اسلام آباد: تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت عالمی معیشت کا اہم موضوع بن گیا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک ہی روز میں سات فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ صورتحال نے عالمی تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمت بڑھ کر 74 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ) 78 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت بھی 74 ڈالر فی بیرل سے زائد ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں ممکنہ فوجی تناؤ کے باعث سرمایہ کاروں نے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو اس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر درآمدی ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں آئندہ قیمتوں کے تعین پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا حتمی فیصلہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات، درآمدی لاگت اور حکومتی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ وزیر پیٹرولیم بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا، تاہم موجودہ صورتحال پر حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔


