Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بیٹی، بندوق اور بلوچ روایات

بلوچ معاشرے میں جب کسی بیٹی کا نام لیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ عزت،احترام اور ذمہ داری کا تصور جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بلوچ خواتین کو عسکری تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے تو سوال صرف سکیورٹی کا نہیں رہتابلکہ پورا معاشرہ کٹہرے میں آن کھڑا ہوتا ہے۔ یہ سوال بڑا فطری ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جو اپنی روایات میں عورت کو خصوصی مقام دیتا ہے، وہاں خواتین کو تشدد اور عسکریت پسندی کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس رجحان کے سامنے بلوچ معاشرہ خود اپنا کردار کس حد تک ادا کر رہا ہے؟
بلوچستان میں 2007 سے دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے لیکن حالیہ برسوں میں ایک نئی اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے ۔اول، بی ایل اے کے عالمی دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات اوردوئم اس سے بھی خطرناک یہ کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے خواتین کو بھی اپنی سرگرمیوں اور پروپیگنڈا مہمات کا حصہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں اس تنظیم کا انحصار زیادہ تر مرد دہشت گردوں پر تھا لیکن اب خواتین کو بھی منظم انداز میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ چند روز قبل جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں متعدد خواتین کو عسکری نوعیت کی تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ بظاہر اس ویڈیو کا مقصد ایک مخصوص بیانیے کا فروغ ہےلیکن اس کے ساتھ کئی اہم سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ یہ سوال کہ بلوچ خواتین کو آخر کس مقصد کے لیے عسکری تربیت کے مراکز تک پہنچایا جا رہا ہے؟ کیا انہیں بلوچستان کی ترقی، تعلیم اور قیادت کی علامت بنانا مقصود ہے یا پھر ایک ایسی مسلح جدوجہد کا چہرہ، جس کی قیمت بلوچستان برسوں سے خون، آنسوؤں اور عدم استحکام کی صورت میں ادا کر رہا ہے؟
اس رجحان کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ مختلف سکیورٹی اور تحقیقاتی حلقوں میں یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے نفسیاتی، جذباتی اور سماجی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اکثرکیسز میں خواتین کو دباؤ، بلیک میلنگ یا مختلف قسم کے استحصال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ واقعتاًیہی سب کچھ ہو رہا ہے اور یہ صرف ایک سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ سماجی المیہ بھی ہے کیونکہ اس کا نشانہ وہ طبقہ بنتا ہے جسے ہر معاشرہ اپنی طاقت اور مستقبل تصور کرتا ہے۔ اسی تناظر میں تربت پریس کلب میں ہونے والی حالیہ پریس کانفرنس میں بی ایل اے کی ویڈیو میں بطور کمانڈر دکھائی گئی سرمچار شہناز بلوچ کے اہلِ خانہ نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیاہے۔ اس پریس کانفرنس میں اس کی والدہ، نانا، ماموں اور دیگر قریبی رشتہ دار شریک تھے۔ خاندان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس بارہ برس سے ان کا شہناز بلوچ سے کوئی رابطہ نہیں اور وہ اس کی سرگرمیوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اس پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ خاندان اپنے آپ کو اس کے اعمال اور سرگرمیوں سے الگ قرار دے اور عوام کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرے۔ اس واقعے کو محض ایک خاندانی معاملہ سمجھنا غلط ہوگا یہ ایک بڑی سماجی حقیقت ہے۔ دہشت گردی اور عسکریت پسندی جب کسی فرد کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو اس کے اثرات صرف اسی فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان، رشتہ داروں اور پورے سماجی دائرے تک پھیل جاتے ہیں۔ تربت کی اس پریس کانفرنس نے یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ نوجوانوں کو اس راستے پر جانے سے روکنے میں معاشرے کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی عملی مزاحمت آج بھی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کر رہی ہیں۔ پاک فوج کے افسراور جوان روزانہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ان عناصر کا تعاقب کرتے ہیں جو ریاست ہی نہیں بلکہ بلوچستان کے امن کو بھی یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔ درجنوں افسران اور سینکڑوں جوان اس جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ متعدد دہشت گرد حملے ناکام بنائے گئے، نیٹ ورک توڑے گئے اور ایسے عناصر کو انجام تک پہنچایا گیا جو عام شہریوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔ یہ قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستان کے امن کی قیمت ہیں لیکن یہ سچ بھی اپنی جگہ موجود ہےکہ بندوق سے دہشت گرد کو شکست دی جا سکتی ہے، دہشت گردی کے نظریے کو نہیں۔ نظریات کا مقابلہ معاشرے کرتے ہیں۔ فوج اپنی ذمہ داری ادا کر سکتی ہے، ریاست اپنی قوت استعمال کر سکتی ہے مگر نوجوانوں کے ذہنوں کو گمراہ کن بیانیوں سے محفوظ رکھنے کی اصل طاقت خاندان، اساتذہ، قبائلی عمائدین، دانشوروں اور مقامی قیادت کے پاس ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ خاموش رہے تو دہشت گرد تنظیمیں نئے چہرے تلاش کر لیتی ہیں لیکن اگر معاشرہ واضح موقف اختیار کر لے تو ان کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ بلوچ معاشرے کو آج اسی موقف کی ضرورت ہے۔ اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ بلوچ عمائدین، سماجی شخصیات، سیاسی قیادت اور اہلِ دانش کھل کر یہ پیغام دیں کہ بلوچ بیٹیوں کا مستقبل بندوق کے سائے میں نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور ترقی کے راستے میں ہے۔ بلوچ خواتین ہمیشہ سے ہمت، وقار اور صلاحیت کی علامت رہی ہیں۔ آج بھی وہ طب، تعلیم، صحافت، کاروبار، سیاست اور سماجی خدمات کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہی ان کا اصل میدان ہے۔ جو عناصر انہیں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا چہرہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ ان کی بلکہ بلوچیت کی تذلیل کر رہے ہیں۔آج بلوچستان کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ کسی ویڈیو میں کتنی خواتین دکھائی گئیں یا کسی تنظیم نے اپنے پروپیگنڈا میں کون سا پیغام دیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آنے والی نسل کو کون سا راستہ دیا جائے گا۔ کیا بلوچستان کی بیٹیاں علم، ہنر اور قیادت کے ذریعے اپنے معاشرے کی تعمیر میں حصہ لیں گی یا انہیں ایسے راستوں پر دھکیلا جائے گا جن کا اختتام صرف توہین، تذلیل، نقصان، محرومی اور مزید عدم استحکام پر ہوتا ہے؟
پاک فوج اور سکیورٹی فورسز تو دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہیں اور اس راہ میں مسلسل قربانیاں بھی دے رہی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچ معاشرہ بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے کیونکہ دہشت گرد تنظیموں کی اصل شکست اس وقت نہیں ہوتی جب ان کا کوئی ٹھکانہ تباہ کیا جائے بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب معاشرہ ان کے بیانیے کو مسترد کر دے لہٰذا جس دن بلوچ معاشرہ اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے بارے میں ایک واضح فیصلہ کر لے گا، اس دن کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے ان کے ہاتھوں میں بندوق تھمانا ممکن نہیں رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں