کے نئے امکانات کی بنیاد بھی فراہم کر رہی ہیں ۔ اگرعوام اور حکومت مل کر کام کریں اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں تو پاکستان ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکتا ہےاور عوام کو معیار زندگی میں حقیقی بہتری کا احساس ہو سکتا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم پہلو پالیسیوں کا تسلسل ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا کہ اصلاحات کا آغاز تو ہوتا رہا مگر تسلسل کی کمی نےان کے اثرات کو محدود کر دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف پالیسیوں اور کاروبار دوست ماحول کو فروغ دیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایز آف ڈوئنگ بزنس کی اصلاحات محض عالمی درجہ بندی کا معاملہ نہیں رہتیں بلکہ قومی ترقی کی عملی ضرورت بن جاتی ہیں اور یہی اصلاحات جب اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ کار کے اعتماد میں ڈھلتی ہیں تو معیشت میں ایک مثبت تبدیلی جنم لیتی ہے جس میں ترقی، روزگار اور استحکام ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ پاکستان آج اسی مثبت چکر کے ابتدائی مگر امید افزا مرحلے میں کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں درست سمت میں اٹھائے گئے اقدامات اگربرقرار رہےتوملکی معیشت نہ صرف داخلی سطح پر مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاری نقشے پر بھی ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد منزل کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
