Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

علم کا سفیر اور محبت کا ترجمان

زندگی کے سفر میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض دوست نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے آئینے میں اپنے وجود کا چراغ روشن کر کے دوسروں کے راستے بھی منور کر دیتی ہیں۔ ڈاکٹر عرفان صدیقی انہی روشن روحوں میں سے ایک ہیں جن سے ملاقات محض ایک اتفاق نہیں بلکہ تقدیر کی ایک خوبصورت عنایت لگتی ہے۔ ان کے ساتھ گزرے لمحات، ان کی باتوں کی خوشبو اور ان کے علم کی روشنی نے نہ صرف میرے دل پر اثر چھوڑا بلکہ میری سوچ کو بھی ایک نیا زاویہ عطا کیا۔ جب بھی ان کا نام ذہن میں آتا ہے تو ایک وقار، ایک علمیت اور ایک نرمی کے احساس کے ساتھ دل میں روشنی سی بھر جاتی ہے۔ان سے میری دوستی محض رسمی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے جڑی ایک وابستگی ہے۔ میں اور ڈاکٹر عرفان صدیقی ایک ہی اخبار نوائے وقت میں کافی عرصہ اکٹھے لکھتے رہے ۔ وہ اس وقت بھی میری استاد کی طرح رہنمائی کرتے رہے۔ان کے قریب ہونے کا مطلب صرف علم کے دروازے پر دستک دینا نہیں بلکہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہونا ہےجہاں کردار، محبت، برداشت اور انسان دوستی ایک دوسرے کے ہم معنی بن جاتےہیں۔ میں نےزندگی میں بہت سے باکمال لوگ دیکھے، مگر ڈاکٹر عرفان صدیقی میں جو توازن، انکساری اور گہرائی ہے وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ان کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کی علم دوستی ہے۔ وہ علم کو محض کتابی حقائق تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ زندگی کے ہر لمحے کو ایک تجربہ مانتے تھے۔ وہ اس قافلے کےمسافر ہیں جو تعلیم کو تحقیق کے راستے سےگزارتا ہے اور ادب کو انسانیت کےجذبات سےجوڑتا ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں وہ گہرائی پیدا کی ہے جو محض ذہانت نہیں بلکہ اخلاص کی نشانی ہے۔ جب وہ کسی مقالے پرگفتگو کرتے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے الفاظ میں صرف علم نہیں بلکہ روح کی گرمی شامل ہے۔ وہ ہرموضوع کو اس طرح برتتے ہیں کہ سامعین کے دل میں مزیداحترام پیدا ہوجاتا۔ان کے ساتھ گزرا ہر لمحہ میری زندگی کاایک قیمتی باب ہے۔ میں نےان سےصرف علم نہیں بلکہ محبت کا سلیقہ بھی سیکھا۔ ان کے مزاج میں ایک خاص ٹھہراؤ ہے۔ وہ نہ غصے میں بولتے اور نہ ہی غرور میں۔ ان کی گفتگو میں کبھی تندی نہیں ہوتی، صرف دلیل، محبت اور نرمی ہوتی ہے۔ میں نے انہیں ہر حال میں متوازن پایا۔ کسی کامیابی پر تکبر نہیں، کسی مشکل میں شکوہ نہیں۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک استاد کو محض قابل نہیں بلکہ محترم بنا دیتی ہیں۔ ان کی ذات سے سیکھنے والا شخص صرف علم میں نہیں بلکہ اخلاق میں بھی ترقی پاتا ہے۔
