Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فالس فلیگ کا پرانا کھیل اور نیا سکرپٹ

پاکستان ایک ایسے خطے میں سانس لے رہا ہے جہاں امن کی خواہش کرنا بعض اوقات سادہ لوحی محسوس ہونے لگتا ہے۔ اصول تو یہ کہتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات ایسے ہوں جو داخلی استحکام کا سہارا بنیںمگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مغرب میں ایران مسلسل کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں یا تو سنجیدہ نہیں یا پھر بے بس ہے اور مشرق میں بھار ت ہے ،جہاں حکمتِ عملی کم اور ہٹ دھرمی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس خطے میں امن ایک خواب نہیں بلکہ ایک مذاق بن چکا ہے۔بھارت کی تاریخ کو جذبات سے ذرا ہٹ کر دیکھا جائے تو ایک عجیب سی مماثلت بار بار سامنے آتی ہے یعنی ہر بحران کے پیچھے ایک تیار شدہ کہانی، ہر سانحے کے بعد ایک فوری ملزم اور ہرالزام کا رخ لازماً پاکستان کی طرف۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کا باب ہو،ڈھاکہ یونیورسٹی میں خونریزی کے واقعات ہوں یا پھر گولڈن ٹیمپل پر فوجی چڑھائی یہ سب محض حادثات نہیں بلکہ ایک ایسے بیانیے کی کڑیاں محسوس ہوتے ہیں جس میں سچ کو پس منظر میں دھکیل کر ایک مخصوص تصویر تراشی جاتی ہے۔ ناقدین برسوں سے کہتے آ رہے ہیں کہ بھارت پہلے آگ کو ہوا دیتا ہے پھر خود ہی فائر بریگیڈ بن کر نمودار ہوتا ہے اور آخر میں تماشائیوں کو اپنی مرضی کی کہانی سنا دیتا ہے۔ یہ بات بھی کافی مضحکہ خیز ہے کہ ہر بار اس سکرپٹ میں ولن تو بدل جاتا ہے مگر ہیرو وہی رہتا ہے۔
آج کا بھارت اسی پرانے کھیل کو نئے انداز میں دہرانے پر تُلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ نریندر مودی کی سیاست میں پاکستان دشمنی محض ایک عنصر نہیں بلکہ بنیادی ستون بن چکی ہے۔ ہندوتوا کا بیانیہ اس قدر غالب آ چکا ہے کہ حقیقت کو اس کے تابع کر دیا گیا ہے۔ عسکری میدان میں شرمناک ہزیمتوں کے باوجود بھارت کے جنگی جنون میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے، گویا شکست بھی ایک نیا بیانیہ گھڑنے کا ذریعہ بن چکی ہو۔ ایسے ماحول میں ایک اور ممکنہ فالس فلیگ آپریشن کی اطلاعات کا سامنے آنا حیران کن نہیں بلکہ ایک تسلسل کا منطقی نتیجہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بےگناہ پاکستانی خصوصاً کشمیری شہری جو نادانستہ طور پر سرحد پار کر گئے انہیں ایک خطرناک کھیل کا حصہ بنایاجا رہا ہے۔ مختلف جیلوں سے ایسے افراد کو نکال کر اکٹھا کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس بار بھی اسٹیج سج چکا ہے، کردار منتخب ہو چکے ہیں اور صرف پردہ اٹھنے کی دیر ہے۔ بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کی مبینہ کمیونی کیشن سے ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ ایک بڑا واقعہ خود تخلیق کر کے اس کا الزام پہلے سے قید افراد پر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یوں ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی یہ حماقت انگیز سوچ،درحقیقت اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے، عالمی ہمدردی سمیٹنے اور پاکستان کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ کون سا انصاف ہے جہاں ملزم پہلے طے کر لیا جاتا ہے اور جرم بعد میں تخلیق کیا جاتا ہے؟بھارت کے اندرونی حالات اس بےچینی کی اصل وجہ کو بےنقاب کرتے ہیں۔ سفارتی سطح پر دباؤ، میڈیا میں بڑھتی ہوئی تنقید اورخود بھارتی عوام کے سوالات، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناچکے ہیں جہاں مودی حکومت کو کسی ’’بڑے واقعے‘‘ کی اشد ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ ایسے میں فالس فلیگ آپریشن کوئی ہنگامی تدبیر نہیں بلکہ ایک آزمودہ نسخہ بن کر سامنے آتا ہے۔تاہم دنیا اب وہ نہیں رہی جو ہر کہانی کو بغیر سوال تسلیم کر لے۔ اطلاعات کا بہاؤ اب یکطرفہ نہیں رہا اور ہر دعوے کو پرکھنے کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ اگر بھارت ایک بار پھر اسی پرانے کھیل کو دہرانےکا خواہشمند ہے تو عین ممکن ہے کہ اس بار پردہ اٹھنے میں زیادہ دیر نہ لگے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو کہانیاں نہیں، سچ سامنے آتا ہے چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے اہم چیز جذباتی ردعمل نہیں بلکہ پیشگی حکمت عملی ہے۔ ضروری ہے کہ ہر ممکن سفارتی فورم پراس خطرے کو اجاگر کیا جائے، شواہد کو منظم انداز میں پیش کیا جائے اور دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ خطے کا امن محض سرحدی تنازعات سے نہیں بلکہ ایسے مصنوعی بحرانوں سے بھی خطرے میں ہے۔ داخلی سطح پر بھی یکجہتی اور شعور ناگزیر ہےکیونکہ جدید دور میں جنگیں بیانیوں سے لڑی جارہی ہیں۔ اگر دشمن ایک کہانی گھڑتا ہے تو اس کا توڑ صرف سچ کی بروقت اور مؤثر پیشکش سے ہی ممکن ہے۔ بات وہیں آ کر ٹھہرتی ہے کہ امن کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل ہے مگر جب کوئی ریاست بار بار آگ سے کھیلنے کی عادی ہو جائے تو پھر صرف اپنے ہی ہاتھ نہیں جلتے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فالس فلیگ جیسے کھیل وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں مگر طویل مدت میں یہ خود کے لیے ایک ایسا جال بن جاتے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ عالمی سیاست میں بیانیے کی جنگ اب روایتی جنگوں سے زیادہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے والے یہ کھیل اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہے۔ بیانیے گھڑنے، الزام تراشی کرنے اور مصنوعی بحران پیدا کرنے کی اس روش سےسچ کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کون کیا کہہ رہا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کون کیا کر رہا ہےاور اس کا حساب وقت خود لےلیتا ہےاور اگر اس سب کے باوجود بھی بھارت کے اندر کہیں یہ خواہش بدستور انگڑائی لے رہی ہے کہ ایک بار پھر میدان سجایا جائے، ایک بار پھر فضاؤں میں غرور کے غبار چھوڑے جائیں اور ایک بار پھر طاقت آزمائی کی جائےتو پھر یاد رکھنا چاہیے کہ ماضی زیادہ پرانا نہیں ہوا۔ پاکستان کی فضائیہ اور افواج کے ساتھ ٹکر لینے کا نتیجہ دنیا دیکھ چکی ہے۔ اگر پھر بھی شوق باقی ہے تو شوق پورا کرنے میں کیا حرج ہےمگر اس بار شاید کہانی لکھنے کا اختیار بھی ہاتھ سے نکل جائے۔

یہ بھی پڑھیں