Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

’’سوالوں سے بھاگتی جمہوریت‘‘

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے کا شوق بہت پرانا ہے۔ نئی دہلی کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران یہ دعویٰ بھی بڑے اعتماد سے کرتے ہیں کہ بھارت ایک سیکولر، کشادہ دل اور شخصی آزادیوں کا احترام کرنے والی ریاست ہے جہاں ہر شہری کو بولنے، سوال کرنے اور اختلاف کرنے کا حق حاصل ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ساری جمہوریت اس وقت کانپنے لگتی ہے جب کوئی صحافی مائیک اٹھا کر ایک سیدھا سا سوال پوچھ لیتا ہے۔ پھر اچانک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے پاس نہ جمہوریت بچتی ہے، نہ برداشت، نہ دلیل اور نہ حوصلہ صرف بیانیہ رہ جاتا ہے، سرکاری تقریریں رہ جاتی ہیں اور ماضی کے کارناموں کی گرد اڑائی جانے لگتی ہے تاکہ حال کے داغ چھپائے جا سکیں۔اوسلو میں بھارتی وزارت خارجہ کی پریس کانفرنس میں یہی منظر پوری دنیا نے دیکھا۔ ناروے کی صحافی ہیلی لینگ نے بھارتی حکام سے پوچھ لیا کہ دنیا بھارت پر اعتماد کیوں کرے جبکہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں کے استحصال اور پریس کی آزادی پر قدغنوں کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی ہیں؟ سوال یہ بھی تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم مشکل سوالات کا سامنا کب کریں گے؟ سوال مختصر تھا مگر اس نے بھارتی سفارت کاری کے پورے میک اپ کو بہا دیا۔ انسانی حقوق کے سوال پر نئی دہلی کے نمائندے ایسے بکھرے جیسے کسی نے سرکاری اسکرپٹ کے درمیان سے اصل سوال نکال کر میز پر رکھ دیا ہو۔
سوال انسانی حقوق کا تھا مگر جواب یوگا کے آسنوں میں تلاش کیا جانے لگا۔ بتایا گیا کہ بھارت پانچ ہزار سال پرانی تہذیب ہے، صفر اس نے ایجاد کیا، یوگا اس نے دنیا کو دیا، کووڈ کے دوران ویکسین بھیجیں، جی 20 کانفرنس کروائی، افریقی یونین کو نمائندگی دلوائی۔ گویا ریاستی جبر کا علاج اب شاید مراقبے سے کیا جائے گا۔ صحافی بار بار اصل سوال کی طرف لوٹتی رہیں اور بھارتی نمائندے مسلسل اس سوال کے گرد چکر کاٹتے رہے جس کا سامنا کرنے کی ہمت ان میں موجود نہیں تھی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جواب کم اور تقریر زیادہ تھی۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نہیں بلکہ کسی سیاحتی مہم کے بروشر پر گفتگو ہو رہی ہو۔ دیکھا جائے تو یہ سارا منظر بھارت کے اس مصنوعی جمہوری چہرے کی ایک جھلک تھا جو اب عالمی سطح پر تیزی سے اپنا نقاب الٹ رہا ہے۔ مودی حکومت کے دور میں بھارت نے جمہوریت کو ایک انتخابی نعرے سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ وہاں اختلاف رائے کو غداری، تنقید کو سازش اور اقلیتوں کے حقوق کی بات کو قومی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا گیا۔ مسلمان ہوں، سکھ ہوں، عیسائی ہوں یا دلت، خوف کی ایک دبیز فضا پورے سماج پر پھیل چکی ہے۔ ہجوم کے تشدد سے لے کر نفرت انگیز قوانین تک، ہر وہ شے جسے کبھی انتہا پسندی کہا جاتا تھا، اب ریاستی پالیسی کے سائے میں سانس لیتی دکھائی دیتی ہے۔
بی جے پی نے بھارت کے سیکولر تشخص کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ مذہب کو سیاست کی سیڑھی بنایا گیا اور قوم پرستی کو ایسا ہتھیار کہ جس کے سامنے سوال پوچھنے والا بھی مشکوک ٹھہرنے لگا۔
آج بھارت میں آزاد صحافت تقریباً ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے اینکر حکومت سے سوال پوچھنے کے بجائے اپوزیشن کے خلاف جنگی ترانے پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں اب صحافت نہیں، وفاداری پسند کی جاتی ہے۔ شاید اسی لیے ناروے کی ایک صحافی کا سوال بھارتی حکام کے لیے اتنا غیر معمولی ثابت ہوا۔ وہ ایسے ماحول کے عادی ہو چکے ہیں جہاں سوال پہلے سے طے ہوتے ہیں اور جواب تالیاں بجاتے اسٹوڈیوز میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ہیلی لینگ نے بعد میں بجا طور پر حیرت کا اظہار کیا کہ ناروے کے وزیرِاعظم مصروف ہونے کے باوجود صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہیں مگر بھارت کے وزیرِاعظم سوالوں سے دور رہتے ہیں۔ یہ جملہ محض ایک تبصرہ نہیں تھا بلکہ مودی حکومت کے سیاسی مزاج پر فردِ جرم تھا۔ جمہوری رہنما سوالوں سے نہیں بھاگتےبلکہ ان کا سامنا کرتے ہیں۔ صرف وہ حکومتیں سوالوں سے خوفزدہ ہوتی ہیں جنہیں اپنے ہی بیانیے پر یقین نہ رہا ہو۔اگر مودی حکومت نے بی جے پی کی شدت پسند پالیسیوں کو ریاستی وقار کا نام نہ دیا ہوتا تو شاید آج اسے صحافیوں کے سوالوں سے اس طرح گھبرانا نہ پڑتا۔ اگر بھارت واقعی وہی روشن خیال جمہوریت ہوتا جس کا اشتہار دنیا بھر میں دیا جاتا ہے تو انسانی حقوق پر ایک سوال پوری سفارتی ٹیم کے اعصاب منتشر نہ کر دیتا، مگر جب اقتدار کی بنیاد خوف، مذہبی تقسیم اور جذباتی قوم پرستی پر رکھی جائے تو پھر ایک صحافی کا سوال بھی سیاسی زلزلہ محسوس ہونے لگتا ہے۔لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے درست کہا کہ جب چھپانے کے لیے کچھ نہ ہو تو خوفزدہ ہونے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ان کا سوال نہایت اہم تھا کہ دنیا جب ایک ایسے وزیرِاعظم کو دیکھتی ہے جو چند سوالات سے گھبرا کر منظر سے ہٹ جائے تو اس سے بھارت کی عالمی شبیہ پر کیا اثر پڑتا ہے؟
مودی سرکار نے بھارت کو معاشی طاقت کے طور پر ضرور پیش کیا مگر جمہوری اعتماد کے میدان میں وہ مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر اب بھارت کی معاشی ترقی سے زیادہ اس کی سیاسی بےچینی زیرِ بحث آنے لگی ہے۔ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترا نے بھی تلخ مگر سچی بات کہی کہ ناروے کی صحافی نے وہ کام کیا جو بھارتی میڈیا کا بڑا حصہ کرنے میں ناکام رہا یعنی اقتدار سے سوال پوچھنا، اور موجودہ بھارت کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے۔ وہاں میڈیا کے ایک بڑے حصے نے ریاست کے سامنے سوال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ جب صحافت سوال چھوڑ دے تو جمہوریت سرکاری اشتہار بن جاتی ہے اور جب اقتدار جواب دینا چھوڑ دے تو آمریت زیادہ دور نہیں رہتی۔اوسلو کی یہ پریس کانفرنس محض ایک سفارتی تقریب نہیں تھی، یہ بھارت کے جمہوری دعووں کا پولی گراف ٹیسٹ تھی۔ سوال انسانی حقوق کا تھا مگر جواب تہذیب، یوگا اور سفارتی کامیابیوں کے پردوں میں لپیٹ دیا گیا مگر دنیا اب اتنی سادہ نہیں رہی کہ ہر سوال کے جواب میں یوگا کا پوسٹر دیکھ کر مطمئن ہو جائے۔ دنیا اب یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ کسی ملک میں صحافی کتنے آزاد ہیں، اقلیتیں کتنی محفوظ ہیں اور حکمران سوال سن کر مسکراتے ہیں یا راستہ بدل لیتے ہیں۔اوسلو میں دنیا نے صرف ایک صحافی نہیں دیکھی، اس نے ایک سوال دیکھا اور بھارت اس سوال کے سامنے غیر معمولی طور پر بے چین دکھائی دیا۔ یہی بے چینی اس کی جمہوریت کا اصل چہرہ ہے جو دنیا کو آزادی کا درس دیتی ہے مگر خود سوالوں سے خوفزدہ رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں