Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد

پچھلی کئی دہائیوں کی عالمی اور علاقائی تاریخ اس حقیقت کو بار بار دہراتی ہے کہ جب طاقت کا توازن بگڑتا ہے، جب خطوں میں بڑی طاقتوں کی مداخلت بڑھتی ہے اور جب سیاسی مفادات انسانی زندگیوں سے زیادہ اہم سمجھے جانے لگتے ہیں تو پھر اس کے نتائج صرف ریاستی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام انسان کی روزمرہ زندگی، اس کے خواب، اس کی امیدیں اور اس کا مستقبل بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان ایک ایسے جغرافیے میں ابھرا جہاں اسے ابتدا ہی سے پیچیدہ حالات کا سامنا رہا۔یہ وہ دور تھا جب جنگ صرف میدانوں تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ یہ ذہنوں میں، نظریات میں، سماجی رویوں میں اور معلوماتی بیانیوں میں پھیل چکی تھی۔ افغانستان کی جنگ، خطے میں غیر ریاستی عناصر کا پھیلا، اسلحے کی آزادانہ گردش اور عالمی طاقتوں کے مختلف ایجنڈوں نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں امن کمزور اور خوف غالب ہوتا چلا گیا۔ پاکستان چونکہ اس پورے خطے کا مرکزی ملک تھا اس لیے اس کے اثرات سب سے زیادہ اسی کو بھگتنے پڑے۔ ایک طرف سرحدی علاقوں میں بے چینی بڑھی، دوسری طرف بڑے شہروں میں عدم تحفظ کا احساس گہرا ہوتا گیا اور تیسری طرف ریاستی اداروں کو ایک ایسے دشمن کا سامنا کرنا پڑا جس کی کوئی واضح شکل نہیں تھی۔ یہی وہ تاریخی پس منظر ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے جنم لیا۔پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ محض ایک عسکری مہم نہیں بلکہ ایک قومی بقاء، داخلی استحکام اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کی جنگ ہے کیونکہ یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی گئی بلکہ شہروں، گلیوں، تعلیمی اداروں، مساجد، بازاروں اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بھی اس کے اثرات محسوس کئے گئے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس موضوع کو محض سیاسی یا عسکری بحث سے نکال کر ایک قومی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ بنا دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ جنگ پاکستان کی جنگ ہے، تو یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف ہے۔
پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں جس شدت کے ساتھ دہشت گردی کا سامنا کیا وہ دنیا کے بہت کم ممالک کے حصے میں آیا۔ فوجی آپریشنز ہوں یا انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں، نیشنل ایکشن پلان ہو یا سرحدی انتظامات کی بہتری، ہر سطح پر ریاست نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا، غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہوئی، تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیااور ایک پورا معاشرتی ڈھانچہ عدم تحفظ کا شکار رہا لیکن اس سب کے باوجود پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھا کیونکہ ریاستی شعور کا تقاضا بھی یہی تھا کہ اگر اس خطرے کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اس جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، قوم یا ملک نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے لئے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان کو اکثر اوقات اس جنگ میں تنہا سمجھا گیا یا اس کی قربانیوں کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے اندرونی علاقوں کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کیے بلکہ خطے میں امن کے لئے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ قبائلی علاقوں میں آپریشنز، کراچی میں ٹارگٹڈ کارروائیاں، بلوچستان میں سکیورٹی اقدامات اور ملک بھر میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کی بہتری اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔موجودہ حالات میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کافی حد تک پیش رفت کی ہے۔مگر خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ کچھ عناصر اب بھی خفیہ طور پر سرگرم ہیں اور وقتا فوقتا صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے اس جنگ کو ایک مسلسل عمل سمجھنا ہوگا نہ کہ ایک وقتی مہم۔ آئندہ نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کا سوال صرف امن و امان تک محدود نہیں بلکہ اس میں تعلیم، روزگار، معاشی استحکام اور فکری تربیت بھی شامل ہے کیونکہ اگر نوجوان نسل کو مثبت سمت نہ دی جائے تو وہ منفی نظریات کا شکار ہو سکتی ہے۔اس لئے ریاست کی ذمہ داری صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوتی ہے جس میں اسکول، کالج، میڈیا، مذہبی ادارے اور سول سوسائٹی سب شامل ہوں۔
پاکستان نے اس سمت میں کئی اقدامات کئے ہیں مگر ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف ایک نسل کی نہیں بلکہ کئی نسلوں کی جنگ ہے۔ اس جنگ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بھی متاثر کیا ہے کیونکہ عالمی تعلقات میں سکیورٹی ایک اہم عنصر بن چکا ہے۔ اسی طرح داخلی سیاست میں بھی اس کے اثرات واضح ہیں کیونکہ قومی سلامتی کے سوال پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود ایک بنیادی اتفاق پایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ اس جنگ نے پاکستان کے اداروں کو مضبوط کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اگر پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل دینا چاہتا ہے تو اسے صرف بندوق کی نظر سے نہیں بلکہ ایک فکری، معاشی اور سماجی جنگ کے طور پر دیکھنا ہوگااور یہی وہ نکتہ ہے جہاں ریاست، معاشرہ اور ادارے ایک مشترکہ مقصد کے لئے یکجا ہوتے ہیں۔ نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پاکستان کی اپنی بقا، سلامتی اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کی جنگ ہے اور جب تک یہ مقصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتا یہ جدوجہد جاری رہے گی کیونکہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے آج قربانی دینے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ آخر میں یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ایک فوجی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی، فکری اور اجتماعی چیلنج ہے اور اس کا حل بھی اسی وقت ممکن ہے جب ہم سب مل کر ایک مشترکہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں تبھی کامیاب ہوتی ہیں جب وہ مشکل وقت میں متحد ہو جائیں۔پاکستان کے لئے بھی یہی راستہ ہے کہ وہ ماضی کے تجربات سے سیکھ کر مستقبل کے لئے ایک ایسا نظام تشکیل دے جو آنے والی نسلوں کو محفوظ، باوقار اور پرامن زندگی فراہم کر سکے۔ یہی اس جنگ کا اصل مقصد ہے اور یہی ایک محفوظ پاکستان کی ضمانت بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں