Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

سرحدوں کے زخم اور انسانوں کی بے بسی

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، مذہب، زبان، تجارت اور انسانی رشتوں سے جڑی ایک طویل داستان ہے۔ صدیوں سے یہ خطہ حملہ آوروں،صوفیوں،تاجروں اورمہاجرین کی گزرگاہ رہا ہے۔ افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہےجو مسلسل جنگوں، بیرونی مداخلت، داخلی انتشار اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے۔ 1979ء میں سوویت یونین کی افغانستان پر چڑھائی نے پورے خطے کی سیاست بدل دی۔ لاکھوں افغان باشندے جنگ، بمباری، بھوک اورخوف سے بچنے کے لیے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستان نے مذہبی، انسانی اوراخلاقی بنیادوں پر اپنےدروازے افغان مہاجرین کے لیےکھول دیئے،محدودوسائل کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کو رہائش،تعلیم،صحت اورروزگار کی سہولیات فراہم کیں۔ بہت سے افغان بچے پاکستان میں پیدا ہوئے،یہیں تعلیم حاصل کی اور یہیں جوان ہوئے۔ ان کے لیے پاکستان صرف پناہ گاہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک مستقل حصہ بن گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کی پیچیدگیاں بھی بڑھتی گئیں۔ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے پاکستان کی معیشت، سماجی ڈھانچے ، سکیورٹی اورشہری نظام پر اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف لاکھوں محنت کش افغان شہریوں نے تعمیرات،ٹرانسپورٹ،تجارت اورچھوٹے کاروباروں میں اہم کردار ادا کیا تو دوسری جانب غیر قانونی رہائش، ستاویزات کی کمی، اسمگلنگ،منشیات، اسلحےکی ترسیل اوربعض دہشت گردعناصر کی موجودگی جیسے مسائل نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ افغان جنگ کے اثرات صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے بلکہ پاکستان بھی دہشت گردی، خودکش حملوں،انتہا پسندی اورمعاشی نقصانات کاشکارہوا۔ہزاروں پاکستانی شہری،فوجی اور پولیس اہلکاردہشت گردی کی جنگ میں جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ قبائلی علاقوں میں بدامنی پھیلی،معیشت متاثرہوئی اور ملک کے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچا۔ یہی وجہ ہےکہ وقت کے ساتھ پاکستان میں افغان مہاجرین کے مسئلے پر بحث شدت اختیارکرتی گئی۔ ایک طبقےکامؤقف ہےکہ پاکستان نے چالیس برس تک افغان بھائیوں کی میزبانی کرکے اپنی اخلاقی اوراسلامی ذمہ داری پوری کی، اب عالمی برادری اورافغان حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔ دوسرا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ افغان مہاجرین کو اچانک یا سخت پالیسیوں کے ذریعے واپس بھیجنا انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہےکیونکہ افغانستان اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوا۔ حقیقت شاید ان دونوں مؤقف کے درمیان کہیں موجود ہے۔ اس مسئلے کو نہ صرف جذبات بلکہ حکمت، تدبر اور حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کی تاریخ مسلسل بیرونی مداخلت اور داخلی تنازعات سے عبارت رہی ہے۔ برطانوی دور سے لے کر سوویت حملے، خانہ جنگی،طالبان حکومت،نائن الیون کےبعد امریکی حملہ اورپھرامریکی انخلا تک افغانستان مسلسل عالمی طاقتوں کی سیاست کا میدان بنا رہا۔ ہر جنگ کے بعد عام افغان شہری نے سب سےزیادہ قیمت اداکی۔ لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے،ہزاروں مارے گئےاور ایک پوری نسل جنگ،غربت اورعدم تحفظ کےماحول میں پروان چڑھی۔ ایسے میں پاکستان ان افغان باشندوں کے لیےایک پناہ گاہ بن گیاکیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، قبائلی اور لسانی روابط موجود تھے۔ خاص طور پر پشتون بیلٹ میں سرحد کے دونوں جانب رہنے والے خاندانوں کے درمیان رشتے صدیوں پرانے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے افغان شہریوں کے لیے پاکستان آنا کسی اجنبی سرزمین پر جانے جیسا نہیں تھالیکن اس تمام انسانی پہلو کے باوجودایک ریاست کی اپنی ذمہ داریاں اور تقاضےبھی ہوتے ہیں۔ ہر ملک کو اپنی سرحدوں، معیشت، قانون اور داخلی سلامتی کاتحفظ یقینی بنانا ہوتاہے۔ پاکستان کو بھی وقت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی موجودگی،جعلی شناختی دستاویزات، غیررجسٹرڈ رہائش اور سرحدی نقل و حرکت جیسے مسائل کو ہمیشہ نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ یہی وجہ ہےکہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے غیرقانونی غیرملکیوں کے انخلاکےحوالے سےسخت اقدامات کیے۔ ان اقدامات پرعالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آیا۔ بعض انسانی حقوق کی تنظیموں نےخدشات ظاہرکیےجبکہ پاکستان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہرخودمختار ملک کو اپنی امیگریشن پالیسی نافذ کرنے کا حق حاصل ہے۔ پاکستان یہ بھی کہتاہےکہ وہ اب مزید معاشی اورسکیورٹی بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں،خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک خود مہنگائی، بیروزگاری، دہشت گردی اور معاشی بحران جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان، افغانستان اور عالمی برادری مل کر ایک جامع، انسانی اور حقیقت پسندانہ پالیسی ترتیب دیں۔ افغانستان میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور معاشی بحالی ناگزیر ہے جب تک افغانستان میں روزگار، تعلیم، امن اور بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوں گی، افغان شہری ہجرت پر مجبور رہیں گے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی باقاعدہ رجسٹریشن، قانونی حیثیت اور مرحلہ وار واپسی کا شفاف نظام قائم کیا جائے تاکہ انسانی بحران پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اگرعالمی برادری واقعی انسانی حقوق کی بات کرتی ہے تو اسے افغان مہاجرین کی بحالی، تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ افغان مہاجرین کے مسئلے کاایک اہم پہلو انسانی احساسات بھی ہیں۔ کئی افغان خاندان دہائیوں سے پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ایسےلوگوں کے لیےاچانک بےدخلی ایک نفسیاتی اور سماجی صدمہ بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں