Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

بلوچستان جعلی سم اسکینڈل، پنجاب کے شہریوں کے نام پر ہزاروں سمیں فعال ہونے کا انکشاف

اسلام آباد: بلوچستان جعلی سم اسکینڈل سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق بلوچستان میں بعض فرنچائزز نے پنجاب کے شہریوں کے نام پر غیر قانونی طور پر ہزاروں موبائل سمیں رجسٹر کر کے فعال کر دیں۔ رپورٹ میں ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی 7 موبائل فرنچائزز نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے شناختی کوائف استعمال کرتے ہوئے تقریباً 2 ہزار سمیں جاری کیں۔ تحقیقات میں یہ عمل فراڈ قرار دیے جانے کے باوجود متعلقہ فرنچائزز کے خلاف صرف شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ نہ مقدمات درج کیے گئے اور نہ ہی کوئی مالی جرمانہ عائد کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دو ٹیلی کام کمپنیوں پر ایک ارب 88 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے بھی عائد کیے گئے تھے، تاہم ان فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کے باعث ریگولیٹری نظام کی مؤثریت پر بھی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

بلوچستان جعلی سم اسکینڈل کے حوالے سے آڈٹ حکام نے خبردار کیا ہے کہ منظم انداز میں جعلی سموں کی رجسٹریشن قومی سلامتی، سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں مؤثر نگرانی اور سخت قانونی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

آڈٹ حکام نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بقایا جرمانوں کی فوری وصولی یقینی بنائی جائے، ذمہ دار افراد اور فرنچائزز کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں