Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، 1300 سے زائد اضافی اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ

جنیوا: یورپ میں شدید گرمی کی لہر نے مختلف ممالک میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے ہیں، جبکہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 21 جون سے اب تک 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

رواں ہفتے یورپ کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا، جس کے باعث اسپتالوں، ریسکیو سروسز اور ایمرجنسی مراکز پر غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آیا۔ امدادی اداروں کو موصول ہونے والی ہنگامی کالز میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یورپ میں شدید گرمی کی لہر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بیشتر گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر بلند درجہ حرارت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

فرانس کے قومی ادارۂ صحت “پبلک ہیلتھ فرانس” کے مطابق صرف بدھ کے روز سے اب تک متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 24 جون کے بعد اموات کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ گرمی کی شدت ہے۔

ادھر جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ بلند درجہ حرارت کے باعث سڑکوں کا اسفالٹ نرم ہو گیا جبکہ ٹرام کی پٹریاں اور ان کے جوائنٹس بھی کئی مقامات پر متاثر ہوئے، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت ٹرام سروس پیر کی صبح تک معطل کر دی گئی۔

ماہرین صحت نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے، بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھنے اور شدید گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں