جدہ: سعودی کابینہ نے سعودی عرب ٹریننگ ویزا متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری آمدنی کے نئے قانون (اسٹیٹ ریونیو لا) کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ فیصلہ ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق نیا ٹریننگ ویزا منظور شدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت غیر ملکی تربیت کاروں اور متعلقہ افراد کو جاری کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مختلف شعبوں میں بین الاقوامی مہارتوں کے تبادلے اور تربیتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی حالیہ ٹیلیفونک گفتگو سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
کابینہ کو کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ ہونے والے سرکاری مذاکرات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ دونوں ممالک نے سعودی وژن 2030 اور کینیڈا کے اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے مطابق مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں سعودی کینیڈین کوآرڈینیشن کونسل کے قیام، توانائی کے شعبے میں تعاون، مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں سرمایہ کاری اور مہارتوں کی ترقی سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں کو بھی سراہا گیا۔
مزید برآں سعودی کینیڈا انویسٹمنٹ فورم کے نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا گیا کہ مائننگ، انفراسٹرکچر، تعلیم، مالیاتی خدمات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے ہیں۔
اجلاس میں علاقائی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں خلیج ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور خطے کے مختلف ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی مذمت کی گئی۔ کابینہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور علاقائی امن کے خلاف ہر اقدام کو مسترد کرتا ہے۔

