بھارت میں آج کل سب سے زیادہ پریشان اگر کوئی مخلوق ہے تو وہ کاکروچ ہے۔بیچارہ برسوں سے نالیوں، پرانے صندوقوں اور باورچی خانوں میں زندگی گزار رہا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائے گی۔ اس نے نہ کوئی الیکشن لڑا، نہ کوئی جلسہ کیا، نہ کوئی منشور جاری کیا لیکن پھر سیاست نے اسے دریافت کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک حشرے سے سیاسی استعارہ بن گیا۔ ویسے بھی ہمارے خطے میں استعاروں کی قسمت اکثر عجیب ہوتی ہے۔ کبھی شیر اقتدار کی علامت بن جاتا ہے، کبھی تیر امید کی کرن، کبھی سائیکل انقلاب کی کہانی قرار پاتا ہے۔ اب اگر کاکروچ بھی سیاسی گفتگو میں داخل ہو گیا ہے تو اس پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہونی چاہیے کہ چند نوجوانوں کے طنز و مزاح نے اتنے بڑے بڑے لوگوں کی نیندیں کیوں خراب کر دیں۔
کہتے ہیں اقتدار بہت مضبوط چیز ہوتی ہے لیکن اقتدار کے بارے میں ایک راز بھی ہے۔ یہ تقریروں سے کم اور لطیفوں سے زیادہ خوف کھاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت میں آج کل مزاح بھی ایک سنجیدہ معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب سیاست دان مخالفین سے پریشان ہوتے تھے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ وہ میمز سے پریشان ہیں۔ پہلے جلسوں کا خوف تھا، اب ہیش ٹیگز کا ہے۔ پہلے اپوزیشن خطرہ تھی، اب موبائل فون ۔
مودی سرکار کے ناقدین کافی عرصے سے یہ شکایت کرتے آ رہے ہیں کہ بھارت میں اختلاف رائے کی گنجائش سکڑ رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہوریت کا چرچا جتنا بڑھا ہے، سوال پوچھنے والوں کی پریشانی بھی اتنی ہی بڑھی ہے۔ گویا عمارت پر جمہوریت کا بورڈ پہلے سے بڑا لگا دیا گیا ہے لیکن اندر داخل ہونے والے سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ آیا کیوں ہے۔ بھارتی میڈیا کا ایک حصہ اس سارے منظرنامے میں ایسا کردار ادا کر رہا ہے جسے دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رپورٹر نہیں بلکہ رضاکار میدان میں اترے ہوئے ہوں۔ خبروں اور نغموں میں بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ خبر سوال پوچھتی ہے اور نغمہ تعریف کرتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض ٹی وی سٹوڈیوز میں یہ فرق دھندلا سا گیا ہے۔ایسا نہیں کہ بھارت میں اچھے صحافی نہیں ہیں۔ یقیناً ہیں اور بہت سے ہیں لیکن شور ہمیشہ آواز سے زیادہ سنائی دیتا ہے، چنانچہ ٹی وی اسکرینوں پر اکثر وہی چہرے نمایاں رہتے ہیں جنہیں ہر سوال کا جواب پہلے سے معلوم ہوتا ہے اور ہر اختلاف کے پیچھے کوئی سازش نظر آتی ہے۔
کبھی تو یوں لگتا ہے کہ اگر نیوٹن صاحب بھارت میں پیدا ہوتے اور سیب گرنے کی وجہ دریافت کرتے تو کسی نہ کسی چینل پر انہیں ملکی استحکام کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث قرار دے دیا جاتا۔ عدالتیں کسی بھی جمہوریت کا وقار ہوتی ہیں۔ ان کے فیصلوں پر تنقید ہو سکتی ہے لیکن ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم جب ریاستی اداروں کا لہجہ عام آدمی کے بارے میں سخت محسوس ہونے لگے تو سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ آخر ایک شہری کی سب سے بڑی طاقت اس کا وقار ہی تو ہوتا ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت اس احساس کا نام بھی ہے کہ ریاست اپنے شہری کو شک کی نظرسے نہیں بلکہ احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہےلیکن آج کے بھارت میں بعض اوقات ماحول کچھ مختلف محسوس ہوتا ہے۔ وہاں ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی وفاداری کا امتحان جاری رہتا ہے۔ کوئی نعرہ کم پڑ جائے تو مسئلہ، کوئی سوال زیادہ ہو جائے تو مسئلہ، کوئی اختلاف سامنے آ جائے تو اور بڑا مسئلہ۔
ایسے ماحول میں اقلیتوں کا حال کیا ہوتا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔بھارت کے مسلمان دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ اس ملک کی تہذیب، معیشت، ادب، موسیقی، کھیل اور سیاست کا حصہ رہے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں گفتگو اکثر سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہونے لگی ہے، یہ عجیب صورتحال ہے۔ اگر مسلمان خاموش رہے تو اس کی خاموشی زیرِ بحث آ جاتی ہے، اگر بولے تو اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے اور اگر کامیاب ہو جائے تو اس کی وفاداری مشکوک ٹھہرتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں یہ کیفیت زیادہ دیر تک اچھی خبر نہیں سمجھی جاتی۔ایک مضبوط ریاست کو اپنے شہریوں سے خوف نہیں ہوتا اور ایک پراعتماد حکومت کو اختلافی آوازوں سے گھبراہٹ نہیں ہوتی لیکن جب ہر تنقید کو خطرہ اور ہر سوال کو حملہ سمجھا جانے لگے تو پھر اصل مسئلہ سوال کرنے والوں میں نہیں ہوتا۔
مودی سرکار نے بھارت کو معاشی، سفارتی اور تکنیکی میدانوں میں آگے بڑھانے کے کئی دعوے کیے ہیں۔ ان میں سے بعض کامیابیاں حقیقی بھی ہیں لیکن کسی بھی حکومت کا اصل امتحان سڑکوں، پلوں اور اعداد و شمار سے آگے جا کر ہوتا ہے۔ اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ شہری خود کو کتنا آزاد محسوس کرتا ہے،وہ اپنے خیالات کا اظہار کس حد تک کر سکتا ہے،وہ اختلاف کرتے ہوئے کتنا محفوظ محسوس کرتا ہےاور وہ اپنے نام، عقیدے یا شناخت کے ساتھ کس حد تک باعزت زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ سوالات کسی اپوزیشن جماعت نے ایجاد نہیں کیے۔ یہ سوالات ہر جمہوریت کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی شاید کل نہ رہے۔اس کا نام بھی شاید چند برس بعد سیاسی لطیفوں کی کتابوں میں ملےلیکن اس نے ایک دلچسپ منظر ضرور پیدا کر دیا ہے۔ایک طرف ریاست ہے، اپنی پوری طاقت، اختیار اور بیانیے کے ساتھ۔ دوسری طرف رپورٹر ہے، جو کبھی سوال پوچھتا ہے اور کبھی سوال سے بھاگتا ہےاور درمیان میں ایک پریشان کاکروچ کھڑا ہےجو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ آخر اس نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ اتنے بڑے بڑے لوگ اس سے خائف ہیں۔شاید اس نے صرف اتنا کیا ہے کہ اس نے ہنسنے کی جسارت کر لی ہے اور اقتدار کی تاریخ میں ہنسنے والے لوگ ہمیشہ سے خطرناک سمجھے جاتے رہے ہیں۔