ڈاکٹر عرفان صدیقی کی شخصیت میں جو سب سے حسین پہلو ہے، وہ ان کا ادب سے تعلق ہے۔ وہ لفظوں کو محض تحریر نہیں کرتے، انہیں جیتے ہیں۔ میں نے ان کے مضامین اور ان کی تحاریرمیں ایک ایسا ذوق محسوس کیا ہےجو قاری کو محض قائل نہیں کرتا بلکہ متاثر کر دیتا ہے۔ ان کی تحریر میں ایک ایسا درد اور محبت کا توازن ہے جو پڑھنے والے کو دیر تک سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ لفظوں میں احساس کی وہ خوشبو بھرتے ہیں جو صرف صاحبِ دل ادیبوں کا خاصہ ہے۔ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو اکثر ایک ذہنی محفل میں بدل جاتی ہے۔ کبھی کسی فلسفے پر بحث، کبھی کسی شاعر کے مصرعے پر تبصرہ، کبھی کسی نئی تحقیق پرخیال۔ ان کے ساتھ باتیں محض وقت گزارنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اندر کی روشنی بڑھانے کے لیے کی جاتی ہیں۔میں جب کبھی زندگی کی تھکن سے الجھتا ہوں تو ان کی باتیں یاد آتی ہیں۔ وہ اکثرکہا کرتےتھے:‘‘علم انسان کونرم بناتا ہے، سخت نہیں۔ اگر تمہارے علم نے تمہیں عاجزی نہیں سکھائی توتم نےعلم حاصل نہیں کیا، صرف الفاظ یاد کیے ہیں۔’’یہ جملہ میرے دل پر نقش ہے۔ وہ نصیحت کرتے نہیں، رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ سناتے نہیں، سمجھاتے ہیں۔ڈاکٹر عرفان صدیقی کی سادہ زندگی دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ اصل عظمت دکھاوے میں نہیں، بلکہ کردار کی گہرائی میں ہے۔ وہ اکثر عام لباس پہنتے، سادہ کھاتے،سادہ گفتگو کرتے، مگر ان کی سادگی کے اندر جو علم کی دولت چھپی ہے، وہ ہزاروں کتابوں سے بڑھ کر ہے۔ وہ علم کے ساتھ محبت کو لازم قرار دیتے اور محبت کے ساتھ خدمت کو۔ یہی وجہ ہےکہ ہرکوئی انکی قابلیت کےنہیں بلکہ انکے اخلاق کے بھی دلدادہ ہیں۔دوستی کے باب میں بھی وہ بے مثال ہیں۔ ان کے ساتھ دوستی کسی رشتہ دار سے بڑھ کر خلوص کا رشتہ ہے۔ انہوں نے کبھی وقت، مقام یا حیثیت کو دوستی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ میں نے انہیں ہمیشہ ایک جیسے خلوص سے پیش آتے دیکھا۔ وہ اپنے دوستوں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان کے غم میں خاموشی سے شریک۔ وہ اظہار کے بجائے احساس کے قائل ہیں۔ میں نے جب بھی انہیں کسی تقریب میں دیکھا، وہ مرکزِ توجہ ہونے کے باوجود عاجز رہے۔ وہ جانتے تھےکہ علم کےدرخت پر پھل تب ہی آتا ہےجب اس کی جڑیں زمین میں رہیں۔ ان کے لیے ہر شخص قابلِ احترام ہے چاہے شاگرد ہو، دوست ہو یا ہم عصر۔اگر کبھی وقت اجازت دیتاتو ان کے ساتھ چائے پر بیٹھ کر باتیں سننا خود ایک روحانی تجربہ ہے۔
وہ محبت جو دوسروں کو سہارا دے، جو دلوں کو جوڑے، جو اندھیروں میں روشنی بنے۔ ڈاکٹر عرفان صدیقی اس روشنی کے امین ہیں۔ جب کبھی میں اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو ڈاکٹر عرفان کے ساتھ گزرا ہر لمحہ ایک خزانے کی طرح لگتا ہے۔ وہ دوستی جو علم سے شروع ہوئی، آج احترام، عقیدت اور محبت کے سنگم پر پہنچ چکی ہے۔ ان کی باتیں، ان کی مسکراہٹ، ان کا خلوص سب کچھ آج بھی دل کے آس پاس گردش کرتا ہے۔ میں فخر سے کہتا ہوں کہ میری زندگی کی سب سے بڑی کمائی ان جیسے دوست کا ہونا ہے۔وقت گزر جائےگا، یادیں دھندلا جائیں گی، مگر ڈاکٹر عرفان صدیقی جیسے لوگ ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ وہ انسان کے اندر کی روشنی کو جگاتے ہیں، اسے بہتر بناتے ہیں۔ وہ دوست نہیں، ایک درس ہیں؛ ایک ایسی کتاب جو زندگی کے ہر باب کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں