کراچی: ایرانی ریال کی قیمت ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایرانی کرنسی میں نمایاں گراوٹ سامنے نہیں آئی، جس کے بعد پاکستانی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ایرانی ریال میں سرمایہ کاری اب بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں۔
حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کے باعث ایرانی ریال کی قدر میں بہتری دیکھی گئی تھی، جس کے بعد پاکستان میں متعدد افراد نے محدود پیمانے پر ایرانی ریال خرید کر سرمایہ کاری کی۔ اب خطے میں دوبارہ بڑھتے تناؤ کے بعد سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں محتاط نظر آ رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کے باوجود ایرانی ریال اپنی نسبتاً مضبوط پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ سرکاری شرح مبادلہ کے مطابق 100 پاکستانی روپے تقریباً 487,555 ایرانی ریال (IRR) کے برابر ہیں۔
اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ (10 ملین) ایرانی ریال پر مشتمل ایک پیکٹ تقریباً 7,500 سے 8,000 پاکستانی روپے میں فروخت ہو رہا ہے، تاہم کراچی، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں اس کی قیمت میں معمولی فرق دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی شرح مبادلہ 13 لاکھ 55 ہزار 322 ریال جبکہ ایک برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں 18 لاکھ 16 ہزار 433 ریال ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو علاقائی سیاسی صورتحال، بین الاقوامی پابندیوں، مرکزی بینک کی پالیسیوں اور شرح مبادلہ میں ممکنہ تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ ان عوامل کے باعث کرنسی کی قدر میں تیزی سے اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ایران پر حملوں سے قبل ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 2 ہزار روپے کے قریب تھی، جبکہ بعد ازاں اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

