Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

گو پٹرولیم کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، اربوں روپے کی مبینہ ٹیکس چوری بے نقاب

کراچی: گو پٹرولیم کے خلاف ایف آئی اے کریک ڈاؤن کے بعد مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ٹیکس چوری کا ایک بڑا معاملہ سامنے آ گیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کمپنی اور اس کے بعض عہدیداروں کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکسز اور پیٹرولیم لیوی چوری کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق گو پٹرولیم کے خلاف ایف آئی اے کریک ڈاؤن اس وقت شروع کیا گیا جب بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں مبینہ بے ضابطگیوں کے شواہد سامنے آئے۔ تحقیقاتی حکام کا مؤقف ہے کہ بانڈڈ پیٹرولیم مصنوعات کو قواعد و ضوابط کے برعکس مارکیٹ میں فروخت کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

مقدمے میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیت متعدد افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کی مزید جانچ جاری ہے۔

 

ذرائع کے مطابق مقدمہ کسٹمز ایکٹ، تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ بدعنوانی سے متعلق قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے مختلف سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ قومی خزانے کو پہنچنے والے مجموعی مالی نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق تمام ریکارڈ اور دستاویزات کی چھان بین بھی تیز کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ کیس میں مزید اہم انکشافات بھی متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں