اسلام آباد: 2026 کا مکمل سورج گرہن آئندہ ماہ 12 اگست کو ہوگا، جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جائے گا اور دنیا کے مختلف علاقوں میں دن کے وقت چند منٹ کے لیے سورج جزوی یا مکمل طور پر چھپ جائے گا۔ اس نایاب فلکیاتی مظہر کا دنیا بھر کے ماہرین فلکیات اور شوقین افراد بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ گرہن گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی روس، اسپین، پرتگال اور یورپ کے متعدد علاقوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا، جبکہ افریقہ، شمالی امریکا، بحر اوقیانوس، آرکٹک اوقیانوس اور بحرالکاہل کے مختلف حصوں میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔
2026 کا مکمل سورج گرہن پاکستان، بھارت، چین، ایران، افغانستان اور سری لنکا سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں دکھائی نہیں دے گا، کیونکہ اس وقت ان علاقوں میں رات ہوگی۔
فلکیاتی حساب کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق سورج گرہن رات 8 بج کر 34 منٹ پر شروع ہوگا، جبکہ مکمل مرحلہ رات 9 بج کر 58 منٹ پر ہوگا۔ گرہن کا مرکزی مرحلہ رات 11 بج کر 34 منٹ تک جاری رہے گا، جبکہ جزوی گرہن رات 12 بج کر 58 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو کسی بھی صورت براہِ راست آنکھوں سے نہ دیکھا جائے، کیونکہ اس سے بینائی کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گرہن کا مشاہدہ صرف منظور شدہ سولر فلٹرز یا خصوصی سورج گرہن کے چشموں کے ذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں تقریباً تین دہائیوں بعد مکمل سورج گرہن دیکھا جائے گا، جس کی وجہ سے دنیا بھر سے ہزاروں سیاح اور فلکیات کے شوقین افراد اس منفرد فلکیاتی منظر کے مشاہدے کے لیے مختلف ممالک کا رخ کریں گے۔


