ریاست، رپورٹر اور پریشان کاکروچ
بھارت میں آج کل سب سے زیادہ پریشان اگر کوئی مخلوق ہے تو وہ کاکروچ ہے۔بیچارہ برسوں سے نالیوں، پرانے صندوقوں اور باورچی خانوں میں زندگی گزار رہا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن ’’دنیا کی سب سے
بھارت میں آج کل سب سے زیادہ پریشان اگر کوئی مخلوق ہے تو وہ کاکروچ ہے۔بیچارہ برسوں سے نالیوں، پرانے صندوقوں اور باورچی خانوں میں زندگی گزار رہا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن ’’دنیا کی سب سے
بلوچ معاشرے میں جب کسی بیٹی کا نام لیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ عزت،احترام اور ذمہ داری کا تصور جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلوچ خواتین کو عسکری تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے
بھارت میں گائے اب محض ایک مذہبی علامت نہیں رہی بلکہ ریاستی سیاست کا سب سے مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ ایک طرف گائے کے تحفظ کے نام پر سخت قوانین ہیں، جذباتی سیاسی نعرے ہیں اور سماج میں مسلسل
آزاد کشمیر میں احتجاج کو صرف مہنگائی، بجلی یا آٹے کے بحران تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے پس منظر میں ایک ایسی سیاست بھی کارفرما دکھائی دے رہی ہے جو عوامی مسائل سے زیادہ ریاستی
بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا شوق بہت پرانا ہے۔ نئی دہلی کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران یہ دعویٰ بھی بڑے اعتماد سے کرتے ہیں کہ بھارت ایک سیکولر، کشادہ دل اور شخصی آزادیوں کا احترام
وزیردفاع کایہ کہنا بالکل بجا ہے کہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی ہے اور کابل کی جانب سے دہشت گردی روکنے کی کوئی یقینی دہانی نہیں کروائی جارہی اور دونوں سرحدوں پردشمن ایک ہی ہے۔ بھارت تو خیرپاکستان کے ہاتھوں
معاصر عالمی سیاست میں جنگ و امن کے مباحث ہمیشہ طاقت اور مفاد کے گرد گھومتے رہے ہیں مگر کچھ اصول ایسے ہیں جو زمان و مکان کی قید سے ماورا ہو کر انسانیت کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ انہی
گزشتہ سال بھارتی جارحیت پر پاکستان کے ردعمل نے سیاست میں طاقت کے استعمال سے متعلق کئی بنیادی سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اسے محض ایک عسکری یا سفارتی کشمکش نہیں کہاجاسکتا،یہ ایک ایسا تجربہ تھاجس نے واضح کر
گزشتہ برس کی سات مئی کا تفاخرعوام کےقلوب واذہان پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو چکا ہے کیونکہ اس دن بھارت نے پاکستان پر ایک غیر اعلانیہ جنگ مسلط کرنے کی حماقت کی تھی ۔ بھارت کا یہ اقدام جہاںبین
ریاستوں کی اصل پہچان ان کے داخلی ربط، فکری توازن اور اجتماعی ترجیحات سے متعین ہوتی ہے۔ جب کوئی معاشرہ اپنے اندر ہم آہنگی پیدا کر لیتا ہے تو بیرونی دباؤ اپنی شدت آپ کھو دیتا ہےاور قومی ارادہ زیادہ