اسلام آباد: پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے امکانات ایک بار پھر مضبوط ہو گئے ہیں کیونکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ چند ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 75 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گیا ہے، جس کے بعد پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں 22 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز دی جا سکتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 42 روپے فی لیٹر تک کمی کی سفارش زیر غور ہے۔ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو یہ حالیہ برسوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمیوں میں سے ایک ہو گی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف عام شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہونے سے اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل بھی نسبتاً سستی ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی آنے کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ حکومت ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 27 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔ اگر اس تجویز کو حتمی منظوری ملتی ہے تو صارفین کو ملنے والے ممکنہ ریلیف کی شرح کم ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ رسد میں بہتری اور خطے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی ہے۔ یہی عوامل پاکستان سمیت ان ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے نئی قیمتوں کا حتمی اعلان آئندہ جائزہ اجلاس کے بعد متوقع ہے، جس کا عوام اور کاروباری حلقوں کو بے چینی سے انتظار ہے۔

