دنیا ایک ایسے عہد سے گزر رہی ہےجہاں طاقت کا توازن اور انسانی قدریں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا دکھائی دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ جو کبھی تہذیبوں کا گہوارہ تھا، اب جنگ انتقام اور غیر یقینی کا استعارہ بن چکا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کا تنازع اب محض ایک سیاسی جھگڑا نہیں بلکہ انسانی المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جب ہلاکتوں کا شمار روزمرہ کا معمول بن جائے تو قوموں کے دل پتھر ہو جاتے ہیں۔ انہی حالات میں بنگلہ دیش ٹائمز میں شائع ہونے والا یوسی میکلبَرگ (Yossi Mekelberg) کا مضمون اس بحران پر گہری فکری روشنی ڈالتا ہے۔ وہ اسرائیلی سیاست کے تضادات، نیتن یاہو کے اقتدار کی خود غرضانہ پالیسیوں اور امن کے امکانات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ شَرم الشیخ میں طویل مذاکرات کے بعد بالآخر فریقین نے 1948 کے بعد اسرائیل فلسطین تنازعے کی تاریخ کے بدترین خونی دور کے خاتمے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اگرچہ معمول پر واپسی ایک طویل اور صبر آزما سفر ثابت ہوگی، تاہم یہ لمحہ دونوں معاشروں کے لیے موقع بھی ہےکہ وہ سوچیں کہ وہ اس تباہ کن انجام تک کیسے پہنچے۔بین یامین نیتن یاہو کی حالیہ متضاد اور خود ستائی پر مبنی تقاریر اس طویل دورِ اقتدار کی علامت ہیں جو انہوں نے اسرائیل کے وزیرِاعظم کی حیثیت سے گزارا۔ یہ ایسا ورثہ ہے جس کے اثرات صرف فلسطینیوں یا خطے کے دیگر ممالک تک محدود نہیں بلکہ خود اسرائیل اور اس کے عوام پر بھی گہرے ہیں اور جنہیں درست کرنے میں برسوں لگیں گے۔ ان کا اقتدار اپنے اختتام کے قریب ہے اب سوال یہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہر چیز اور ہر شخص کو مزید کتنا نقصان پہنچانے کے بعد سیاسی منظرنامے سے رخصت ہوں گے۔اگر کوئی واقعہ ان کے سیاسی زوال کو تیز کر سکتا تھا، تو وہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی پیش گوئی اور تدارک میں ان کی ناکامی تھی۔ اس کے بعد کے چند دنوں میں ان کی بے عملی نے ظاہر کر دیا کہ اسرائیل کی تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی ناکامی انہی کے دور میں ہوئی، مگر نہ وہ اور نہ ہی ان کے رفقا جو اسرائیل کی تاریخ کی بدترین حکومت کہلانے کے مستحق ہیں اس ناکامی کو تسلیم کرنے، معذرت کرنے یا مستعفی ہونے پر آمادہ ہوئے۔ انہوں نے نہ نئے انتخابات کرائے اور نہ ہی آزاد تحقیقات کا آغاز کیا۔آج اسرائیل اندرونی طور پر بکھرا ہوا اور عالمی سطح پر تنہا ہے۔ اس پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔ نیتن یاہو کی چھٹی حکومت کے بے احتیاط اقدامات نے جو نقصان پہنچایا ہے، اسے محض ایک انتخابی عمل سے درست نہیں کیا جا سکتا۔حکومت کے آغاز ہی میں نیتن یاہونے شدت پسند اور مذہبی انتہا پسند گروہوں کو اقتدار کا حصہ بنایاجس سے اسرائیلی جمہوریت کی بنیادیں ہل گئیں۔ وزیرِاعظم نے آبادکاروں کو خوش کرنے کے لیے بستیوں کے پھیلاؤ اور ان کے تشدد کو کھلی چھوٹ دے دی۔یہ حکومت اسرائیلی معاشرے کو اندرونی طور پر تقسیم کر چکی ہے۔ اب اسرائیل اپنے دشمنوں سے نہیں بلکہ اپنی داخلی نفرت اور انتہا پسندی سے لڑ رہا ہے۔ اس کمزوری نے دشمنوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ اسرائیل میں نہ اتحاد باقی رہا ہے اور نہ ہی فلسطینی قبضے کے خاتمے کی کوئی امید۔ یہ مجموعہ مہلک ثابت ہوا۔
