آزاد کشمیر میں احتجاج کو صرف مہنگائی، بجلی یا آٹے کے بحران تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے پس منظر میں ایک ایسی سیاست بھی کارفرما دکھائی دے رہی ہے جو عوامی مسائل سے زیادہ ریاستی کشیدگی کو بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں احتجاج کے انداز، زبان اور ترجیحات میں واضح طور پر تبدیلی ہوئی ہے۔ مطالبات اپنی جگہ موجود ہیں مگر ان مطالبات کے ساتھ جس نوعیت کا بیانیہ جوڑا جا رہا ہے اس نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل اشتعال، نوجوانوں میں غصے کی منظم فضا اور ہر معاملے کو تصادم کی طرف لے جانے کی کوشش اب محض اتفاق محسوس نہیں ہوتی۔
ملک بھر میں اس وقت مہنگائی اور معاشی دباؤ ایک حقیقت ہیں۔ عام آدمی بجلی کے بل، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے مسائل سے پریشان ہے۔ ان مشکلات پر آواز اٹھانا ہر شہری کا حق بھی ہے اورعوام کے مسائل کو حل کرنا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بھی ،مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عوامی مطالبات کو ایک ایسے رخ پر ڈال دیا جائے جہاں اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جائے اور محاذ آرائی اصل مقصد بن کر سامنے آنے لگے۔ آزاد کشمیر کی حالیہ احتجاجی تحریکوں میں یہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ مذاکرات کی بات ہو یا حکومتی ریلیف، ماحول کو پرامن رکھنےکے بجائے اس پر مزید پٹرول چھڑکا جا رہا ہے۔اس تمام ترصورتحال میں ایک بات مسلسل توجہ طلب ہے کہ احتجاجی سیاست کے کچھ مخصوص چہرے ہر بحران میں ایک ہی انداز کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ان کی تقاریر، سوشل میڈیا مہمات اور ریاستی اداروں کے بارے میں زبان تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ اختلاف رائے جمہوری حق ہے لیکن جب اختلاف مسلسل نفرت میں بدلنے لگے اور ہر ریاستی اقدام کو سازش بنا کر پیش کیا جائے تو پھر معاملہ صرف سیاسی اختلاف نہیں رہتا۔ یہ سوچنا پڑتا ہے کہ آخر اس مسلسل اشتعال کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں کبھی بھی سیاسی بے چینی محض مقامی مسئلہ نہیں رہی۔ اس خطے کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت ہمیشہ بیرونی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی کو فوری طور پر بیرونی حلقوں کی دلچسپی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ گزشتہ احتجاجی لہر کے دوران بھی بیرون ملک موجود بعض حلقوں کی غیر معمولی سرگرمی واضح دکھائی دی۔ سوشل میڈیا پر منظم مہمات، مخصوص بیانیوں کی مسلسل تشہیر اور ریاستی اداروں کو متنازع بنانے کی کوششوں نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ معاملہ صرف عوامی حقوق تک محدود نہیں رہا کیونکہ عوامی تحریکیں عام طور پر مسائل کے حل کی جانب بڑھتی ہیں جبکہ یہاں صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ہر حل کے بعد ایک نیا تنازع سامنے آ جاتا ہے۔ کبھی مطالبات کا دائرہ بدل جاتا ہے اور کبھی زبان کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ عناصر کے لیے مسئلے کا حل ضروری نہیں بلکہ بے چینی کا برقرار رہنا زیادہ اہم ہے کیونکہ جب ماحول مسلسل کشیدہ رہے تو جذباتی سیاست کو زندہ رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے ہر وقت ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں ریاست اور عوام کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا دکھایا جا سکے۔
اس طرزِ سیاست کا سب سے بڑا نقصان نوجوان نسل کو پہنچ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں جذباتی بیانیہ بہت تیزی سے اثر انداز ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ہر ادارہ ان کے خلاف ہے اور ہر مسئلے کا حل صرف سڑکوں پر تصادم میں موجود ہے حالانکہ دنیا کے کسی بھی سنجیدہ معاشرے میں مستقل کشیدگی ترقی کا راستہ نہیں بنتی۔ سیاسی شعور اور سیاسی اشتعال میں فرق ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے اس فرق کو جان بوجھ کر دھندلا کیا جا رہا ہے۔ اس دوران عام شہری کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بازار بند ہوتے ہیں تو نقصان کاروباری طبقہ اٹھاتا ہے۔ راستے بند ہوں تو روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور متاثر ہوتا ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں رکیں تو طالب علم کا مستقبل متاثر ہوتا ہے مگر احتجاجی قیادت کے بیانات میں ان نقصانات کا ذکر موجود ہی نہیں ہوتا۔ زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ ماحول کسی بھی طرح مزید دباؤ کا شکار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے لوگ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ آیا واقعی یہ سیاست عوامی خدمت کے لیے ہو رہی ہے یا پھر عوامی جذبات کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ریاست مخالف بیانیہ کسی بھی معاشرے میں خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے۔ اداروں پر تنقید اور ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر غیر معتبر ثابت کرنے میں واضح فرق ہے۔ جب مسلسل یہ تاثر دیا جائے کہ ہر ادارہ ناکام ہے، ہر فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے اور ہر حکومتی اقدام عوام دشمنی ہے تو اس کا نتیجہ صرف بداعتمادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسی فضا دشمن قوتوں کے لیے ہمیشہ فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ داخلی تقسیم کسی بھی خطے کو کمزور کرنے کا سب سے آسان راستہ ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام اب کہیں زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ صرف نعروں کو نہیں بلکہ ان نعروں کے پیچھے موجود مقاصد کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ ادراک بڑھ رہا ہے کہ ہر بلند آواز عوامی مفاد کی نمائندگی نہیں کرتی اور ہر احتجاج مخلص قیادت کا عکس نہیں ہوتا۔ بعض سیاسی سرگرمیاں بظاہر مقامی مطالبات کے گرد گھومتی ہیں مگر ان کے محرکات اور نتائج اس سے کہیں زیادہ وسیع اور مختلف ہوتے ہیں۔اس میں اب کوئی ابہام نہیں رہاکہ آزاد کشمیر میں موجودہ احتجاجی سیاست ایک عام عوامی تحریک نہیں بلکہ ایک مسلسل دباؤ، مستقل کشیدگی اور ریاستی رِٹ کو کمزور کرنے کے ایک منظم سیاسی ماڈل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اصل بحث مطالبات کی نہیں رہی بلکہ اس بات کی ہے کہ یہ کشیدگی آخر کس مقصد کے لیے برقرار رکھی جا رہی ہے اور اس کا حقیقی فائدہ کس طاقت کے حصے میں جا رہا ہے۔آزاد کشمیر کو اس وقت جذباتی ہجوم نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی سوچ کی ضرورت ہے۔ مسائل کا حل احتجاج سے انکار میں نہیں بلکہ ذمہ دار سیاسی رویے میں ہے۔ عوامی حقوق اہم ہیں مگر ان حقوق کے نام پر اگر مسلسل انتشار، اشتعال اور ریاستی تصادم کو ہوا دی جائے تو نقصان آخرکار پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے اور کشمیری عوام کو اس حقیقت کا مکمل ادراک ہے۔