بھارت میں گائے اب محض ایک مذہبی علامت نہیں رہی بلکہ ریاستی سیاست کا سب سے مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ ایک طرف گائے کے تحفظ کے نام پر سخت قوانین ہیں، جذباتی سیاسی نعرے ہیں اور سماج میں مسلسل خوف اور کشیدگی کا ماحول بھی ہے جبکہ دوسری طرف یہی بھارت عالمی منڈی میں بیف کی بڑی برآمدی طاقت کے طور پر موجود ہے گویا ایک ہی ریاست دو بالکل متضاد راستوں پر چل رہی ہے یعنی اندر مذہبی سختی لیکن باہر کھلی تجارت۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی طرزعمل ہے جس نے ریاستی پالیسی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، ایک اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے اورایک معیشت کے لیے۔
کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنےحالیہ فیصلے میں مغربی بنگال حکومت کی پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کو مویشیوں کے ذبیحے پر شرائط لگانے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر انتظامی دائرے میں ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ جب مذہبی معاملات ریاستی پالیسی اور عدالتی تشریح کے تابع ہو جائیں تو مذہبی آزادی کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔ بھارت میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ مذہبی عمل کو بنیادی حق کے بجائے’’اجازت‘‘ اور ’’پابندی‘‘کے فریم میں دیکھا جا رہا ہے جبکہ اس سے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید کمزور ہوتا ہے۔
اس فیصلے کے فوراً بعد جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے یہ مطالبہ کیاہے کہ گائے کو پورے ملک میں قومی جانور قرار دیا جائے۔ ان کا موقف جذباتی نہیں بلکہ اس زمینی حقیقت کے تناظر میں ہے کہ گائے کے نام پر ہجومی تشدد، قتل اور سماجی خوف ایک مسلسل مسئلہ بن چکا ہے ۔ ان کے مطابق اگر ریاست واقعی گائے کو اس قدر مقدس سمجھتی ہے تو پھر اسے پورے ملک میں ایک ہی قانون کے تحت لایا جائے تاکہ اس کے نام پر ہونے والے تشدد، امتیاز اور سیاسی استعمال کا راستہ بند ہو سکے۔ اس مطالبے کا پس منظر یہ ہے کہ بھارت میں ایک طرف ہندو کاروباری گروپس جن میں سے بعض بڑے تجارتی حلقوں کے بارے میں بی جے پی سے قریبی تعلقات کے تذکرے بھی ہوتے رہے ہیں، بیف کی برآمدی صنعت میں شامل ہیں اور دوسری طرف گائے کے نام پر سخت بیانیہ اور پابندیاں بھی موجود ہیں۔اس پس منظر میں ارشد مدنی کا موقف مودی سرکار پر ایک علامتی سیاسی چوٹ بھی ہے کہ جب ریاستی بیانیہ اور معاشی حقیقت ایک دوسرے کے متضاد ہوں تو پھر گائے کے نام پر بننے والی سخت پالیسیوں کا اصل مقصد کیا رہ جاتا ہے۔ ارشد مدنی کے اس موقف کے بعد بھارت میں کلکتہ عدالت کے فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاج کی لہر اٹھی ہے جس میں عدالت کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے،وجہ یہی ہے کہ چونکہ خود بھارت کے طاقتورہندو گروپ مغربی منڈیوں میں بیف کےبرآمدکنندگا ن ہیں لہذا بھارتی عدالت کا یہ فیصلہ ان کی معاشی اور کاروباری موت ہے۔
بھارت کی بیف کی برآمدی صنعت اس پورے نظام کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ ایک طرف اندرون ملک گائے کے نام پر سخت پابندیاں اور حساسیت ہےجبکہ دوسری طرف یہی ملک اربوں ڈالر کی گوشت برآمدات کرتا ہے۔ اس صنعت میں صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ مختلف مذہبی اور سماجی پس منظر رکھنے والے بڑے کاروباری ادارے شامل ہیں جو خاموشی سے اس نظام کا حصہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی سختی عوامی سطح پر دکھائی جاتی ہے مگر معاشی سطح پر عملی حقیقت بالکل مختلف ہے۔ بھارت کی ریاستی پالیسی کی یہ دوہری شکل ہے۔امریکی محکمہ زراعت کی رپورٹس کے مطابق بھارت دنیا کے بڑے بیف برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہ حقیقت اس دعوے کو بہرحال کمزور کرتی ہے کہ گائے کے تحفظ کی سیاست صرف مذہبی جذبے کا نتیجہ ہے۔ اگر واقعی اصول ایک جیسے ہوتے تو پھر اندرونی پابندیاں اور بیرونی تجارت ایک ساتھ کیسے چلتی؟ صاف نظر آتا ہے کہ نظریہ اور معیشت ایک دوسرے کے متوازی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف چل رہے ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ریاست دونوں کو ایک ساتھ برقرار رکھنے کی دعویداربھی ہے۔سیاسی سطح پر بھی یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ بیف کی صنعت سے جڑے بڑے کاروباری گروپس ریاستی طاقت کے قریب ہیں۔ ان کے سیاسی تعلقات، مالی اثر و رسوخ اور پالیسی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات وقتاً فوقتاً اٹھتے رہے ہیں مگر کوئی واضح اور شفاف جواب سامنے نہیں آتا۔ مودی سرکار کی یہ خاموشی اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ پالیسی سازی مکمل طور پر اصولوں پر نہیں بلکہ مفادات کے توازن پر چل رہی ہے اور اصل مسئلہ یہی ہے کہ بھارت میں گائے کے نام پر جو پرتشدد بیانیہ بنایا گیا ہے وہ عملی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک طرف مذہبی جذبات کو بنیاد بنا کر سخت قوانین اپناتے ہوئے مسلمانوں پر سماجی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف عالمی منڈی میں اسی شعبے سے بھاری زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔
بھارت کی گوشت برآمدی صنعت محض ایک تجارتی سرگرمی نہیں بلکہ ریاستی معیشت کا اہم حصہ ہے مگرجب ریاست ایک طرف اخلاقی اور مذہبی رواداری کی دعویدار ہو لیکن دوسری طرف اسی کے الٹ عملی نظام کو بھی جاری رکھے تو پھر اصول نہیں صرف مفادات کا انتظام رہ جاتا ہے اور بھارت کی ساکھ کو زمین بوس کرنے والے یہی رویے اور پالیسیاں ہیں۔ بھارتی عدالتوں کے ان فیصلوں کو بھی ایسے ہی متضاد رویوں کی ایک کڑی کہا جا سکتاہے اور انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلم مخالف پالیسیوں کے تسلسل سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین مسلسل یہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی روزمرہ زندگی مودی کے دور اقتدار میںکہیں زیادہ مشکلات کا شکار ہوچکی ہے۔ قانونی فیصلوں، سماجی دباؤ اور سیاسی بیانیے نے بھارت کے اندر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں مودی سرکار کی جانب سے شہریوں کے تحفظ، مساوات اور انصاف کے نعرے اب محض جھوٹ کا پلندہ دکھائی دیتے ہیں۔ عدالتی فیصلے کو اب صرف مذہبی بحث نہیں کہا جا سکتا بلکہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے یہ ایک واضح سیاسی اور معاشی سوال بن چکا ہے کہ کیا بھارت کا ایجنڈامحض مسلمانوں کو ازیت سے دوچار رکھناہے۔