Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فَتَبَيَّنُوا: سچ اور فریب کے درمیان فیصلہ کن لکیر

گزشتہ برس کی سات مئی کا تفاخرعوام کےقلوب واذہان پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو چکا ہے کیونکہ اس دن بھارت نے پاکستان پر ایک غیر اعلانیہ جنگ مسلط کرنے کی حماقت کی تھی ۔ بھارت کا یہ اقدام جہاںبین الاقوامی اصولوں کے سراسر منافی تھاوہاں خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی تھا تاہم صورتحال نے غیر متوقع رخ پر اس وقت کروٹ لی جب پاکستان کی مسلح افواج نے فوری،مربوط اور مؤثرجوابی کارروائی کرتے ہوئے پیشہ ورانہ اور فیصلہ کن ردعمل کے ساتھ محض چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر بھارت کو ہاتھ کھڑا کرنے پر مجبور کر دیا،بھارت کو نہ صرف یہ کہ پسپائی اختیار کرنا پڑی بلکہ بھارتی قیادت نے ہنگامی بنیادوں پر عالمی سطح پر رابطے شروع کر دئیے تاکہ کشیدگی کو فوری طور پر کم کرسکے۔پاکستان کی جوابی پیش رفت عسکری مہارت کاایسا لازوال ثبوت ہےجس نے طاقت کے توازن اور پیشہ ورانہ برتری کا لوہا منوا لیا۔ یہ ہماری افواج کی ایک بڑی کامیابی تھی جس پر پوری قوم بجا طور پر خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
معرکۂ حق کے تناظر میں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ جدید دور کی جنگوں میں بندوق اور بارود ہی نہیں بلکہ بیانیہ، اطلاعات اور ذہنی فضا پر کنٹرول بھی اتنا ہی اہم ہتھیار بن چکا ہے۔ اس مختصر جھڑپ میں ایک طرف روایتی عسکری پہلو موجود تھا وہیں دوسری جانب اطلاعاتی جنگ نے بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ بھارت کی بغیر شواہد الزامات ، فالس فلیگ بیانیہ اور عالمی سطح پر ایک خاص تاثر قائم کرنے کی کوشش اسی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ اس کے برعکس پاکستان نے جس انداز میں ردعمل دیا وہ ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور اصولی ریاستی رویے کی بجا طور پرعکاسی ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہی بنتا ہے کہ کسی بھی اطلاع یا الزام کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جائے۔
اسلامی تعلیمات اس حوالے سے ایک واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں جس کا خلاصہ اسی قرآنی حکم میں مضمر ہے کہ خبر کو قبول کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کی جائے۔ یہ اصول محض ایک مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ایک ایسا ضابطۂ فکر ہے جو فرد، معاشرے اور ریاست تینوں کے لیے یکساں اہم ہے۔ معرکۂ حق میں اس اصول کی عملی اہمیت پوری طرح نمایاں ہو ئی ۔بھارت کے طرزِ عمل کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اس نے الزامات کی بنیاد ایسے بیانیے پر رکھی جس میں ٹھوس شواہد کا فقدان تھا۔ میڈیا کے ذریعے فوری طور پر ایک خاص رخ دینے کی کوشش کی گئی جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اسی بیانیے کو تقویت دینے کی سعی کی گئی۔ فالس فلیگ کی اصطلاح اسی تناظر میں اہم ہے کہ جہاں اصل حقائق کو چھپا کر ایک متبادل کہانی پیش کی جاتی ہے تاکہ سیاسی یا سفارتی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ تاہم اس نوعیت کی حکمت عملی وقتی طور پر تو اثر ڈال سکتی ہے مگر دیرپا بنیادوں پر اس کی حیثیت کمزور رہتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے خلا نمایاں ہونے لگتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستان نے اس پورے معاملے میں جس تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ توجہ ہے۔ جذباتی ردعمل دینے کے بجائے ہر الزام کا جواب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر دیاگیا۔ ساتھ ہی ساتھ عالمی برادری کو غیر جانبدار تحقیقات کی دعوت دی گئی کہ پاکستان اپنے موقف کی سچائی پر اعتماد رکھتا ہے۔ یہ طرزِ عمل سفارتی سطح پر مؤثر ثابت ہوا اور اس نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کی ساکھ کو بھی مضبوط کیا اور اعتماد کی فضا کو فروغ دیا۔
معرکۂ حق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے اطلاعاتی جنگ کے خطرات کو نمایاں کر دیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات، افواہیں اور پروپیگنڈا نہ صرف دو ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔ جب جھوٹ کو مسلسل دہرایا جائے تو وہ کچھ حلقوں میں سچ کا روپ دھار لیتا ہے اور حقیقت دھندلا جاتی ہے۔ ایسے میں تحقیق، تصدیق اور شفافیت کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور ذمہ دارانہ رویہ ناگزیر بن جاتا ہے۔ مضبوط بیانیہ وہی ہوتا ہے جو سچائی اور حقائق پر مبنی ہو۔ وقتی طور پربلند آہنگ دعوے اور جذباتی بیانات توجہ حاصل کر سکتے ہیںمگر پائیدار اثر وہی چھوڑتا ہے جس کی بنیاد ٹھوس شواہد پر ہو جیسا کہ پاکستان کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیارکیاگیاکہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔دوسری طرف بھارتی بیانیے میں تضادات اور شواہد کی کمی نے اس کی کمزوری کو نمایاں کیا۔ جب کسی دعوے کے ساتھ ٹھوس ثبوت ہی موجود نہ ہوں ،بیانات میں تسلسل نہ ہو تو وہ خود بخود اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پربھارت کے ایسے بیانیوں کو پذیرائی نہیں ملی۔ معرکۂ حق نے اس فرق کو واضح کر دیا کہ ایک طرف مفروضوں پر مبنی موقف ہے اور دوسری جانب حقائق پر قائم مؤقف اور یہی فرق فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گیا۔اس تمام صورتحال میں ایک اور اہم پہلو انفرادی ذمہ داری کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر فرد اطلاعات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر بغیر تحقیق کے کسی خبر کو آگے بڑھایا جائے تو یہ عمل نادانستہ طور پر پروپیگنڈے کو تقویت دے سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص خبر کی تصدیق کو اپنی عادت بنائے اور ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کرے تاکہ اجتماعی شعور کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔ریاستی سطح پر بھی یہی طرزِ فکر پالیسی سازی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو شفافیت، تحقیق اور انصاف کو اپنی بنیاد بناتی ہےوہ نہ صرف داخلی طور پر مضبوط ہوتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی قابلِ اعتماد سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان کے طرزِ عمل نے اسی سمت کی نشاندہی کی، دلیل اور شواہد کو جذبات پر فوقیت دی گئی اور متوازن حکمت عملی اختیار کی گئی۔ معرکۂ حق ایک وسیع تر حقیقت کی نشاندہی ہے کہ آج کی دنیا میں سچ اور فریب کے درمیان لکیر پہلے سے کہیں زیادہ باریک ہو چکی ہے۔ ایسے میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو تحقیق، بصیرت اور سچائی کو اپنا رہنما بناتی ہیں۔ یہ معرکہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ حقائق پر مبنی موقف ہی دیرپا اور مؤثر ہوتا ہے اور اسی میں پائیداری کا راز مضمر ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ معرکۂ حق نے نہ صرف ایک عسکری یا سفارتی مرحلے کو عبور کیا بلکہ ایک فکری اور اصولی آزمائش بھی پیش کی۔ اس آزمائش میں وہی مؤقف سرخرو ٹھہرا جو شواہد، تحقیق اور سچائی پر قائم تھا۔
معرکۂ حق محض ایک وقتی جھڑپ نہیں بلکہ ایک مستقل یاددہانی ہے کہ سچائی کی بنیاد پر قائم مؤقف ہی آزمائشوں میں سرخرو ٹھہرتا ہے۔ تحقیق، دیانت اور شعوری ذمہ داری سےفریب کی ہر کوشش بے اثر ہو جاتی ہے ،افواج پاکستان نے اسی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ یہی اصول ہے جواجتماعی شعور کو مضبوط کرتا ہے اور قوموں کو تاریخ کے کڑے امتحانوں میں سربلند رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں