دنیا کےہر معاشرےمیں کچھ ایسےادوار آتےہیں جب حالات کی سنگینی قوموں کو جھنجھوڑ کررکھ دیتی ہےاورانہیں مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنی سمت کا ازسرِنو تعین کریں، اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیں، اپنےاجتماعی وجود کو لاحق خطرات کو پہچانیں اوریہ فیصلہ کریں کہ اب کی بار غلطی یا تاخیر کی گنجائش نہیں۔ پاکستان بھی ایک ایسے ہی دور سے گزرا، جب دہشت گردی اور انتہا پسندی نے نہ صرف ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عوام کے ذہنوں سے امن و سکون کا تصور تک چھین لیا۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرا کہ کیا پاکستان اسی آگ میں جلتا رہے گا یا پھر پوری قوم مل کر ایک ایسا راستہ اختیار کرے گی جو آنے والی نسلوں کو خون، خوف اور عدم استحکام کے چنگل سے نجات دلا سکے؟ اسی فکری اضطراب، اسی قومی تکلیف، اسی اجتماعی احساسِ ذمہ داری نے قومی ایکشن پلان کی بنیاد رکھی، جس نے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے، شدت پسندی کے سدِ باب اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے ایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی فراہم کی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی پاکستان کی قومی سلامتی، معاشرتی ہم آہنگی، ریاستی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے مسلسل چیلنج رہے ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان نے جس پیمانے پر دہشت گردی کا سامنا کیا، اس کی مثال پوری دنیا میں کم ملتی ہے۔ بیرونی مداخلت، اسلحے کا پھیلا، غیر ریاستی عناصر کی مضبوطی، کمزور سرحدی نظام، ریاستی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے والے گروہ، مذہبی انتہاپسندی، فرقہ واریت، معاشی ناہمواری، تعلیمی کمزوریاں، غربت، بے روزگاری اور انصاف کے غیر مثر نظام نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں دہشت گردی نے جڑیں مضبوط کیں اور شدت پسندی نے نوجوانوں کو اپنے بیانیے کا شکار بنایا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اس المناک واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کو جزوی اقدامات، وقتی حکمت عملیوں یا سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن، جامع اور ہمہ جہتی ریاستی منصوبہ بندی سے ہی ختم کیاجاسکتا ہے۔ اسی کے تحت قومی ایکشن پلان تشکیل دیاگیا جس نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کےلیے بیس نکات پر مشتمل ایک روڈمیپ دیا۔ نیشنل ایکشن پلان کا بنیادی مقصد نہ صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ تھا بلکہ اس انتہا پسند ذہنیت اور فکری بنیادوں کو ختم کرنا بھی تھا جو کسی فرد یا گروہ کو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرتی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے نکات میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کا خاتمہ، مدارس اصلاحات، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلنے والی انتہاپسندی کی روک تھام، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اقدامات، بارڈر مینجمنٹ، پولیس اور انسداد دہشت گردی اداروں کی مضبوطی،نیکٹا کی فعال کاری، سفری و رہائشی دستاویزات کی سخت جانچ پڑتال، غیرقانونی ہتھیاروں کی روک تھام، سول عدالتوں سےدہشت گردی کےمقدمات کا جلد فیصلہ، گواہان کے تحفظ کا نظام، کراچی آپریشن اور قبائلی علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی شامل تھے۔ یہ اقدامات پاکستان میں دہشت گردی کی شرح میں نمایاں کمی لائے، بڑے شہروں میں امن بحال ہوا، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوااور عوام نے کچھ عرصہ بعدامن کی بحالی کو محسوس کیا۔ مگر اس کے باوجود کئی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ شدت پسندی کا بیانیہ سوشل میڈیا کے ذریعے نئی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ کئی گروہ آن لائن پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرقہ واریت کے آثار اب بھی مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ معاشی مشکلات اور بے روزگاری نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کی ہے جس کا فائدہ دشمن قوتیں اٹھا سکتی ہیں۔ پولیس اصلاحات کا عمل سست ہے، عدالتی نظام بدستور تاخیر اور پیچیدگیوں کا شکار ہے، گواہوں کے لیے مکمل تحفظ کا نظام نہیں اور مدارس اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
بھارت اور افغانستان کی بدلتی سیاسی و سکیورٹی صورتحال پاکستان کی داخلی امن پالیسی پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ غیر ریاستی عناصر کو بیرونی مدد ملنے کے امکانات بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اسی لیے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صرف کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ایک مضبوط، پرامن اور بااعتماد معاشرتی ڈھانچے کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے ریاست، اداروں، علما، اساتذہ، والدین، میڈیا، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو مشترکہ طور پراپناکردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوان پاکستان کی سب سے بڑی آبادی ہیں، اسی وجہ سے شدت پسند عناصر انہی کو سب سے پہلے نشانہ بناتے ہیں۔ لہذا نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار کے مواقع، مثبت سرگرمیاں، کھیلوں اور جدید علوم میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔ میڈیا کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ سنسنی خیزی، غلط خبریں اور شدت پسند بیانات کی تشہیر معاشرتی انتشار کو بڑھاتی ہے۔ میڈیا کو امن، اعتدال، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق اور قومی یکجہتی کے بیانیے کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اسی طرح علما کرام کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مذہبی ہم آہنگی، برداشت، امن، رواداری اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ریاست کو بھی اپنی حکمرانی بہتر کرنی ہوگی، کرپشن کے خاتمے، انصاف کی بروقت فراہمی اور قانون کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد بنانے کی ضرورت ہے۔ جب ریاست مضبوط، شفاف اور قابل اعتماد ہوتی ہے تو معاشروں میں شدت پسندی خود بخود کم ہوتی ہے۔ قومی ایکشن پلان کی کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز سیاسی تسلسل ہے۔ اگر ہر حکومت اپنا الگ بیانیہ بنائے، پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو، یا دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو مستقل امن ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں ہر سطح پرایک جیسا عزم ضروری ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں بہت قربانیاں دیں، ہزاروں شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، اربوں روپے کا معاشی نقصان ہوا، مگر قوم نے ثابت کیا کہ اگر ہم متحد ہو کر کھڑے ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ آج بھی ضرورت یہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو ایک زندہ دستاویز سمجھ کر مسلسل اس پر عمل کیا جائے، اداروں کو مضبوط بنایا جائے، انتہا پسندی کے بیانیے کا فکری مقابلہ کیا جائے، نوجوانوں کو روشن مستقبل دیا جائے، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، معیشت کو مضبوط کیا جائے، انصاف کو یقینی بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر پوری قوم متحد ہو کر یہ طے کرے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اس سرزمین میں کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا۔ قومی ایکشن پلان پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانے کا راستہ ہے،بشرطیکہ اسے تسلسل، سنجیدگی اور قومی عزم کے ساتھ جاری رکھا جائے۔