گزشتہ چند برسوں میں خطے کی سیاست جس تیزی سے بدلی ہے، اس نے پرانے اتحادوں، سفارتی ترجیحات اور سلامتی کے تصورات کو بھی ازسرِنو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عالمی سیاست کے بدلتے توازن، علاقائی تنازعات اور طاقت کے نئے مراکز نے اس پورے خطے کو ایک غیر معمولی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ غزہ کی حالیہ جنگ نے نہ صرف ایک سنگین انسانی المیے کو جنم دیا بلکہ اس کے اثرات سفارتی اور تزویراتی سطح پر بھی دور تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی حالیہ تنازع کے علاوہ بھی وقتاًفوقتاً شدت اختیار کرتی رہی ہےلہذا خلیجی ریاستیں اپنے دفاعی خدشات کے بارے میں پہلے سے زیادہ حساس دکھائی دیتی ہیں اور مختلف ممالک اپنی سلامتی کے لیے نئے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی ترجیحات بھی تبدیل ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں علاقائی ممالک کو اپنے دفاع اور استحکام کے لیے زیادہ خود انحصاری کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔کئی دہائیوں تک یہ تصور غالب رہا کہ علاقائی سلامتی کا بنیادی بوجھ بڑی عالمی طاقتیں اٹھاتی رہیں گی مگر اب حالات اس سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کی توجہ بیک وقت یوکرین، ایشیا اور دیگر عالمی معاملات بالخصوص ایران کی طرف تقسیم ہو چکی ہے جبکہ یورپی ممالک بھی اپنے داخلی اور علاقائی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں خطے کے ممالک کے سامنے یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اپنی اجتماعی سلامتی اور سیاسی استحکام کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔اسی پس منظر میں قطر کے سابق وزیرِاعظم شیخ حامد بن جاسم بن جابر آل ثانی کی ایک اہم تجویز سامنے آئی ہے جس نے سفارتی اور پالیسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
شیخ حامد بن جاسم کا شمار خلیجی سیاست کے تجربہ کار رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ان کی رائے کو خطے کے معاملات میں خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں ایک ایسے اسٹریٹجک دفاعی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے جس میں سعودی عرب، مصر، ترکی اور پاکستان جیسے بڑے اور بااثر ممالک شامل ہوں۔ ان کے نزدیک بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک محض انفرادی حکمت عملی پر اکتفا کرنے کے بجائے اجتماعی قوت کو منظم انداز میں بروئے کار لائیں۔ اپنے بیان میں شیخ حامد بن جاسم نے واضح کیا کہ ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ اس سمت میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس تعاون میں ترکی بھی شامل ہو جاتا ہے تو یہ ایک ایسا فریم ورک بن سکتا ہے جو وسیع تر دفاعی اور سیاسی تعاون کی بنیاد رکھے گا۔ ان کا کہناہے کہ اس نوعیت کا اتحاد نہ صرف استحکام کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ عرب اور مسلم دنیا کے درمیان تعاون کی ایک نئی شکل بھی پیدا کر سکتا ہے۔ شیخ جاسم کے مطابق سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور مصر پر مشتمل اتحاد کا قیام ایک دیرینہ ضرورت ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ عالمی سیاست میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں خصوصاً مغربی اتحادی ممالک اور امریکہ کی پالیسیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ، اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ علاقائی طاقتیں اپنی اجتماعی قوت کو منظم کریں۔ اگر بڑے مسلم ممالک مشترکہ دفاعی حکمت عملی اختیار کریں تو نہ صرف اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے خلیجی ریاستوں کے حوالے سے بھی ایک اہم نکتہ اٹھایاہے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک جغرافیائی اور آبادی کے اعتبار سے نسبتاً چھوٹے ہیں اس لیے ان کے لیے اجتماعی سلامتی کے انتظامات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر وہ کسی بڑے اور منظم دفاعی ڈھانچے کا حصہ بن جائیں تو ان کے تحفظ کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں اور استحکام کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ اس تجویز کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ شیخ حامد بن جاسم نے اسے کسی خاص ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہاہے کہ ایران کو ایک بڑا مسلم ملک سمجھتے ہوئے اس مجوزہ اتحاد کو اس کے خلاف محاذ آرائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق علاقائی سیاست میں توازن اور حقیقت پسندی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ کوئی بھی نیا فریم ورک ایسے اصولوں پر قائم کیا جائے جو تنازع کو بڑھانے کے بجائے استحکام کو فروغ دیں۔ انہوں نے ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیاہے، خاص طور پر 1990 کے اعلامیہ دمشق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ جلد بازی میں بنائے گئے اتحاد اکثر دیرپا ثابت نہیں ہوتے۔ عراق کے کویت پر حملے کے بعد جاری ہونے والا وہ اعلامیہ وقتی سیاسی ضرورت کا نتیجہ تھا مگر وہ ایک مضبوط اور مستقل دفاعی ڈھانچے میں تبدیل نہ ہو سکا۔ اسی لیے ان کے نزدیک کسی بھی نئے اتحاد کو واضح اصولوں، ٹھوس منصوبہ بندی اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم کرنا ضروری ہے۔ شیخ جاسم کے خیال میں اگر ایسا اتحاد تشکیل پاتا ہے تو اسے صرف عسکری تعاون تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس میں معاشی اور سیاسی پہلوؤں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ مشترکہ اقتصادی منصوبے ، دفاعی صنعت میں تعاون، سفارتی ہم آہنگی اور سلامتی کے معاملات میں مشترکہ حکمت عملی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی اتحاد کو پائیدار بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ ممالک اپنی معاشی اور سیاسی طاقت کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کریں تو ایک ایسا علاقائی بلاک وجود میں آ سکتا ہے جو عالمی سیاست میں بھی مؤثر آواز بن سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ تصور مکمل طور پر غیر حقیقی بھی نہیں۔ سعودی عرب، ترکی، مصر اور پاکستان چاروں ایسے ممالک ہیں جن کی فوجی صلاحیت، آبادی، جغرافیائی اہمیت اور سفارتی اثر و رسوخ انہیں مسلم دنیا میں نمایاں مقام دیتے ہیں۔ اگر یہ ممالک کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر ہم آہنگی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کے اثرات نہ صرف سلامتی کے میدان میں بلکہ معیشت، تجارت اور سفارت کاری میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم اس راستے میں مشکلات بھی کم نہیں ہوں گی۔ مختلف ممالک کی خارجہ پالیسی ترجیحات، باہمی سیاسی اختلافات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ان کے تعلقات کا پیچیدہ نظام ایسے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے لہذا ایسے کسی بھی اقدام کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، اعتماد سازی اور مسلسل سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
یہ بھی ایک واضح امر ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں علاقائی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے علاقائی اتحاد ابھر رہے ہیں جو مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے قائم کیےجا رہے ہیں۔ اگر مسلم دنیا کے بڑے ممالک بھی اسی طرز کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے داخلی استحکام کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں بھی زیادہ متوازن پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔شیخ حامد بن جاسم کی تجویز اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں سلامتی اور استحکام صرف بیرونی ضمانتوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ علاقائی طاقتوں کو خود بھی ایسے ڈھانچے قائم کرنے ہوں گے جو مشترکہ مفادات کی حفاظت کر سکیں۔ اگر اس تصور کو سنجیدگی کے ساتھ زیرِ غور لایا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ مستقبل میں یہی خیال ایک ایسے تعاون کی بنیاد بن جائے جو نہ صرف عرب دنیا بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک نئی سمت متعین کرے۔