Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

سندھ میں کم سے کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے مقرر، یکم جولائی سے اطلاق ہوگا

سندھ حکومت نے کم سے کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا اہم فیصلہ کرتے ہوئے اسے 43 ہزار روپے مقرر کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر نئی کم از کم تنخواہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگی، جس سے لاکھوں مزدوروں اور ملازمین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

سعید غنی نے کہا کہ حکومت مزدور دوست پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور محنت کش طبقے کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق نئی تنخواہ کے نفاذ سے کارکنوں کو بڑھتی مہنگائی کے اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور ان کی مالی مشکلات میں کسی حد تک کمی آئے گی۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کو وفاقی انکم ٹیکس سے رعایت بھی دلوائی ہے۔ اس اقدام سے بورڈ کے مالی وسائل میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مزید فلاحی منصوبے شروع کیے جا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مزدوروں کے بچوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس وقت متعدد طلبہ ملک کے معروف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، جبکہ ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے براہ راست مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

سعید غنی کے مطابق حکومت نے صحت کے شعبے میں بھی اقدامات کیے ہیں اور سال 2023 کے دوران 240 ڈاکٹرز بھرتی کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں تاکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت مستقبل میں بھی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھے گی جو عام کارکن کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں