پاکستان کی اصل قوت صرف اس کے جغرافیے، آبادی یا عسکری صلاحیت میں نہیں بلکہ اس اخلاقی وژن میں ہے جس کی بنیاد پر یہ ملک وجود میں آیا اور اس وژن کا ایک لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس سرزمین پر بسنے والا ہر شہری، خواہ اس کا عقیدہ، عبادت گاہ، مذہبی روایت یا تہذیبی پس منظر کچھ بھی ہو، خود کو محفوظ، محترم اور قومی دھارے کا باعزت حصہ محسوس کرے، کیونکہ ریاستیں صرف آئینی دفعات سے نہیں بلکہ اجتماعی مزاج، باہمی برتا، انصاف پسند اداروں اور ایسی سماجی فضا سے مضبوط ہوتی ہیں جس میں اکثریت اپنی عددی برتری کو تسلط کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ ذمہ داری سمجھے اور اقلیتیں اپنے وجود کو خوف، محرومی یا بے یقینی کے بجائے اعتماد، وقار اور قانونی تحفظ کے ساتھ جئیں، یہی وہ نکتہ ہے جہاں بین المذاہب قربت کا تصور محض ایک سماجی اصطلاح نہیں رہتا بلکہ قومی استحکام، داخلی سکون، اخلاقی بلوغت اور ریاستی ساکھ کا بنیادی ستون بن جاتا ہے۔ اس لئے لازم ہے کہ ہم اس معاملے کو رسمی بیانات، تقریباتی جملوں یا نمائشی مکالموں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے تعلیمی ڈھانچے، سیاسی بیانیے، مذہبی خطابات، میڈیا کے رویوں، خاندانی تربیت، شہری شعور اور اجتماعی ترجیحات کا باقاعدہ حصہ بنائیں، کیونکہ جب گھروں میں بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ دوسرا انسان اپنے مذہب کی وجہ سے کم تر نہیں، جب منبروں سے عدل، دیانت، معاہدے کی پاسداری، انسانی حرمت اور ہمسائیگی کے آداب کا درس دیا جاتا ہے، جب ذرائع ابلاغ اشتعال، افواہ اور تعصب کے بجائے ذمہ دارانہ آگاہی کو فروغ دیتے ہیں، جب قانون طاقت ور اور کمزور میں فرق کئے بغیر سب کو یکساں تحفظ دیتا ہے اور جب سیاسی قیادت ووٹ کی وقتی حرص کے لئے مذہبی حساسیت کو ایندھن بنانے کے بجائے اصولی استقامت کا مظاہرہ کرتی ہے، تب ایک ایسا سماجی ماحول جنم لیتا ہے جس میں مختلف برادریاں ایک دوسرے کے وجود سے خائف ہونے کے بجائے ایک ہی قومی دھارے کا باوقار حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض اوقات زبان میں تحقیر، رویوں میں اجنبیت، سوشل میڈیا میں غیر ذمہ داری، عوامی سطح پر جلد بازی اور بعض حلقوں میں ایسا طرزِ فکر دکھائی دیتا ہے جو مذہبی اختلاف کو خطرہ سمجھتا ہے۔، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو حقِ شہریت، تحفظ، عبادت کی آزادی، معاشی مواقع، سماجی احترام اور قانونی برابری دینا کسی پر احسان نہیں بلکہ خود اپنے آئینی وعدے، قومی ضمیر اور دینی اخلاقیات سے وفاداری کا تقاضا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں کہلاتا جہاں صرف اکثریت آسودہ ہو بلکہ وہ کہلاتا ہے جہاں اقلیت بھی یہ محسوس کریں کہ اس ملک کی فضا، اس کے ادارے، اس کی عدالتیں، اس کے قوانین اور اس کے لوگ ان کے لیے بھی اتنے ہی معتبر اور قابلِ اعتماد ہیں جتنے دوسروں کے لیے، اسی لیے ہماری اجتماعی ذمہ داری کا پہلا قدم اپنی زبان کی اصلاح ہے۔ اسی طرح قومی فرض کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہم قانون کی بالادستی کو محض نعرہ نہ رہنے دیں، کیونکہ جہاں عبادت گاہیں غیر محفوظ ہوں، مذہبی شناخت کی بنیاد پر ہراسانی ہو، جھوٹے الزامات کو ہجومی غصے میں بدلا جا سکے، یا کمزور طبقے انصاف کے لیے ترستے رہیں، وہاں ہم آہنگی کی باتیں کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔لہٰذا ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر ایسے عمل کے خلاف فوری، شفاف اور غیر جانب دار کارروائی کرے جو شہری امن، مذہبی آزادی یا سماجی توازن کو نقصان پہنچائے اور عام لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے رجحان، افواہوں کی گردش، جذباتی اشتعال اور ہجومی ذہنیت سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ اس مسئلے کا ایک نہایت اہم پہلو تعلیم سے متعلق ہے، کیونکہ جو قوم دوسروں کے بارے میں یا تو خاموش رہتی ہے یا منفی تصویر پیش کرتی ہے، وہاں ذہنی کشادگی پروان نہیں چڑھتی۔اس لئے نصاب، ہم نصابی سرگرمیوں، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی مباحث میں ایسی فکری پختگی ضروری ہے جو طلبہ کو ایک طرف اپنی تہذیبی ورثے سے وابستہ رکھے اور دوسری طرف انہیں یہ شعور دے کہ مختلف عقائد رکھنے والے افراد بھی اسی وطن کی تعمیر میں شریک، اسی قانون کے تابع اور اسی عزت کے حق دار ہیں۔اس سب میں گھرکے ماحول کا بھی اہم کردار ہے، کیونکہ بچہ کتاب سے پہلے لہجے کو پڑھتا ہے۔
(جاری ہے)