Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

کابل کی ہٹ دھرمی پر پاکستان کاموقف

وزیردفاع کایہ کہنا بالکل بجا ہے کہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی ہے اور کابل کی جانب سے دہشت گردی روکنے کی کوئی یقینی دہانی نہیں کروائی جارہی اور دونوں سرحدوں پردشمن ایک ہی ہے۔ بھارت تو خیرپاکستان کے ہاتھوں گزشتہ مئی کی دھلائی کے بعد ابھی تک اپنی چوٹیں سہلا رہا ہےاور جہاں تک بات افغانستان کی ہے تو ہیبت اللہ رجیم کی خود پسندی،سیاسی نابالغی اور تزویراتی اندھے پن کی انتہا دیکھیں کہ اس نے اسی پاکستان کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جس نے نصف صدی تک پچاس لاکھ سے زائد افغانوں کو اپنے گھروں، شہروں اور وسائل میں جگہ دی، جس نے افغان جہاد میں صرف سفارتی نہیں بلکہ معاشی، عسکری اور داخلی سطح پر بھی بھاری قیمت ادا کی اور جس نے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر افغان مزاحمت کا ساتھ دیا۔ پاکستان نے صرف سرحدیں نہیں کھولیں بلکہ اپنے معاشرے، اپنی معیشت اور اپنی داخلی سلامتی تک کو افغان بحران کی قیمت پر داؤ پر لگائے رکھا لیکن ہیبت اللہ رجیم نے اسی تاریخی احسان، قربانی اور برادرانہ تعلق کو پاکستان کی کمزوری سمجھ لیا اور بالآخر اسے اس مقام تک دھکیل دیا جہاں افغان سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف مسلح کارروائی ناگزیر بن گئی۔
طالبان کے ساتھ پاکستان کا تعلق کبھی بھی جغرافیہ، سیاست یا وقتی مفادات تک محدود نہیں رہا۔ اس تعلق میں مذہبی قربت، ثقافتی رشتہ، ہمسائیگی کا احترام اور ایک طویل مشترکہ تاریخ شامل رہی ہے۔ افغان جہاد کے دنوں سے لے کر طالبان کی پہلی حکومت اور پھر 2021 میں ان کی دوبارہ واپسی تک پاکستان مسلسل یہی کوشش کرتا رہا کہ افغانستان ایک مستحکم ریاست بنے، وہاں خانہ جنگی ختم ہو اور یہ خطہ مستقل بدامنی کا شکار نہ رہے۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو صرف پناہ نہیں دی بلکہ انہیں زندگی دی، کاروبار دیئے، تعلیم دی، علاج فراہم کیا اور کئی نسلوں کو اپنے شہروں میں سانس لینے کا حق دیا۔ دنیا کے بہت کم ممالک ہیں جو اتنے طویل عرصے تک کسی دوسرے ملک کے بحران کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے عوام اور ریاست دونوں کے نزدیک افغانستان کبھی محض ایک پڑوسی ملک نہیں رہا بلکہ ایک ایسا تعلق رہا جس میں مذہب، تاریخ، ثقافت اور قربانی ایک دوسرے میں گندھے ہوئے تھے لیکن طالبان قیادت خصوصاً ہیبت اللہ رجیم نے اس تعلق کی حرمت اور پاکستان کی مسلسل قربانیوں کو سمجھنے کے بجائے اسے اپنی تزویراتی برتری تصور کر لیا۔ انہیں یہ زعم ہوگیا کہ پاکستان ہر قیمت پر تحمل کا مظاہرہ کرے گا، ہر اشتعال انگیزی کے باوجود خاموش رہے گا اور کابل و قندھار کی سمت کبھی سخت عسکری جواب نہیں دے گا۔ برسوں تک پاکستان کے صبر، سفارتی نرمی اور مفاہمانہ طرز عمل نے طالبان کے اندر ایک خطرناک خوش فہمی پیدا کر دی کہ وہ پاکستان کے سلامتی کے خدشات کو مسلسل نظر انداز کرتے رہیں گے اور اس کے باوجود کسی بڑے ردعمل سے محفوظ رہیں گے۔اسی غرور کا نتیجہ تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین پر دوبارہ منظم ہوتے گئے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکتی گئی، پاکستانی فوجی تنصیبات اور شہری مراکز نشانے پر آتے رہے مگر طالبان حکومت نے یا تو آنکھیں بند کیے رکھیں یا پھر دانستہ لاتعلقی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے بارہا انٹیلی جنس شواہد فراہم کیے، اعلیٰ سطحی وفود کابل بھیجے، سفارتی چینلز کھلے رکھے مگر طالبان حکومت مسلسل یہی دعویٰ دہراتی رہی کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی، حالانکہ زمینی حقائق، گرفتار دہشت گردوں کے اعترافات، سرحد پار حملوں کا تسلسل اور انٹیلی جنس رپورٹس اس دعوے کو بار بار جھٹلاتی رہیں۔ طالبان قیادت کا رویہ صرف غیر ذمہ دارانہ نہیں بلکہ کئی مواقع پر کھلی ہٹ دھرمی اور سیاسی فریب کاری پر مبنی محسوس ہوا۔ ایسا لگتا رہا جیسے کابل وقت گزاری، مبہم بیانات اور سفارتی دھند کے ذریعے اصل مسئلے کو دفن کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پاکستان ایک طویل عرصے تک اس امید کے ساتھ تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا کہ طالبان شاید زمینی حقائق کی سنگینی کو سمجھیں گے اور تعلقات کو تصادم کے بجائے تعاون کی طرف لے جائیں گے۔ اسلام آباد نے عالمی دباؤ کے باوجود طالبان حکومت سے رابطے ختم نہیں کیے، انہیں مکمل سفارتی تنہائی میں دھکیلنے کے بجائے انگیج رکھنے کی کوشش جاری رکھی اور بین الاقوامی فورمز پر بھی افغانستان کے انسانی بحران کو اجاگر کیا لیکن طالبان کی سخت گیر قیادت نے پاکستان کی اس پالیسی کو خیرسگالی کے بجائے کمزوری سمجھ لیا۔ ان کے رویوں سے مسلسل یہ تاثر ابھرتا رہا کہ وہ پاکستان کے تحفظات کو وقتی شور سمجھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پاکستان مغربی سرحد پر کسی بڑے تصادم کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ یہی غلط اندازہ رفتہ رفتہ سیاسی غرور اور تزویراتی تکبر میں بدل گیا۔ ہیبت اللہ رجیم نے شاید یہ فراموش کر دیا تھاکہ ریاستیں دوستی، مذہبی قربت اور تاریخی تعلقات کے باوجود اپنی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ جب کسی ملک کے شہری مسلسل دہشت گردی کا شکار ہوں، اس کے فوجی جوان شہید ہو رہے ہوں اور اس کی سرزمین کے خلاف منظم کارروائیاں جاری ہوں تو پھر برداشت کی ہر حد ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی اس خوش فہمی کا علاج اچھی طرح کر دیا ہے۔ یہ صرف ایک عسکری ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک دوٹوک سیاسی اور تزویراتی پیغام بھی تھا کہ پاکستان اب اپنی سلامتی کے معاملے میں مزید ابہام، مصلحت یا خاموشی برداشت نہیں کرے گا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف طالبان قیادت بلکہ پورے خطے کو یہ احساس دلایا کہ پاک افغان تعلقات اب صرف جذباتی نعروں، مذہبی وابستگیوں یا ماضی کی قربانیوں پر نہیں چل سکتے۔ اب تعلقات کی بنیاد باہمی ذمہ داری، سرحدی نظم و ضبط اور دہشت گردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات ہوں گے۔ ہیبت اللہ رجیم بالآخر وہ کرنے میں کامیاب ہوگیا جو سوویت یونین اور بھارت نصف صدی کی کوششوں کے باوجود نہ کر سکے۔ اس رجیم نے پاکستان کے اندر افغانستان کے بارے میں موجود جذباتی نرم گوشے کو شدید تحفظات، سیاسی بداعتمادی اور سکیورٹی خدشات میں تبدیل کر دیا۔ آج پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ سوال سنجیدگی سے پوچھا جا رہا ہے کہ اگر ایک ریاست اپنی سرزمین کو مسلسل پاکستان دشمن دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے دے گی تو کیا محض مذہبی یا تاریخی رشتے قومی سلامتی کا متبادل بن سکتے ہیں؟ اس سوال نے پاک افغان تعلقات کی پوری بنیاد کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس حقیقت کو طالبان قیادت نے بہت دیر سے سمجھا۔

یہ بھی پڑھیں