تھور (نیوز ڈیسک)شمالی علاقہ جات کے دور افتادہ علاقے ’تھور‘ اور اس کے گردونواح میں کلاؤڈ برسٹ (آسمانی بجلی کے ساتھ اچانک ہولناک بارش) کے باعث آنے والے شدید سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
تھور میک اور تھور اینگر سمیت متعدد دیہات میں خشک پہاڑیوں سے اچانک آنے والے سیلابی ریلے کی زد میں آ کر مقامی مسجد، رہائشی مکانات، مال مویشی، کھڑی فصلیں اور قیمتی سامان بہہ گیا ہے، جبکہ سیلابی ملبہ سڑکوں پر آنے سے علاقے کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق تھور میک میں واقع ایک مقامی مسجد سیلابی ریلے کی لہروں کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تھور اینگر کے مقام پر خشک پہاڑی سے اچانک پھوٹنے والے غیر متوقع سیلابی ریلے نے مقامی آبادی کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا اور ہر طرف تباہی پھیلا دی۔ ریلے کے راستے میں آنے والی املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
رہائشی مکان، گاڑی اور ‘200’ گرام سونا سیلاب کی نذر
سیلاب کی تباہ کاریاں اس حد تک شدید تھیں کہ ایک پورا رہائشی مکان، اس میں موجود قیمتی سامان اور ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔
مقامی افراد کے لیے سب سے بڑا مالی دھچکا یہ تھا کہ ’گولڈ پلیسر‘ (مقامی ندی نالوں سے ریت چھان کر سونا نکالنے کا طریقہ) کے ذریعے محنت سے نکالا گیا تقریباً 200 گرام سونا اور بھاری نقد رقم بھی سیلابی پانی اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ اس کے علاوہ متعدد مال مویشی بھی ریلے میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
سیلاب کا پانی صرف رہائشی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ تھور شیتن اور تھور میک سمیت متعدد قریبی مقامات پر سیلابی ریلے وسیع پیمانے پر کھیتوں میں داخل ہو گئے۔
اس کے نتیجے میں تیار کھڑی فصلوں اور قیمتی زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی کسانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
علاوہ ازیں، سیلاب کے ساتھ آنے والے بھاری ملبے اور پتھروں کے باعث تھور کو دیگر علاقوں سے ملانے والی مرکزی رابطہ سڑک بلاک ہو چکی ہے اور آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہے۔
امدادی کارروائیوں میں مشکلات اور مقامی افراد کی دہائی
میڈیا رپورٹس کے مطابق رابطہ سڑکیں منقطع ہونے اور مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے سرکاری امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال میں پھنسے ہوئے مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں اور ملبے تلے دبے سامان کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
متاثرین نے حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں سے فوری فضائی یا متبادل راستوں سے امداد پہنچانے کی اپیل کی ہے۔
مزید پڑھیں۔ٹنڈو محمد خان: کار پر فائرنگ، پیپلز پارٹی رہنما غلام نبی مگسی اور اہلیہ جاں بحق