7اکتوبر کے واقعات یقینا ہولناک اور ناقابلِ معافی تھے لیکن ان سے اسرائیل کے غیر انسانی ردِعمل کو کسی طور جواز نہیں دیا جا سکتا۔ بڑے رہنما اپنی قوم کے بہترین اوصاف کو ابھارتے ہیں جب کہ نیتن یاہو جیسے عوامی مقبولیت کے بھوکے سیاست دان عوام کے خوف اور تعصب کو بھڑکا کر معاشرے کی بدترین شکل سامنے لاتے ہیں۔حماس کا حملہ صدمہ انگیز تھا اور کسی نہ کسی ردِعمل کی توقع فطری تھی مگر جو کچھ غزہ میں ہوا، 67 ہزار سے زائد ہلاکتیں، جن میں اکثریت عام شہریوں اور بچوں کی تھی وہ کسی اخلاقی جواز سے بالاتر ہے۔ یہ جنگ کسی دفاعی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ نیتن یاہو کی سیاسی بقا اور بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کے لیے جاری رکھی گئی۔ اس مقصد کے لیے اس نے جنگ کو طول دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی، چاہے اس کے نتیجے میں قیدی، فوجی یا معصوم شہری قربان ہی کیوں نہ ہو جائیں۔جنگ کے اختتام پر اسرائیلیوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہونا چاہیے کہ وہ اس تاریک گہرائی سے کیسے نکلیں گے۔ اس کا کوئی فوری حل نہیں مگر پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اسرائیلی معاشرے میں ایسے رجحانات پیدا ہو چکے ہیں جنہوں نے اسے ایک آزاد خیال جمہوریت سے ایک انتہا پسند ریاست میں بدل دیا ہے۔یہودی اورجمہوری ہونے کے تصورات کے درمیان تضاد ہمیشہ سے رہا ہے مگر اسے سلجھایا جا سکتا ہے اگر نیت صادق ہو۔فلسطینی سرزمین پر قبضہ اور وہاں کے عوام کو ان کے سیاسی و انسانی حقوق سے محروم رکھنا اسرائیل کے نظریے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اب اسرائیل چند انتہا پسند آبادکاروں کے ہاتھوں یرغمال ہےجو طاقت کے استعمال کو واحد حل سمجھتے ہیں۔ ان حالات کو ایک موقع پرست لیڈر نے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور خود کو قوم کا نجات دہندہ بنا کر پیش کیا۔اب ضروری ہے کہ 7 اکتوبر کی ناکامیوں پر ایک آزاد، بااختیار تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔ یہ کمیشن تمام سرکاری فیصلوں کو زیرِتحقیق لائے اور کسی پردہ پوشی کی اجازت نہ دے۔ صرف سچ سامنے آنے سے ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ اسرائیل نے کس طرح ایک نااہل اور انتہا پسند حکومت کو خود پر مسلط ہونے دیا، جس نے جنگ کو بدلے اور اقتدار کے تحفظ کا ذریعہ بنا دیا۔جو کچھ اس دن ہوا وہ کسی صورت قابلِ جواز نہیں لیکن اسی طرح غزہ میں بعد میں ہونے والے قتلِ عام، تباہی، بے دخلی اور قحط کو بھی کوئی جواز نہیں دیاجا سکتا۔ 7 اکتوبر نے اسرائیلی عوام کو جھنجھوڑا ضرور، مگر ان کی ہمدردی اور انسانیت کا جذبہ کمزور کر دیا۔ اب اسرائیلیوں کو خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ان کا ملک، جو کبھی دنیا بھر میں ہمدردی اور حمایت کا مرکز تھا، آج اپنے ہی دوستوں کے صبر کی آخری حد کیوں آزما رہا ہے؟ہر بحران کے اندر ایک موقع چھپا ہوتا ہے۔ اسرائیل کے لیے اب یہی لمحہ ہے کہ وہ طے کرےکہ کیا وہ ہمیشہ تلوار کے سائے میں جینا چاہتا ہے جیسا کہ نیتن یاہو اور اس کے مذہبی اتحادی چاہتے ہیں؟ یا وہ امن، مصالحت اور برابری کی بنیاد پر ایک نئے راستے کا آغاز کر سکتا ہے؟ فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنا ان پر کوئی احسان نہیں بلکہ خود اسرائیل کے مفاد میں ہے۔ ایک صدی پر محیط خونریزی کا خاتمہ دونوں اقوام کو یہ موقع دے گا کہ وہ اپنی شناخت اور اپنی منزل خود طے کریں وہ سوالات جنہیں اب تک صرف جنگ اور انتقام نے متعین کر رکھا تھا۔تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر ان قوموں کو دوبارہ آزماتی ہے جو اپنے ماضی سے سبق نہیں لیتیں۔ اسرائیل آج اسی موڑ پر کھڑا ہےجہاں طاقت کے نشے نے اخلاقی دیوالیہ پن کو جنم دیا ہے مگر ہر قوم میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب وہ خود سے سوال کرتی ہےکہ ہم کون ہیں اور ہمیں کیا بننا ہے؟ شاید اب یہی لمحہ اسرائیل کے لیے آ چکا ہے۔ امن، انصاف اور سچائی وہ ستون ہیں جن پر مستقبل کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہےاور اگر یہ ستون نہ بنے تو جنگوں کی یہ سرزمین کبھی گھر نہیں بن پائے گی۔