تاریخ میں بعض واقعات ایسے رونما ہوتے ہیں جو اپنے زمانے کی حدود سے نکل کر ابدل آباد پر محیط ہو جاتے ہیں۔ وہ محض ایک جنگ، ایک سیاسی کشمکش یا ایک تاریخی سانحہ نہیں رہتے بلکہ انسانی ضمیر، اخلاقی شعور اور حق و باطل کے درمیان کشمکش کی دائمی علامت بن جاتے ہیں۔ واقع کربلا بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ اگرچہ اس واقعے کو وقوع پذیر ہوئے چودہ صدیاں گزر چکی ہیں، لیکن آج بھی جب انسان ظلم، جبر، آمریت اور اخلاقی انحطاط کے خلاف مزاحمت کی مثال تلاش کرتا ہے تو اس کی نگاہیں کربلا کے تپتے ہوئے میدان کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔مولانا ابوالکلام آزادنے اپنے مشہور مضمون ’’زندگی موت کی دہلیز پر‘‘میں کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے انسانی روح کی عظمت اور اخلاقی جرات کے ایک ایسے مظہر کے طور پر پیش کیا ہے جو کہ موت کو شکست دینے اور زندگی کو امر کر لینے کا حوصلہ ودیعت کرتا ہے۔ ان کے نزدیک کربلا کا اصل پیغام یہی ہے کہ ’’زندگی کا معیار اس کی مدت نہیں بلکہ اس کا مقصد ہوتا ہے۔‘‘ عام انسانی تصور میں موت زندگی کا خاتمہ ہے، لیکن کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات موت ہی زندگی کی معراج بن جاتی ہے۔ حضرت امام حسینؓ کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک راستہ سمجھوتے کا تھا، جس سے جان بچ سکتی تھی، دنیاوی آسائشیں برقرار رہ سکتی تھیں اور سیاسی خطرات ٹل سکتے تھے۔ دوسرا راستہ مزاحمت کا تھا، جس کے انجام میں پیاس، تنہائی، شہادت اور اہلِ بیت کی اسیری تھی۔ امام حسینؓ نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔یہ انتخاب دراصل دو فلسفوں کے درمیان انتخاب تھا۔ ایک فلسفہ طاقت کا تھا اور دوسرا اصول کا۔ ایک فلسفہ مصلحت کا تھا اور دوسرا صداقت کا۔ ایک فلسفہ وقتی کامیابی کا تھا اور دوسرا ابدی سچائی کا۔
مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ ’’دنیا میں اکثر لوگ زندگی کے لئے اصول قربان کر دیتے ہیں، لیکن تاریخ کے چند عظیم انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اصولوں کے لئے زندگی قربان کر دیتے ہیں۔ امام حسینؓ اسی قافلے کے مسافر تھے۔‘‘ کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ظلم کی قوت جتنی بھی بڑی ہو، وہ انسان کے جسم کو شکست دے سکتی ہے لیکن اس کے نظرئیے کو نہیں۔ یزید کے پاس حکومت تھی، فوج تھی، خزانے تھے اور ریاستی طاقت تھی۔ امام حسینؓ کے پاس صرف حق کا یقین تھا۔ بظاہر طاقت کا توازن یک طرفہ تھا، لیکن تاریخ کا فیصلہ طاقت کے حق میں نہیں بلکہ سچائی کے حق میں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ آج یزید ایک تاریخی کردار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جبکہ امام حسین ایک اخلاقی اور روحانی تحریک کی علامت تسلیم کئیجاتے ہیں۔ طاقت وقتی تھی، اصول دائمی ثابت ہوا۔مولانا آزاد کے نزدیک’’کربلا دراصل زندگی اور موت کی معنویت کو نئے سرے سے متعین کرتی ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر زندگی ظلم کے سامنے سر جھکانے کا نام ہے تو ایسی زندگی سے موت بہتر ہے، اور اگر موت حق کی سربلندی کے لئے ہو تو وہ دراصل زندگی کی بلند ترین شکل ہے۔‘‘ کربلا کی ایک اور عظمت یہ ہے کہ وہاں صرف تلواروں کا معرکہ نہیں تھا بلکہ اقدار کا معرکہ تھا۔ ایک طرف اقتدار کی ہوس تھی اور دوسری طرف انسانی آزادی کا شعور۔ ایک طرف جبر تھا اور دوسری طرف ضمیر کی آزادی۔ امام حسینؓ نے دراصل انسان کو یہ حق دیا کہ وہ ظالم حکمران کے سامنے ’’نہیں‘‘کہنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرے۔اسی لئے کربلا کسی ایک فرقے، قوم یا مذہب کی میراث نہیں۔ یہ پوری انسانیت کا جادہ مثالی ہے۔ دنیا کے بہت سے غیر مسلم مفکرین اور رہنماں نے بھی امام حسین کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے کیونکہ کربلا بنیادی طور پر انسانی وقار کی جنگ تھی۔آج جب ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ کربلا محض تاریخ کا باب نہیں بلکہ ایک زندہ سوال ہے۔ کیا ہم حق کے لئے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم مفاد کے مقابلے میں اصول کو ترجیح دے سکتے ہیں؟ کیا ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی اخلاقی جرات رکھتے ہیں؟ہر دور کا اپنا یزید ہوتا ہے اور ہر زمانے کو اپنے حسین کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج میدان بدل گئے ہیں۔ کبھی جنگ تلواروں سے لڑی جاتی تھی۔ آج یہ جنگ قلم، فکر، میڈیا، سیاست اور سماجی شعور کے میدان میں لڑی جاتی ہے۔ لیکن اصول وہی ہیں جو چودہ سو برس پہلے تھے۔کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کامیابی کا پیمانہ ہمیشہ ظاہری نتائج نہیں ہوتے۔ اگر کامیابی کا معیار صرف فوجی فتح ہوتا تو تاریخ کا فیصلہ مختلف ہوتا۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ اصل کامیابی اخلاقی فتح ہوتی ہے۔
امام حسینؓ میدان میں شہید ہوئے لیکن نظرئیے کی جنگ جیت گئے۔مولانا ابوالکلام آزاد کے الفاظ میں ’’کربلا کا سب سے بڑا معجزہ یہی ہے کہ وہاں موت زندگی کا دروازہ بن گئی۔ جو لوگ شہید ہوئے وہ تاریخ کے زندہ کردار بن گئے اور جنہوں نے انہیں قتل کیا وہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہو گئے۔‘‘ آج محرم کا پیغام صرف آنسو بہانے کا نہیں بلکہ اپنے ضمیر کو بیدار کرنے کا ہے۔ یہ سوچنے کا ہے کہ اگر ہم کسی ظلم، ناانصافی یا باطل کے سامنے خاموش ہیں تو ہم کربلا کے پیغام سے کتنا دور ہیں۔ امام حسینؓ کی محبت صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ان کے موقف کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں اس کی روشنی پیدا کرنے کا نام ہے۔کربلا کا پیغام یہ ہے کہ حق کی راہ میں قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی، صداقت کبھی شکست نہیں کھاتی اور اصولوں پر قائم رہنے والے لوگ وقت کے دھارے میں گم نہیں ہوتے۔ وہ تاریخ کے افق پر ہمیشہ کے لئے روشن ستارے بن جاتے ہیں۔اسی لئے کربلا ایک معرکہ نہیں، ایک نظریہ ہے؛ ایک سانحہ نہیں، ایک شعور ہے؛ اور ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ انسانی آزادی، اخلاقی جرات اور حق پرستی کا وہ استعارہ ہے جو قیامت تک زندہ رہے گا۔جب بھی دنیا میں ظلم کے مقابلے میں حق کی آواز بلند ہوگی، جب بھی کوئی کمزور طاقتور کے سامنے سچ بولنے کا عزم کرے گا، اور جب بھی کوئی انسان اصولوں کے لئے قربانی دے گا، اس کے پیچھے کربلا میں دی جانے والی قربان کی بازگشت ہو گی۔ یہی کربلا کی ابدی زندگی ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے مولانا ابوالکلام آزاد نے ’’زندگی موت کی دہلیز پر‘‘ کے عنوان سے تحریر کئے گئے اپنے مضمون میں امر کر دیا۔