اسلام آباد: ٹرانسمیشن سسٹم میں نقائص کے باعث ملک بھر کے بجلی صارفین کو اربوں روپے کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ آڈیٹر جنرل کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود ترسیلی نظام کی خامیوں کے باعث سستی بجلی صارفین تک نہیں پہنچ سکی، جس کے نتیجے میں عوام کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرانسمیشن سسٹم میں نقائص اور نئی ٹرانسمیشن لائنوں کی بروقت تعمیر نہ ہونے سے کپیسٹی پیمنٹ میں مسلسل اضافہ ہوا۔ آڈٹ حکام نے نشاندہی کی کہ مٹیاری۔لاہور ٹرانسمیشن لائن کی مجموعی ترسیلی صلاحیت 4 ہزار میگاواٹ ہے، تاہم اسے صرف 47 فیصد استعداد پر چلایا جاتا رہا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اہم ٹرانسمیشن لائن کو مکمل صلاحیت کے مطابق استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بجلی صارفین پر 86 ارب 45 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہوا، جبکہ سستی بجلی کی دستیابی بھی متاثر رہی۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے 500 اور 220 کے وی کے متعدد ٹرانسفارمرز اپنی گنجائش سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بجلی کے نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ بھی کرنا پڑتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی کمزوریوں اور منصوبہ بندی میں تاخیر کی وجہ سے کپیسٹی پیمنٹ کا سالانہ حجم بڑھ کر تقریباً 1900 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کا بالواسطہ اثر بجلی کے نرخوں اور صارفین کے مالی بوجھ پر پڑ رہا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور موجودہ لائنوں کی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو نہ صرف بجلی کی ترسیل بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

