Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بھارتی جارحیت اور شہریوں کا تحفظ، پاکستان کا اصولی مؤقف

معاصر عالمی سیاست میں جنگ و امن کے مباحث ہمیشہ طاقت اور مفاد کے گرد گھومتے رہے ہیں مگر کچھ اصول ایسے ہیں جو زمان و مکان کی قید سے ماورا ہو کر انسانیت کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ انہی اصولوں میں ایک بنیادی اصول یہ ہےکہ جنگ کے دوران بھی بے گناہ انسانوں کا تحفظ یقینی بنایاجائے۔ معرکۂ حق کے تناظر میں بھارت کی جانب سے بلااشتعال جارحیت اورشہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے نہ صرف علاقائی امن کوخطرے میں ڈالا بلکہ انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی کی ۔ اس کے برعکس پاکستان کا ردعمل نہ صرف دفاعی نوعیت کا تھا بلکہ اس میں اسلامی اصول عدل، تحمل اور انسانی وقار کا واضح عکس بھی نظر آتا ہے۔اسلام ایک ایسا ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے جو نہ صرف امن کے زمانے میں بلکہ جنگ کے دوران بھی اخلاقی حدود کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ معرکۂ حق میں پاکستان نے انہی اصولوں کو مقدم رکھا جن کے تحت شہری آبادیوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو ہرحال میں تحفظ دینا لازم ہے۔ اسلامی تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ جنگ صرف ان لوگوں کے خلاف کی جائے جو براہ راست لڑائی میں شامل ہوں جبکہ غیر جنگجو افراد کو نقصان پہنچانا سختی سے منع ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کا طرزِ عمل ایک اصولی ریاست کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی دفاعی حکمت عملی میں بھی اخلاقیات کو نظرانداز نہیں کرتی۔ بھارت کی جانب سے کی جانے والی جارحیت نے ان تمام اصولوں کو پامال کیا ہے۔ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا، رہائشی علاقوں پر حملے کرنا اور معصوم بچوں و خواتین کو زد میں لانا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات سے ظاہر ہےکہ طاقت کے نشے میں بھارت نے اخلاقی حدود کو پس پشت ڈال دیا۔
اسلام جنگ میں بھی انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے جہاں دشمن کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا برتاؤ لازم قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے اپنے دفاعی ردعمل میں جس احتیاط اور توازن کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس نے نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ کسی بھی کارروائی میں غیر جنگجو افراد کو نقصان نہ پہنچے۔ اس طرزِ عمل نے یہ امر مہمیز کیا ہے کہ ایک اسلامی ریاست اپنی طاقت کو بھی اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کرتی ہے۔ معرکۂ حق نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ اسلام صرف امن کا ہی نہیں بلکہ جنگ کے دوران بھی انسانیت کے تحفظ کا ضامن ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ شہری آبادیوں پر حملے کسی بھی جواز کے تحت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔ اسلام اس عمل کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ اسے ظلم اور ناانصافی قرار دیتا ہے۔ عالمی قوانین بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہیں جہاں جنگ کے دوران شہریوں کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان کا مؤقف ان دونوں حوالوں سے مضبوط ہے جو اسے اخلاقی برتری فراہم کرتا ہے جبکہ بھارت کے اقدامات نہ صرف خطے میں عدم استحکام کو بڑھانے کا موجب رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔طاقت کا استعمال اخلاقی حدود سے آزاد ہو جائے تو وہ تباہی کا سبب بنتا ہے۔ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں نے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے جبکہ پاکستان نے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے امن کو ترجیح دی ہے۔ یہ فرق دو مختلف نظریات کا عکاس ہے ایک وہ جو طاقت کو ہر مسئلے کا حل سمجھتا ہے اور دوسرا وہ جو اصولوں اور انصاف کو بنیاد بناتا ہے۔اسلامی تعلیمات میں جنگ کو ایک ناگزیر برائی کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے صرف دفاع اور انصاف کے قیام کے لیے اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بھی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے انہی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایک اسلامی ریاست نہ صرف اپنے دفاع کا حق رکھتی ہے بلکہ وہ اس حق کو استعمال کرتے ہوئے بھی انسانی اقدار کو مقدم رکھتی ہے۔اس تناظر میں شہریوں کے تحفظ کی یہ جنگ حق، انصاف اور انسانی وقار کے دفاع کی علامت بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ محض ایک عسکری معرکہ نہیں بلکہ ایک ایسی نظریاتی جدوجہد تھی جس میں اخلاقیات اور اصولوں کی بالادستی کو ثابت کیا گیا ہے۔ پاکستان کے اس مدبرانہ طرزِ عمل کو عالمی سطح پر بھی ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا گیا۔
یہ پہلو بھی نمایاں طور پر سامنے آیا کہ اس پورے معاملے میں ترجیحات کا فرق کتنا واضح ہے۔ ایک جانب ایسے اقدامات دیکھنے میں آئے جن میں آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور کمزور طبقات کو بھی محفوظ نہ رکھا جا سکا جبکہ دوسری طرف ایک محتاط حکمت عملی اختیار کی گئی جس میں غیر متعلقہ افراد کی سلامتی کو بنیادی حیثیت دی گئی۔ یہی طرزِ فکر اس حقیقت کا ترجمان ہے کہ دینی رہنمائی محض نظریاتی ہی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جب ریاستی فیصلے انسانی جان کے احترام کے ساتھ کیے جائیں تو وہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی جواز بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بجا ہے کہ ذمہ دارانہ رویہ ہی پائیدار امن کی بنیاد رکھتا ہے اور اسی میں خطے کے بہتر مستقبل کی ضمانت پوشیدہ ہے۔ بہرحال معرکۂ حق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اصل قوت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اصولوں میں ہوتی ہے۔ وہ ریاستیں جو انصاف، اخلاق اور انسانیت کو اپنی پالیسیوں کا محور بناتی ہیں، وہی حقیقی معنوں میں مضبوط اور پائیدار ہوتی ہیں۔ پاکستان نے اس معرکے میں نہ صرف اپنے دفاع کا حق ادا کیا بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی معیار بھی قائم کیا جو آنے والے وقتوں میں رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں