جنوبی ایشیا کی سیاست میں کبھی کبھار ایسے موڑ آتے ہیں جو دہائیوں پرانے تعصبات کو ایک لمحے میں دھندلا دیتے ہیں۔ آج ہم بالکل ایسے ہی ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں۔ پندرہ برس تک شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے پاکستان کو اپنی اندرونی سیاست کا سب سے آسان اور مستقل ہدف بنائے رکھا۔ 1971ء کے سانحہ کو ہر الیکشن کا مرکزی نعرہ بنا دیا گیا، جنگی جرائم کے ٹریبونل کو سیاسی انتقام کا آلہ قرار دے دیا گیا اور بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کو عملاً بھارت کے اسٹریٹجک مفادات کے تابع کر دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو ممالک جو ایک ہی اسلامی تہذیب کے وارث ہیں، جن کی معاشی ضروریات ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور جن کے درمیان جغرافیائی فاصلہ بھی کوئی بڑا نہیں، وہ ایک دوسرے سے اتنا دور ہو گئے کہ سالانہ تجارت چند سو ملین ڈالر تک سمٹ کر رہ گئی، براہ راست پروازیں معطل ہوئیں، دفاعی رابطے ختم ہوئے اور عوامی سطح پر رابطے تقریباً ناممکن ہو کر رہ گئے۔اگست 2024ء نے یہ سب کچھ پلٹ کر رکھ دیا۔ طلبہ کی تحریک نے نہ صرف ایک آمرانہ نظام کا تختہ الٹ دیا بلکہ اس کے ساتھ وہ پندرہ سالہ پاکستان مخالف بیانیہ بھی دفن ہو گیا جس نے بنگلہ دیش کی نوجوان نسل کو پاکستان کے خلاف نفرت سکھائی تھی۔ ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی جو لائن کھینچی، وہ نہ صرف واضح تھی بلکہ خطے کی سیاست کے لیے ایک زلزلہ ثابت ہوئی کہ بنگلہ دیش اب کسی ایک ملک کی سیٹلائٹ اسٹیٹ یا توسیعی بازو نہیں بنے گا۔ اس ایک جملے نے دہلی سے ڈھاکہ تک کے اسٹریٹجک کھیل کے تختے کو ہلا کر رکھ دیا۔اس کے فوراً بعد جو عملی اقدامات اٹھائے گئے وہ محض سفارتی اشاروں سے کہیں آگے تھے۔ پچاس سال سے زائد عرصے سے قید پاکستانی فوجیوں کی رہائی اور ان کی عزت کے ساتھ واپسی، اسلام آباد۔ڈھاکہ براہ راست پروازوں کی بحالی پر فوری اتفاق، دفاعی رابطوں میں اچانک گرم جوشی، تجارت بحال کرنے کے لیے مشترکہ کمیشن کا قیام اور سب سے اہم، سرکاری بیانات میں 1971ء کو ماضی کا باب قرار دے کر آگے بڑھنے کا واضح اعلان کیا گیا۔ یہ سب بتاتے ہیں کہ ڈھاکہ اب ایک متوازن، خودمختار اور مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی کا راستہ اختیار کر چکا ہے۔یہ تبدیلی محض سیاسی نہیں، بنگلہ دیش کے اندرونی معاشی اور سماجی دباؤ کا بھی نتیجہ ہے۔ شیخ حسینہ کے دور میں معیشت بھارت پر اس قدر انحصار کر گئی تھی کہ بجلی کی ترسیل، گیس کی سپلائی، انٹرنیٹ بینڈوتھ، حتیٰ کہ روزمرہ کی اشیائے خوردنوش تک بھارتی مرضی کے تابع ہو گئی تھیں۔ جب بھارت چاہتا نل کھول دیتااور جب چاہتا بند کر دیتا۔ عوام اس یک طرفہ تسلط سے تنگ آچکے تھے۔ اب نئی قیادت نے چین، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ صرف سفارتی توازن نہیں بلکہ معاشی خودمختاری کی طرف پہلا مضبوط اور ٹھوس قدم ہے۔پاکستان کے لیے یہ موقع صدی کا سنہری موقع ہے۔ ہمارے پاس وہ تمام وسائل اور مصنوعات ہیں جو بنگلہ دیش کی موجودہ ضروریات سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔ بنگلہ دیش دنیا کی سب سے بڑی شپ بریکنگ انڈسٹری کا مرکز ہے۔ پاکستان کے پاس متروک جہازوں کی بڑی تعداد موجود ہےجو چٹاگانگ کے ساحل پر اربوں روپے کما سکتے ہیں۔ ہمارا اعلیٰ کوالٹی کپاس، سیمنٹ، ادویات، چمڑا، سرجیکل آلات اور ٹیکسٹائل مشینری ڈھاکہ کی صنعتوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کے تیار شدہ ملبوسات، جُوٹ کی مصنوعات، منجمد مچھلی، چمڑے کی تیار شدہ اشیاء اور فارماسیوٹیکل مصنوعات پاکستان کے لیے سستے اور معیاری متبادل ہو سکتے ہیں۔ اگر صرف رسمی اور غیر رسمی رکاوٹیں ہٹا دی جائیں تو چند سالوں میں دوطرفہ تجارت پانچ ارب ڈالر سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔ دفاعی تعاون کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی فوج کو جدید تربیت، ہلکا اسلحہ اور بحری سازوسامان کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت اس خلا کو بآسانی پر کر سکتی ہے اور اس کے بدلے ہمیں ایک قابلِ اعتماد مشرقی پارٹنر مل سکتا ہے جو بھارت کے دباؤ کو متوازن کرنے میں معاون ثابت ہو گا، مگر سب سے اہم اور نازک کام عوامی رابطوں کی بحالی ہے۔ پندرہ سال میں جو نفرت کا بیج بویا گیا اسے مٹانے کے لیے ثقافتی، تعلیمی اور صحافتی سطح پر بھرپور کوششیں درکار ہیں۔ طلبہ کے وفود کا تبادلہ، کرکٹ سیریز کی بحالی، موسیقی اور فلم کے مشترکہ پروگرام، صحافیوں اور ادیبوں کی باہمی ملاقاتیں، مشترکہ ٹی وی چینلز اور ویب سیریز، یہ چھوٹے لیکن انتہائی موثر قدم ہیں جو دیواریں گرا سکتے ہیں۔بھارت کے لیے پیغام بالکل واضح ہے۔ خطے میں یک قطبی تسلط اب قبول نہیں کیا جائے گا۔ بنگلہ دیش نے جو خودمختار راستہ اختیار کیا ہے وہ نیپال، مالدیپ، سری لنکا اور حتیٰ کہ بھوٹان کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ اگر نئی دہلی نے حکمت سے کام لیا تو وہ اب بھی ڈھاکہ کا اہم شراکت دار رہ سکتا ہے، لیکن اگر پرانی روش جاری رکھی تو دروازے دوسروں کے لیے کھل جائیں گے۔آج پاکستان اور بنگلہ دیش ایک نئے، امید بھرے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ محض دو ممالک کی دوستی کی بحالی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے ایک زیادہ متوازن، منصفانہ اور پائیدار ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو خلوص، سنجیدگی اور دور اندیشی سے استعمال کیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے خطے میں سانس لیں گی جہاں 1971ء کا درد واقعی تاریخ کے اوراق تک محدود ہو چکا ہو گا اور مشترکہ خوشحالی، امن اور ترقی کی روشنیاں چاروں طرف پھیل رہی ہوں گی۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہےکہ ہم اس نئی جہت کو مستقل امن اور ترقی کا راستہ بنائیں گے یا پھر ماضی کے تلخ جھروکوں میں جھانکنے کا عمل جاری رکھیں گے۔ تاریخ ہم دونوں کو بہت قریب سے دیکھ رہی ہے اور تاریخ بےرحم ہوتی ہے۔