Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

جب تدبیر نے تقدیر بدل دی

تاریخِ عالم اس اٹل حقیقت کی بارہا گواہی دیتی ہے کہ جنگوں کا فیصلہ محض ہتھیاروں کی کثرت، فوجی تعداد یا ظاہری طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ اصل کامیابی ان اقوام کے حصے میں آتی ہے جو حکمتِ عملی، اتحاد، نظم و ضبط اور بروقت فیصلہ سازی کو اپنی اصل قوت بناتی ہیں۔ یہی اصول ہمیں غزوہ بدر سے لے یرموک اور پھر جدید دور کی عالمی جنگوں تک ہر جگہ کارفرما نظر آتا ہے جہاں کم وسائل رکھنے والی مگر منظم اور باحوصلہ قوتوں نے بڑے بڑے حریفوں کو شکست دی۔اب یہی اصول آج کے اس پیچیدہ اور تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے جہاں جنگیں صرف زمینی یا فضائی محاذ تک محدود نہیں رہیں بلکہ معلومات، سائبر ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور بیانیے کے میدان بھی اتنے ہی اہم ہو چکے ہیں، اسی تاریخی تسلسل میں جب 2026 ء میں سامنے آنے والی ایک اہم رپورٹ، جو Observer Research Foundation (ORF) سے منسوب ہے اور اس کے بعد امریکی دفاعی و حربی حلقوں کے تجزیات منظرعام پر آئے تو انہوں نے جنوبی ایشیاء کے ایک اہم عسکری مرحلے، یعنی بھارت کے مبینہ ’’آپریشن سندور‘‘کی ناکامی کو ایک واضح اور غیر مبہم انداز میں پیش کیا۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسے تزویراتی تصادم کی عکاسی تھی جس میں عددی برتری، جدید اسلحہ اور وسائل رکھنے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ کئے جا سکے اور اس کے برعکس پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور معلوماتی برتری کے ذریعے ایک نمایاں فوقیت حاصل کی۔
رپورٹ میں اس امر کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا کہ اگرچہ بھارت کے پاس وسائل اور فوجی تعداد موجود تھی مگر میدانِ عمل میں فیصلہ کن عنصر وہ نہ بن سکا بلکہ پاکستان کی مربوط حکمتِ عملی، موثر قیادت اور بین الخدماتی تعاون نے حالات کا رخ موڑ دیا۔ یہ حقیقت جدید عسکری اصولوں کے عین مطابق ہے جہاں مشترکہ آپریشنز اور مختلف افواج کے درمیان ہم آہنگی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج نے جس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہو کر کام کیا وہ نہ صرف اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر تھا بلکہ ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کی عکاسی بھی کرتا تھا۔ یہی وہ عنصر ہے جو کسی بھی فوج کو محض ایک دفاعی قوت سے بڑھا کر ایک موثر اور فیصلہ کن طاقت میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ معلوماتی نظم و نسق، جو آج کی ہائبرڈ جنگوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کے حق میں ایک فیصلہ کن عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ امریکی تجزیات میں جس پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا وہ ’’حربی حیرت‘‘یا tactical surprise تھا جس کے تحت پاکستان نے اپنی الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتوں کو اس مہارت سے استعمال کیا کہ مخالف قوت کو غیر متوقع دبا کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کو ’’حربی اور عملی دھچکوں‘‘کا سامنا اس لئے بھی کرنا پڑا کیونکہ پاکستان کی الیکٹرانک جیمنگ نے اس کی مواصلاتی اور فضائی صلاحیتوں کو شدید متاثر کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب جدید ترین تصور کیے جانے والے بھارتی رافیل طیارے بھی اپنی مکمل صلاحیت بروئے کار نہ لا سکے۔ یہ صورتحال اس امر کی واضح دلیل ہے کہ جدید جنگ میں صرف جدید ہتھیار کافی نہیں بلکہ ان کے موثر استعمال اور دشمن کی صلاحیتوں کو غیر موثر بنانے کی حکمتِ عملی زیادہ اہم ہوتی ہے۔اس پورے منظرنامے میں سب سے نمایاں پہلو پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، تربیت اور عزم ہے کیونکہ کسی بھی ٹیکنالوجی یا حکمتِ عملی کی کامیابی کا دارومدار بالآخر ان افراد پر ہوتا ہے جو اسے عملی جامہ پہناتے ہیں۔پاکستان کے سپاہیوں اور افسران نے جس جرت، مہارت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر مضبوط ہے بلکہ قومی جذبے سے بھی سرشار ہے۔ اگر ہم پاکستان کی عسکری تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کامیابی کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں قربانیاں، محنت اور مسلسل بہتری کی کوشش شامل ہے۔قیامِ پاکستان کے فورا بعد ہی اس ملک کو جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
محدود وسائل، نوزائیدہ ادارے اور ایک طاقتور حریف کے باوجود پاکستان نے نہ صرف اپنا دفاع مضبوط بنایا بلکہ ہر دور میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر کیا۔ 1965 ء اور 1971 ء کی جنگوں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک پاکستان کی افواج نے ہر میدان میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا۔ جدید دور میں جب جنگ کے تقاضے بدل چکے ہیں تو پاکستان نے بھی خود کو ان تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے، چاہے وہ سائبر وارفیئر ہو، الیکٹرانک جیمنگ ہو یا معلوماتی برتری، ہر میدان میں پاکستان نے اپنی موجودگی کو مضبوط بنایا ہے۔ مزید برآں پاکستانی فوج کا کردار صرف جنگی میدان تک محدود نہیں بلکہ قومی استحکام، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں اور عالمی امن مشنز تک پھیلا ہوا ہے جس سے اس ادارے کی ہمہ جہتی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو اسے ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ادارہ بناتی ہے۔ اس تمام پس منظر میں جب عالمی سطح پر ایسے تجزیات سامنے آتے ہیں جو پاکستان کی برتری کو تسلیم کرتے ہیں تو یہ نہ صرف عسکری سطح پر ایک اہم پیش رفت ہوتی ہے بلکہ قومی سطح پر بھی ایک حوصلہ افزا پیغام دیتی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اگر درست حکمتِ عملی، مضبوط قیادت اور قومی اتحاد موجود ہو تو بڑی سے بڑی طاقت کو بھی موثر انداز میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو پاکستان کے دفاعی نظام کی اصل روح کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ صرف ہتھیاروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک منظم فکر، ایک مربوط نظام اور ایک زندہ قوم کے عزم کا مظہر ہے۔آج کے اس پیچیدہ عالمی منظرنامے میں جہاں ہر لمحہ نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں وہاں پاکستان کی یہ کامیابی نہ صرف ماضی کی ایک جھلک ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح سمت بھی متعین کرتی ہے۔یہ ہمیں سبق دیتی ہے کہ قومی یکجہتی، ادارہ جاتی مضبوطی اور جدید حکمتِ عملی کے امتزاج سے ہی استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے اور پاکستان اپنی روایات، اپنی قربانیوں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ اسی راستے پر پراعتماد انداز میں آگے بڑھ رہا ہے ایک ایسی قوم کے طور پر جو نہ صرف اپنے دفاع سے آگاہ ہے بلکہ اپنے مستقبل کے بارے میں بھی پرعزم ہے۔ یہی عزم، یہی اتحاد اور یہی حکمتِ عملی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قوم کو تاریخ میں ایک باوقار مقام عطا کرتے ہیں اور پاکستان اس سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں