یہ تاریخ کاوہ موڑہے جہاں گردشِ زمانہ تھم کرخود سے سوال کرتی ہے کہ جس جنگ کی آگ میں ہزاروں زندگیاں راکھ ہوئیں،اس کا حاصل کیانکلا؟ تاریخ کے افق پرکبھی کبھی ایسے معاہدے ابھرتے ہیں جوفتح کے نہیں،بلکہ اعترافِ عجزکے آئینہ دارہوتے ہیں۔امریکی صدرٹرمپ اورایران کے صدرمسعود پزشکیان کے درمیان 28 فروری کوطے پانے والی مفاہمتی یادداشت گویا اس طوفان کے بعدکی خاموشی ہے مگرایسی خاموشی جس کے سینے میں چیخیں دفن ہیں۔انسانی جانوں کازیاں، ایران ولبنان کی گلیوں میں بہتاخون،اوراس کے باوجود ایک سٹریٹجک پسپائی واشنگٹن اورتہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویزبھی اسی نوع کی ایک تحریرہییہ سب تاریخ کے ماتھے پرایک سوالیہ نشان بن کرابھرا ہے۔
28فروری کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کومحض ایک سفارتی دستاویزکے طورپرنہیں بلکہ ایک کثیرجہتی جیوپولیٹیکل عمل کے نتیجے کے طورپر سمجھنا چاہیے۔اس معاہدے نے نہ صرف عسکری تصادم کے فوری نتائج کوسمیٹابلکہ اس نے طاقت،مزاحمت اور عالمی نظم کے مروجہ تصورات کوبھی چیلنج کیا۔الفاظ میں مفاہمت، مگرسطور کے درمیان شکستہ خود اعتمادی کی بازگشت۔جنگ کے شعلے بجھتے ہی یہ احساس شدت سے ابھرتاہے کہ جس کشمکش نے زمین کولہورنگ کیا،اس کاحاصل محض ایک کاغذی توازن کیوں نکلا؟جنگ کے انسانی نقصاناتخاص طورپرشہری آبادی کاجانی ضیاع بین الاقوامی انسانی قانون کے تناظرمیں ایک اہم سوال کو جنم دیتے ہیں، کیاطاقت کااستعمال اپنے مقاصدکے حصول میں مؤثر رہا یا اس نے الٹاسٹریٹجک عدم استحکام کوبڑھایا؟
ایران کے ریاستی ڈھانچے کی بقااس امرکی غمازی کرتی ہے کہ نظریاتی ریاستیں محض عسکری دباسے ختم نہیں ہوتیں۔ایران کے لئے یہ معرکہ محض سرحدوں کا دفاع نہ تھابلکہ شناخت کا امتحان تھا۔جب امریکااور اسرائیل نے اپنی عسکری ہیبت کامظاہرہ کیاتوتہران نے اسے اپنے وجودکے انکارکے مترادف سمجھا۔امریکااور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کامقصد اگرچہ نظام کی تبدیلی تھا،تاہم ایران کی سیاسی و ادارہ جاتی ساخت نے اس دباؤکو جذب کرکے خودکوباوقار طریقے سے برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی ڈھانچہ،جوبظاہردباؤمیں دکھائی دیتاتھا، اندرونی طورپرایک فولادی عزم میں ڈھل گیاگویاخطرہ جتناشدید ہوتاگیا،مزاحمت اتنی ہی منظم ہوتی گئی۔ تہران نے اپنے بدترین خدشے کوجونہی حقیقت بنتے دیکھا کہ دنیاکی سب سے بڑی طاقت اورمشرقِ وسطیٰ کی عسکری قوت نے مل کر اسے مٹانے کاعزم کیا،مگرتاریخ نے ایک بارپھر ثابت کیاکہ اقوام صرف ہتھیاروں سے نہیں،حوصلوں سے زندہ رہتی ہیں۔حکومت نہ صرف قائم رہی بلکہ آزمائش کی بھٹی سے گزرکرمزیدسخت جان ہوگئی۔یہ واقعہ ریاستی لچک کی ایک اہم مثال کے طورپرپیش کیاجا سکتاہے۔
عالمی سیاست میں بعض فیصلے بندوق سے نہیں بلکہ جغرافیے سے کروائے جاتے ہیں۔آبنائے ہرمزاسی جغرافیائی جبرکی علامت بن کر ابھری۔آبنائے ہرمزکی بندش نیعالمی معیشت میں توانائی کی ترسیل کی حساسیت کونمایاں کیا۔ایران نے سمندرکی اس تنگ راہ داری کو ایک ایسے دستِ قدرت میں بدل دیاجس نے عالمی تجارت کی نبض کوتھام لیا۔یہ وہ لمحہ تھاجب اقتصادیات نے عسکریات کومات دی اور طاقت کی تعریف بدل گئی۔ایران نے اپنی جغرافیائی پوزیشن کوایک مؤثر اسٹریٹجک آلے میں تبدیل کیا،جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیداہوا۔آبنائے ہرمزکی بندش نے عالمی معیشت کی شہ رگ کودبادیا۔تیل کی روانی رک گئی،منڈیوں میں ہلچل مچ گئی،اوریوں واشنگٹن کووہ رعایتیں دینی پڑیں جو کبھی اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں۔ایران کی حکمتِ عملی کسی شطرنج کے ماہرکھلاڑی کی چال ثابت ہوئی۔ یہ واقعہ کے اس تصورکوتقویت دیتاہے کہ اقتصادی ذرائع کوبھی طاقت کے اظہارکے طورپر استعمال کیاجاسکتاہے۔
لبنان کے حوالے سے مفاہمتی شقیں دراصل پراکسی تنازعات کے پیچیدہ جال کوظاہرکرتی ہیں۔ اسرائیل کامؤقف،جوآزادانہ عسکری کارروائی پرزور دیتا ہے اور ایران کابالواسطہ اثر،دونوں مل کرایک ایسی صورتحال پیدا کرتے ہیں جہاں علاقائی استحکام مسلسل خطرے میں رہتا ہے۔یہ مسئلہ علاقائی سلامتی کے اجتماعی ڈھانچے کی کمزوری کوبھی بے نقاب کرتا ہے۔مفاہمتی خاکے میں لبنان کاذکر محض ایک ضمنی نکتہ نہیں بلکہ پورے تنازعے کاحساس اعصاب ہے۔مفاہمتی یادداشت نے لبنان میں جنگ بندی کامطالبہ کیا،مگراسرائیل نے اسے اپنی خودمختاری پرقدغن سمجھا۔اسرائیل کے لئے یہ علاقہ اس کے دفاعی نظرئیے کالازمی جزوہے،جبکہ ایران کے لئے یہ اس کے اثرورسوخ کی علامت۔چنانچہ یہاں کسی بھی سمجھوتے کا مطلب صرف جنگ بندی نہیں بلکہ اثرات کے دائرہ کارکی نئی حد بندی ہیاسرائیل آزادانہ عسکری کارروائی کاخواہاں ہے،اوریہی اختلاف امریکا واسرائیل کے تعلقات میں دراڑ ڈال سکتاہے ایک ایسی دراڑجس سے شدت پسندبیانیے کوتقویت مل سکتی ہے اوریہی وہ نکتہ ہے جہاں اختلافات کی نئی فصل اگ سکتی ہے۔
معاشی پابندیاں جدیددنیاکی وہ زنجیرہیں جو بغیرآوازکے ریاستوں کوجکڑلیتی ہیں۔جب ان زنجیروں کو ڈھیلاکرنے کی بات ہوئی تودرحقیقت یہ ایک خاموش اعتراف تھاکہ اقتصادی دباؤاپنی انتہاکوپہنچ چکاتھا۔ ایران کے لئے یہ محض مالی ریلیف نہیں بلکہ عالمی نظام میں دوبارہ سانس لینے کی مہلت ہے۔پابندیوں میں نرمی اوراقتصادی رعایتوں سے ظاہرہوتا ہے کہ معاشی دباؤ اپنی حدوں کوپہنچ چکاہے۔ایران کودی جانے والی یہ رعایتیں دراصل’’زبردستی ڈپلومیسی‘‘سے’’ترغیب پرمبنی مذاکرات‘‘ کی طرف تبدیلی کی علامت ہیں،جہاں طاقت کی بجائے مفادات کاتوازن مرکزی سطح پرہوتاہے۔
آبنائے ہرمزکے دوبارہ کھلنے کے بدلے امریکانے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، پابندیوں میں نرمی،اورمنجمد اثاثوں کی بحالی جیسے وعدے کیے۔گویاجنگ کے شعلوں سے گزرکر فریقین اسی مقام پرلوٹ آئے جہاں سے یہ داستان شروع ہوئی تھی مگر قیمت خون سے اداکی گئی۔27فروری کی وہ صبح یاد آتی ہے جب آبنائے ہرمزپرجہاز رواں دواں تھے اور سفارت کار مذاکرت کی میزِپرجھکے ہوئے تھے۔جنگ نے اس تسلسل کو توڑا،اوراب مفاہمت اسے دوبارہ جوڑنے کی سعی ہے۔گویاجنگ سے قبل کامنظرنامہ،جہاں مذاکرات جاری تھے،اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ تصادم ہمیشہ ناگزیرنہیں ہوتابلکہ اکثراوقات وہ انسانی فیصلہ سازی کی لغزش کانتیجہ ہوتاہے۔یہ جنگ بھی اسی لغزش کی ایک کڑی تھی،جس نے سفارت کاری کے تسلسل کوتوڑدیا۔اس کامطلب ہے کہ غلط فہمیاں اور سیاسی دباؤفیصلہ سازی کے عمل میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کے نظرئیے میں اس پہلوکوخاص طورپرعلمی نقطہ نظرکے تحت زیربحث لایاگیا ہے۔
(جاری ہے)