Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

ننھے بچوں کو موبائل نہیں، والدین کی توجہ درکار، نئی تحقیق میں اہم انتباہ

بچوں کا اسکرین ٹائم ایک بار پھر ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو موبائل فون، ٹیبلٹ یا دیگر ڈیجیٹل اسکرینز کا باقاعدہ استعمال کرانا ان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

چار برطانوی جامعات کے محققین کی مشترکہ تحقیق کے مطابق کم عمر بچوں کو اسکرینز کا عادی بنانے سے زبان سیکھنے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، والدین کے ساتھ جذباتی تعلق کمزور پڑ سکتا ہے، نیند کے مسائل جنم لے سکتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے باعث موٹاپے سمیت دیگر طبی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف لیڈز کے سینئر لیکچرر رافے کلیٹن کا کہنا ہے کہ بہت سے والدین واضح رہنمائی نہ ہونے کے باعث غیر ارادی طور پر بچوں کو اسکرین کے استعمال کا عادی بنا دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بچوں کو رونے یا بے چینی کی حالت میں موبائل یا ٹیبلٹ دے کر خاموش کرانے کی عادت مستقبل میں ان کی جذباتی اور سماجی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹ میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین ٹائم سے متعلق موجودہ رہنما اصولوں پر نظرثانی کی جائے۔ محققین کا کہنا ہے کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی مقصد کے لیے باقاعدہ اسکرین استعمال نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ زندگی کے ابتدائی سال دماغی اور جسمانی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں، کھیل، گفتگو اور دیگر مثبت سرگرمیوں کو ترجیح دیں تاکہ ان کی شخصیت اور ذہنی صلاحیتیں بہتر انداز میں پروان چڑھ سکیں۔ تحقیق میں ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے لیے گمراہ کن ڈیجیٹل مصنوعات اور مواد کی تشہیر سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھیں